
وزیر داخلہ محسن نقوی کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، غیر قانونی شہریت اور ڈیٹا اصلاحات پر سخت ہدایات
قومی سلامتی اور ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نادرا کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سید عاطف ندیم-کنٹری ہیڈپاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
محسن نقوی، وفاقی وزیر داخلہ، نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ادارے کی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر نے وزیر داخلہ کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، اصلاحاتی اقدامات اور جدید سروسز کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ نے نادرا کی کارکردگی اور عوام کو فراہم کی جانے والی مؤثر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ادارے نے نمایاں بہتری دکھائی ہے۔
غیر قانونی غیر ملکیوں اور شہریت کے خلاف اقدامات
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے عمل میں نادرا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شہریت حاصل کرنے والوں کی فوری شناخت کی جائے اور ان کا ریکارڈ نیشنل ڈیٹا بیس سے خارج کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نادرا کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
جدید سہولیات اور انفراسٹرکچر کی بہتری
وزیر داخلہ نے عوامی سہولت کے پیش نظر نادرا کو مزید جدید خدمات متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خاص طور پر بڑے شہروں میں نادرا کے دفاتر کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرائے کی عمارتوں کے بجائے ادارے کو اپنی زمین خرید کر اسٹیٹ آف دی آرٹ دفاتر قائم کرنے چاہئیں۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے متعلقہ حکام سے ایک جامع ماسٹر پلان طلب کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وزارت داخلہ اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
ڈیجیٹل سسٹمز اور بائیومیٹرک اصلاحات
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نادرا شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے، جن میں بائیومیٹرک تصدیق کے جدید نظام کا نفاذ بھی شامل ہے۔ خاص طور پر چہرے کی شناخت (Facial Recognition) کے ذریعے تصدیق کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے دیگر اداروں کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ڈیٹا کی صفائی اور سیکیورٹی اقدامات
نادرا حکام نے بتایا کہ ادارے نے لاکھوں فوت شدہ افراد کے شناختی کارڈز منسوخ کر دیے ہیں تاکہ ڈیٹا بیس کو درست اور محفوظ بنایا جا سکے۔ مزید برآں شناختی کارڈ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے تاکہ عوام کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تعاون سے فوت شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سمز کو بھی بلاک کیا جا رہا ہے، جو کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اقدام ہے۔
اعلیٰ حکام کی شرکت
اجلاس میں ڈاکٹر عثمان انور، ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی سمیت نادرا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف امور پر بریفنگ دی۔
نتیجہ
وزیر داخلہ کے اس دورے کو نادرا میں جاری اصلاحاتی عمل کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے بلکہ قومی ڈیٹا بیس کو محفوظ، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں گورننس اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔



