پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، 13 دہشت گرد ہلاک، سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی نے ملک بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے "آپریشن عزمِ استقامت" کی منظوری دی تھی

سید عاطف ندیم-پاکستان کنٹری ہیڈ پاکستان ،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان کی فوج نے خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں دو الگ الگ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ آپریشنز خیبر اور بنوں کے اضلاع میں کیے گئے، جہاں فوجی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگا کر شدید فائرنگ کے تبادلے میں ان دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ کارروائیاں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد کی گئیں، جو کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت یافتہ اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تنظیم ہے۔

آئی ایس پی آر کا بیان

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، یہ آپریشنز 30 مارچ 2026 کو خیبر پختونخواہ میں دو مختلف مقامات پر کیے گئے، جس میں فوجی اہلکاروں نے اپنے انٹیلی جنس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ آپریشن کے دوران 13 دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع خیبر میں ایک آپریشن کے دوران فوجیوں نے دہشت گردوں کے چھپے ہوئے ٹھکانے کو دریافت کیا اور اس کے بعد شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گرد مارے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دہشت گرد "خوارجوں” کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے، جو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اسی روز، ضلع بنوں میں ایک الگ آپریشن میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس میں فوج نے کامیابی حاصل کی۔ آئی ایس پی آر نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد علاقے میں صفائی کی کارروائیاں جاری رکھی گئیں تاکہ کسی بھی دوسرے دہشت گرد کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحقاق

آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت انسداد دہشت گردی مہم جاری ہے، جس میں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ حکمت عملی "عزمِ استحقاق” پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک متفقہ اور مؤثر حکمت عملی پر عمل کرنا ہے۔

جون 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی نے ملک بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے "آپریشن عزمِ استقامت” کی منظوری دی تھی۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شکست دے کر ملک میں امن قائم کرنا ہے۔ اس حکمت عملی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متنوع محاذوں پر تعاون اور کوششوں کو مربوط کرنا شامل ہے، جس میں سیاسی، سفارتی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو بڑھانا شامل ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی تعریف اور حکومتی عزم

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخواہ میں دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائیوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی کامیابی پر ان کی بہادری کی تعریف کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی قوم کا عزم مضبوط ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "قوم کی سلامتی اور عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ہمارے اقدامات جاری رہیں گے، اور ہم اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے۔”

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع میں دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ ہم اپنے وطن کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔” وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا پیغام اور عالمی سطح پر ردعمل

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی فوج عالمی دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں پورے عزم کے ساتھ مصروف ہے، اور اس میں ایک اہم پیشرفت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آپریشنز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے، اور یہ آپریشنز دہشت گردوں کے مالی اور عملی سپورٹ کے ذرائع کو بھی تباہ کرنے کے لیے جاری رہیں گے۔

علاقائی تعاون اور عالمی تناظر

پاکستان نے اپنے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر بھی تعاون بڑھایا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بات بھی واضح کی کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی کوششوں کو مربوط کرے گا۔ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں دہشت گردی کی روک تھام اور امن قائم کرنے کے لیے عالمی برادری سے بھرپور تعاون کی درخواست کی ہے۔

نتیجہ

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خیبر پختونخواہ میں کیے گئے آپریشنز میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں نہ صرف ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ آپریشن عزمِ استقامت کے تحت دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ پاکستان کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button