
سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی پرنسپل ڈاکٹر زوہرہ خانم کی اہم پریس کانفرنس، سروسز ہسپتال لاہور میں بجلی کی بندش کے دوران مبینہ ویڈیو پر مکمل تحقیقات
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، شام کی شفٹ میں جب واپڈا کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی، تو ہسپتال کے اندر کسی بھی قسم کی روشنی یا آپریشنل نظام میں خرابی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زوہرہ خانم نے سروسز ہسپتال لاہور میں بجلی کی بندش کے دوران مبینہ ویڈیو بنانے کے حوالے سے مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بجلی کی بندش کے دوران ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے اور طبی سہولیات کی فراہمی میں غفلت برتی جا رہی ہے۔
تحقیقات کی تشکیل اور انکوائری کمیٹی کی رپورٹ
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر زوہرہ خانم نے بتایا کہ سروسز ہسپتال لاہور میں 31 مارچ کو شام کے اوقات میں جب بجلی کی فراہمی میں خلل آیا، تو اس حوالے سے تحقیقات کی گئی ہیں۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، سروسز ہسپتال ڈاکٹر خرم رانا کی ہدایت پر فوراً ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی ذمہ داری تھی کہ اس ویڈیو کی حقیقت کا پتہ چلایا جائے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
کمیٹی نے سروسز ہسپتال کے مختلف افسران اور عملے کو طلب کیا، جن میں ڈاکٹر قرۃ العین (ڈی ایم ایس ایمرجنسی، شام کی شفٹ)، شکیلہ محمود (ہیڈ نرس، سرجیکل ایمرجنسی)، زرینہ شہزاد (ہیڈ نرس، میڈیکل ایمرجنسی)، اور نازیہ ابراہیم (ہیڈ نرس این او ٹی) شامل ہیں۔ ان تمام افسران نے اپنے تحریری بیانات کمیٹی کے سامنے جمع کروائے۔
کمیٹی کی رپورٹ اور مبینہ ویڈیو کی حقیقت
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، شام کی شفٹ میں جب واپڈا کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی، تو ہسپتال کے اندر کسی بھی قسم کی روشنی یا آپریشنل نظام میں خرابی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ سروسز ہسپتال کے عملے نے مریضوں کو بلا تعطل طبی سہولت فراہم کی اور بجلی کی بندش کے دوران کسی قسم کی بدسلوکی یا غفلت کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔
کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مبینہ ویڈیو من گھڑت اور جعلی تھی۔ اس ویڈیو کا سروسز ہسپتال لاہور سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اس ویڈیو میں دکھائے جانے والے واقعات سچائی پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچا کہ ویڈیو کی حقیقت کچھ اور ہے اور اس کا مقصد صرف ہسپتال کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
ڈاکٹر خرم رانا کا اظہار خیال
سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خرم رانا نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "بجلی کی بندش کے دوران مریضوں کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی یا غفلت کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ سروسز ہسپتال کے عملے نے ضابطہ اخلاق اور معیاری ہدایات کے مطابق مریضوں کو بلا تعطل طبی سہولت فراہم کی۔”
ڈاکٹر خرم رانا نے مزید کہا کہ ہسپتال کی انتظامیہ اور عملہ ہمیشہ مریضوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی بدسلوکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سروسز ہسپتال لاہور ایک معتبر اور پیشہ ورانہ ادارہ ہے اور اس کے عملے کی کوشش ہے کہ ہر مریض کو بہترین ممکنہ خدمات فراہم کی جائیں۔
بجلی کی بندش کے دوران ہسپتال کی کارکردگی
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ واپڈا کی جانب سے بجلی کی بندش کے دوران تقریباً 50 مریضوں کو سرجیکل ایمرجنسی میں اور 250 مریضوں کو میڈیکل ایمرجنسی میں طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ سروسز ہسپتال نے توانائی کے بحران کے دوران اپنے آپریشنز کو معمول کے مطابق چلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے، اور مریضوں کی زندگی کو کسی بھی قسم کے خطرے سے بچانے کے لیے ہسپتال کے عملے نے بہترین کاوشیں کیں۔
ڈاکٹر زوہرہ خانم نے کہا کہ "ہسپتال میں بجلی کی بندش کے دوران ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، اور مریضوں کو بہترین علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ ہسپتال کے عملے نے کسی بھی قسم کی پریشانی کے باوجود اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیے۔”
سروسز ہسپتال کی ساکھ پر زور
پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر زوہرہ خانم نے سروسز ہسپتال کی ساکھ اور اس کے عملے کے پروفیشنلزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سروسز ہسپتال لاہور ہمیشہ اپنے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اور اس ویڈیو کے ذریعے اس ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ویڈیو کا مقصد صرف ادارے کی بدنامی اور مریضوں کے اعتماد کو نقصان پہنچانا تھا، لیکن کمیٹی کی تحقیقات نے اس کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
مریضوں کے حقوق کی حفاظت
پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈاکٹر زوہرہ خانم نے مریضوں کے حقوق کی حفاظت کے حوالے سے ہسپتال کی پالیسیوں کو دوبارہ واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہسپتال کی انتظامیہ مریضوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور کسی بھی صورت میں مریضوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ سروسز ہسپتال لاہور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر مریض کو بہترین علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔
نتیجہ
پریس کانفرنس کا اختتام کرتے ہوئے ڈاکٹر زوہرہ خانم اور ڈاکٹر خرم رانا نے سروسز ہسپتال لاہور کی خدمات اور اس کے عملے کی محنت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا مقصد ہمیشہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور علاج کرنا ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا اس کی کامیاب کارکردگی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ ان کی جانب سے تحقیقات کی کامیابی اور سروسز ہسپتال کی ساکھ کی حفاظت کے لیے مکمل عزم کا اظہار کیا گیا۔



