
سید عاطف ندیم-کنٹری ہیڈ پاکستان چپٹر،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے 31 مارچ 2026 کو “پاکستان کی توانائی سلامتی 2026: شمسی توانائی کی افادیت اور منتقلی کا جائزہ” کے عنوان سے ایک اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثے کا انعقاد کیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ اس علمی نشست کا مقصد پاکستان میں توانائی کے مستقبل، خصوصاً شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے کردار، کا جامع جائزہ لینا تھا۔
تقریب کا آغاز کَیس لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ مہیرہ منیر کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جنہوں نے ادارے کے تحقیقی اور علمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں اہم موضوعات پر مکالمے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
پاکستان میں “خاموش توانائی انقلاب”
مرکزی مقرر ڈاکٹر نوید ارشد، ڈائریکٹر انرجی انسٹی ٹیوٹ لمز، نے اپنے خطاب میں پاکستان میں جاری “خاموش توانائی انقلاب” پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں مجموعی بجلی کا تقریباً 25 فیصد شمسی ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دیگر ممالک کے برعکس، جہاں شمسی توانائی کے بڑے منصوبے حکومتی یا نجی سطح پر لگائے جاتے ہیں، پاکستان میں اس کا فروغ زیادہ تر صارفین کی سطح پر ہوا ہے، خصوصاً گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب کے ذریعے۔
ڈاکٹر ارشد کے مطابق اس رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں عوامی شعور میں اضافہ، موزوں جغرافیائی حالات، ہموار چھتیں، زیادہ شمسی شعاعی شدت، اور نیٹ میٹرنگ جیسی پالیسیوں کی کشش شامل ہے۔
توانائی سلامتی کے لیے نئی حکمت عملی
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں برقی کاری (Electrification) کو فروغ دے کر اپنی توانائی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر جدید اور تخلیقی حل اپنانا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر گھر کو ایک “چھوٹا توانائی مرکز” بنایا جا سکتا ہے، جہاں نہ صرف بجلی پیدا کی جائے بلکہ گھریلو ضروریات بھی مکمل طور پر برقی نظام پر منتقل کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیٹری ویلیو چین کی ترقی، نئی بیٹری ٹیکنالوجیز، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، اور موبائل مائنز جیسے جدید تصورات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ اقدامات مربوط انداز میں نافذ کیے جائیں تو پاکستان عالمی جنوب میں پہلی مکمل برقی ریاست بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شمسی توانائی کا بڑھتا ہوا رجحان
تقریب کے اختتامی کلمات میں ایئر مارشل عاصم سلیمان، صدر کَیس لاہور، نے کہا کہ ملک میں شمسی توانائی کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ لاگت میں کمی اور گھریلو و کاروباری سطح پر بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شمسی توانائی کو قومی گرڈ میں مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (Storage Systems)، سمارٹ گرڈز اور پیش گوئی کے جدید نظام میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق مؤثر گورننس، شفاف پالیسی سازی اور مضبوط مالیاتی ڈھانچہ اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آج کیے گئے فیصلے آئندہ دہائیوں میں پاکستان کی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کا تعین کریں گے۔
سوال و جواب اور اہم مباحث
تقریب کے اختتام پر ایک بھرپور سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے توانائی اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق، شمسی پینلز کے ماحولیاتی اثرات، اور توانائی کی معاشیات جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔
شرکاء نے اس علمی نشست کو نہایت بامعنی اور فکر انگیز قرار دیتے ہوئے سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی کاوشوں کو سراہا، جو ملک میں پالیسی مباحثے اور تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
نتیجہ
یہ راؤنڈ ٹیبل مباحثہ اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے، جہاں شمسی توانائی نہ صرف ایک متبادل بلکہ مستقبل کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق درست پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پا کر ایک مستحکم اور خود کفیل مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔



