
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں، آبادی میں تیز رفتار اضافے اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پانی کے شدید ہوتے ہوئے بحران کا سامنا ہے، ماہرین نے اس ہفتے اسلام آباد میں ایک قومی کانفرنس میں اس بات سے خبردار کیا اور طویل المدت قلت دور کرنے کے لیے فوری اور مربوط کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دستیابی میں کمی، زیرِ زمین پانی کی قلت اور آلودگی کے باعث رسد پر دباؤ بڑھنے سے پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کے شکار ملک کے طور پر درج ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے بارشوں کا تناسب تبدیل ہو گیا ہے اور سیلاب اور خشک سالی سمیت شدید موسمی حالات کی کثرت میں اضافہ ہوا ہے تو حالیہ برسوں میں یہ چیلنج شدت اختیار کر گیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں فریش واٹر پروگرام کے ڈائریکٹر سہیل علی نقوی نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان واٹر سٹیورڈ شپ کانفرنس 2026 میں کہا، "یہ ایک تشویشناک صورتِ حال ہے کیونکہ اگر ہمارے پاس فی کس پانی سالانہ 1,000 کیوبک میٹر سے کم ہے تو پھر ملک واقعی چیلنج کا شکار ہے۔”
تقریب میں بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1956 میں تقریباً 5,600 کیوبک میٹر تھی جو گر کر آج 800 کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قلت کی سطح سے کافی نیچے ہے۔
دو روزہ کانفرنس میں یہی مسئلہ گفتگو پر حاوی رہا جہاں پالیسی ساز، صنعتوں کے رہنما اور ماہرینِ تعلیم حل پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس تقریب کا اہتمام ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے حکومتی اداروں اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے کیا تھا۔
نقوی نے کہا کہ رسائی اور معیار کے مسائل کی وجہ سے بحران رسد میں کمی سے کافی آگے بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا، "پانی درحقیقت اس وقت ہر ایک کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورت ہے لیکن خاص طور پر پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی ہمیں براہِ راست متأثر کر رہی ہے۔ اسی لیے موسمیاتی تبدیلی پانی کی تبدیلی ہے۔”
"کیونکہ پاکستان میں ایک چیلنج پانی کی کمی ہے اور دوسرا پانی کی آلودگی،” انہوں نے مزید کہا۔
شرکاء نے کہا، موسمیاتی جھٹکوں نے ملک میں پانی کے انتظام کو ایک مرکزی قومی چیلنج بنا دیا ہے اور بار بار آنے والے سیلابوں اور بے ترتیب بارشوں نے بہتر منصوبہ بندی اور لچک کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ تنہا بحران سے نمٹ نہیں سکتا۔ اس کی بجائے بہتر طرزِ حکمرانی اور حکومت اور نجی اداروں کی مضبوط شراکت داری کی ضرورت ہے۔



