سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

ناسا کا آرٹیمس II مشن لانچ کے قریب، 50 برس بعد چاند کے گرد پہلا انسانی سفر متوقع

تمام لانچ کوششیں لانچ پیڈ 39B سے کی جائیں گی، جہاں دنیا کے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہونے والا اسپیس لانچ سسٹم (SLS) تیار کھڑا ہے۔

مدثر احمد-امریکا،وائس آف جرمنی اردو نیوز

فلوریڈا: ناسا نے اپنے اہم ترین خلائی مشن Artemis II کے لیے الٹی گنتی کا آغاز کر دیا ہے، جو 50 سال سے زائد عرصے میں پہلا انسانی مشن ہوگا جو چاند کے گرد سفر کرے گا۔ یہ تاریخی پرواز کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہونے والی ہے، تاہم موسم اور تکنیکی عوامل اب بھی لانچ کے شیڈول کو متاثر کر سکتے ہیں۔

لانچ کی تیاری اور شیڈول

ناسا کے مطابق آن سائٹ الٹی گنتی کی گھڑی 30 مارچ کو شام 4:44 بجے (EDT) شروع ہوئی، جبکہ ابتدائی طور پر 1 اپریل کو شام 6:24 بجے لانچ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اگر کسی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے تو 6 اپریل تک متبادل لانچ ونڈوز دستیاب ہیں، اور ضرورت پڑنے پر اس کے بعد بھی تاریخوں میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

تمام لانچ کوششیں لانچ پیڈ 39B سے کی جائیں گی، جہاں دنیا کے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہونے والا اسپیس لانچ سسٹم (SLS) تیار کھڑا ہے۔

مشن اور عملہ

اس مشن میں چار خلاباز شامل ہیں:

  • ریڈ وائزمین (کمانڈر)
  • وکٹر گلوور (پائلٹ)
  • کرسٹینا کوچ (مشن اسپیشلسٹ)
  • جیریمی ہینسن (کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلاباز)

یہ خلاباز Orion spacecraft میں سوار ہو کر تقریباً 10 دن کے سفر پر چاند کے گرد جائیں گے اور واپس زمین پر آئیں گے۔

تکنیکی چیلنجز اور تاخیر

آرٹیمس II کی تیاری کے دوران متعدد تکنیکی مسائل سامنے آئے، جن کی وجہ سے لانچ میں کئی بار تاخیر ہوئی۔
ان میں سب سے اہم مسئلہ راکٹ کے اوپری مرحلے میں ہیلیم کے بہاؤ میں خرابی تھا، جو ایندھن کے دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

اس مسئلے کے بعد اسپیس لانچ سسٹم کو واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ منتقل کیا گیا، جہاں انجینئرز نے تفصیلی معائنہ، پرزہ جات کی تبدیلی اور متعدد ٹیسٹ مکمل کیے۔
اس سے قبل ہائیڈروجن لیک جیسے مسائل بھی سامنے آئے تھے، جو اس پیچیدہ مشن کی تیاری کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ناسا کا مؤقف ہے کہ زمین پر مسائل کو حل کرنا زیادہ محفوظ ہے کیونکہ گہرے خلا میں کسی خرابی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

مشن کی اہمیت

اگرچہ Artemis II چاند پر لینڈنگ مشن نہیں ہے، تاہم یہ مستقبل کے قمری مشنز، خصوصاً انسانی لینڈنگ، کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
یہ مشن تقریباً 250,000 میل دور چاند کے گرد “فری ریٹرن ٹریک” پر سفر کرے گا، جس کے ذریعے خلائی جہاز کے اہم نظاموں کی جانچ کی جائے گی، جن میں:

  • لائف سپورٹ سسٹم
  • نیویگیشن
  • کمیونیکیشن
  • ڈیپ اسپیس آپریشنز

شامل ہیں۔

اہم تجربات اور مشاہدات

مشن کے دوران خلاباز تابکاری کی سطح کی نگرانی کریں گے، خلائی جہاز کے نظاموں کا جائزہ لیں گے اور چاند کی سطح کے ان حصوں کا مشاہدہ کریں گے جو پہلے انسانی آنکھ سے براہ راست نہیں دیکھے گئے۔

لانچ کے فوراً بعد ایک اہم مرحلہ ہوگا جس میں Orion خلائی جہاز اپنے اوپری مرحلے کے ساتھ قریبی آپریشنز انجام دے گا، جس کا مقصد دستی کنٹرول اور خلائی جہاز کی ہینڈلنگ کو جانچنا ہے۔

خلابازوں کا ردعمل

قرنطینہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرسٹینا کوچ نے کہا کہ:
“یہاں کیپ میں اب سب کچھ حقیقت کے قریب محسوس ہونے لگا ہے، خاص طور پر جب خاندان کے افراد پہنچ رہے ہیں اور الٹی گنتی کی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔”

جبکہ ریڈ وائزمین نے مشن کی تجرباتی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پرواز مستقبل کے تمام انسانی خلائی مشنز کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔

براہ راست نشریات

ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس تاریخی لانچ کو اس کی اسٹریمنگ سروس NASA+ پر براہ راست نشر کیا جائے گا، جو ویب براؤزر اور موبائل ایپ کے ذریعے مفت دستیاب ہے۔
اس کے علاوہ یوٹیوب اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز پر بھی لائیو کوریج فراہم کی جائے گی۔

براڈکاسٹ کا آغاز یکم اپریل کو صبح سویرے ٹینکنگ آپریشنز کی لائیو کوریج سے ہوگا، جبکہ مکمل نشریات رات 12:50 (EDT) سے شروع ہوں گی۔

نتیجہ

آرٹیمس II مشن نہ صرف تکنیکی اعتبار سے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ یہ انسان کی خلا میں طویل مدتی موجودگی کے خواب کو حقیقت بنانے کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہے۔
اگر یہ مشن کامیاب رہا تو یہ مستقبل میں چاند پر انسانی واپسی اور مریخ جیسے دور دراز اہداف کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button