
بھارت: نائٹ لائف میں روحانیت کے رنگ، ’بھجن کلبنگ‘ کا رجحان
جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں منعقد کیے گئے ایک کنسرٹ میں سیاستدانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی
ایجنسیاں
گٹار کی تیز دھنیں، ڈرمز کا شور، اسٹیج پر جھلملاتی روشنیاں اور انہی کے درمیان روایتی ہندو بھجن گانے کا ایک نیا انداز۔ یہ امتزاج اب نوجوانوں کے لیے ایک روحانت سے بھرپور نئی تفریح بن چکا ہے۔ اس رجحان کو لوگ "بھجن کلبنگ” کا نام دے رہے ہیں۔
بھارتی شہر نوئیڈا کے ایک کیفے میں ہونے والی ایسی ہی ایک محفل میں جب بھگوان کرشن کے بھجن جدید موسیقی کے ساتھ گونجے تو وہاں شرکا میں 30 سالہ آئی ٹی پروفیشنل ہمانشو گپتا بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا، "یہ سننے کے بعد میں نے خود کو توانائی سے بھرپور اور زندہ محسوس کیا۔”
ہندو مذہب میں بھجن گانے کی روایت قدیم ہے۔ تاہم اب نوجوان اسے ایک نئی طرز پر پیش کر کے روحانیت سے اپنے رشتے کو ایک نیا رنگ دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ جدید طرز عام زندگی اور مذہب کا منفرد امتزاج ہے۔ رواں سال صرف مارچ میں کم از کم پانچ ایسی ہی تقاریب منعقد کی گئیں، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
ایک ایسی ہی محفل میں موجود 31 سالہ نیوکلیئر فزسسٹ ایشوریا گپتا نے کہا، "یہ نوجوانوں کو عقیدت اور روحانیت سے جڑنے کا ایک موقع دیتا ہے۔ یہاں آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔” ستائیس سالہ فٹنس انفلوئنسر کمار شبھم نے بھی اس تجربے کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا، "یہ ایک پرسکون احساس ہے اور ایک بھارتی ہونے کے ناطے یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے۔”
’شراب نہیں، روحانیت کا نشہ‘
بھارت میں مودی حکومت کی سخت گیر مذہب پسندانہ پالیسیوں کے سبب عوامی سطح پر مذہبی تقریبات کے انعقاد کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے خطاب میں بھجنوں کو بھارتی ثقافت کی "روح” قرار دیتے ہوئے اس نئے انداز کی تعریف کی تھی۔ اپنے ریڈیو پروگرام میں انہوں نے کہا کہ بھجن کلبنگ کے رجحان نے "نوجوانوں کے طرزِ زندگی میں عقیدت کی روح پھونک دی ہے۔”

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں منعقد کیے گئے ایک کنسرٹ میں سیاستدانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب کا آغاز ریاستی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کیا، جو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، "اگلی نسل کو متحد کرنے کے لیے روحانیت کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان روحانیت کے نشے میں ہوں شراب کے نہیں۔”
دنیا بھر میں پھیلتا رجحان
یہ تحریک اب سرحدیں پار کر چکی ہے۔ نیپال میں رواں سال فروری میں ہونے والی ایک بڑی تقریب میں تین ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ تقریب کے شریک بانی ابھیشیک ادھیکاری کے مطابق، "موسیقی کی روح وہی رہتی ہے، بس ہم اسے تھوڑے جدید انداز میں پیش کرتے ہیں۔”
بھارت میں فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے رتن دیپ لال نے اس رجحان کا موازنہ بین الاقوامی کنسرٹس سے کرتے ہوئے کہا، "میں شکیرا جیسی گلوکارہ کے کنسرٹس میں جا چکا ہوں لیکن بھارت میں اس طرح کی کوشش نئی نسل کو ساتھ جوڑے رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔”



