
سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پنجاب یونیورسٹی کے ٹاؤن تھری ہاؤسنگ منصوبے کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کی غماز ہے کہ ٹاؤن تھری منصوبے میں مالی نظم و ضبط کی کمی، شفافیت کی عدم موجودگی، اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے اساتذہ و ملازمین کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے اربوں روپے کے مبینہ گھپلوں پر یونیورسٹی انتظامیہ کو متعلقہ حکومتی اداروں سے مدد لینے کی بھی سفارش کی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے اہم نکات:
1. ڈویلپر کی غیر شفاف انتخابی عمل:
رپورٹ کے مطابق ٹاؤن تھری کے ڈویلپر کے انتخاب کے لئے کسی بھی قسم کا اشتہار یا عوامی اعلان نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے انتخابی عمل شفافیت سے محروم رہا۔ کمیٹی نے اس بات کو نمایاں کیا کہ اس غیر شفاف عمل کی وجہ سے بعد میں عدالتی کیسز کی صورت میں ممکنہ قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئیں۔
2. ڈویلپر کمپنیوں کی اہلیت پر سوالات:
کمیٹی نے یہ انکشاف کیا کہ ٹاؤن تھری کی ڈویلپر کمپنیاں صرف اسی منصوبے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قائم کی گئیں، جس سے ان کی اہلیت اور تجربے پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کمپنیوں کی قیادت میں شامل افراد کی پس منظر اور تجربے کا بغور جائزہ نہیں لیا گیا، جس سے منصوبے کی کامیابی پر اثرات مرتب ہوئے۔
3. زمین کی خرید و فروخت:
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈویلپر کمپنیوں نے اساتذہ کے رہائشی منصوبے کی زمین مختلف پارٹیوں کو فروخت کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈویلپر اتنے بڑے منصوبے کو مکمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ، زمین کی خریداری کے معاملے میں کئی متنازعہ معاہدے کیے گئے، جن میں ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ ان معاہدوں میں کم قیمت پر زمین حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی طریقے اپنائے گئے، جس سے منصوبے کے شفافیت میں مزید کمی آئی۔
4. مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال:
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ڈویلپر کمپنی میں ڈاکٹر اظہر نعیم کے سگے بھائی، ڈاکٹر وقار نعیم، شامل تھے، جسے کمیٹی نے مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال قرار دیا۔ اس کے ذریعے دونوں بھائیوں کو ذاتی فائدہ پہنچا اور منصوبے کی درست نگرانی میں مشکلات آئیں۔
5. غیر قانونی رقوم کی منتقلی:
کمیٹی نے یہ بتایا کہ ابتدائی طور پر زمین کی خریداری کے لیے سرکاری اکاؤنٹ سے براہ راست مالکان کو ادائیگیاں کی گئیں، لیکن بعد ازاں کروڑوں روپے کی ادائیگیاں ڈویلپر کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئیں۔ اس طرح کے اقدامات سے اس منصوبے کی مالیاتی شفافیت متاثر ہوئی اور اربوں روپے کی غبن کی شکایات سامنے آئیں۔
6. عدالتی کیسز اور ترقیاتی کاموں کی تاخیر:
رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبہ چار سال میں مکمل ہونا تھا، مگر اس عرصے میں کوئی عدالتی کیسز یا سٹے آرڈرز نہیں تھے، پھر بھی ترقیاتی کام شروع نہیں ہو سکے۔ کمیٹی نے اس تاخیر کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری ڈویلپر پر ڈال دی، جنہوں نے منصوبے کی تکمیل میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
7. زمین کی ٹرانسفر اور پلاٹوں کی رجسٹریشن:
کمیٹی نے نشاندہی کی کہ ابتدائی طور پر زمین کو ایسوسی ایشن کے نام پر رجسٹر کرنے کے بجائے انفرادی طور پر ذاتی ناموں پر رجسٹر کیا گیا، جس سے پلاٹوں کی ملکیت اور منتقلی میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ اس معاملے پر ایک عام شہری نے عدالت سے رجوع کیا، جس پر محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی اپنی تحقیقات شروع کر دی۔
8. منافع کی تقسیم پر مبہم فیصلے:
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈویلپر کے پارٹنرز نے منافع کی تقسیم پر اتفاق تو کیا، لیکن یہ طے نہیں کیا کہ کون کتنا سرمایہ لگائے گا، جسے کمیٹی نے غیر معمولی قرار دیا۔ اس طرح کی مبہم شراکت داریوں کی وجہ سے منصوبے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
9. ایل ڈی اے کی تکنیکی منظوری کا فقدان:
رپورٹ میں کہا گیا کہ نجی ہاؤسنگ سکیم کی جانب سے ممبران کو ایل ڈی اے اپروول لیٹر جاری کیا گیا تھا، مگر متعلقہ موضع میں سکیم کے پاس ایل ڈی اے کی تکنیکی منظوری موجود نہیں تھی۔ اس طرح کے فیصلوں سے منصوبے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
کمیٹی کی سفارشات:
1. سرکاری تحقیقاتی اداروں کی تحقیقات:
کمیٹی نے سفارش کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ متعلقہ سرکاری تحقیقاتی اداروں سے کارروائی کی درخواست کرے، تاکہ اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، ٹاؤن تھری کے اکاؤنٹس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
2. آئندہ منصوبوں کی نگرانی:
کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ آئندہ کسی بھی منصوبے کو متعلقہ قانونی و انتظامی باڈیز کی منظوری کے بغیر شروع نہ کیا جائے۔ مزید برآں، یونیورسٹی انتظامیہ کو ٹاؤن تھری منصوبے کی مکمل نگرانی کی ذمہ داری سونپی جائے، تاکہ اساتذہ و ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
3. پلاٹوں کے حتمی قبضے تک ذمہ داری:
کمیٹی نے یہ سفارش کی کہ پلاٹوں کے حتمی قبضے تک مینجمنٹ کمیٹی مکمل طور پر ذمہ دار رہے گی، اور یونیورسٹی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ منصوبہ مکمل طور پر اس کے اصولوں اور ضوابط کے مطابق مکمل ہو۔
نتیجہ:
پنجاب یونیورسٹی کے ٹاؤن تھری ہاؤسنگ منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے انکشافات نے نہ صرف یونیورسٹی کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ اساتذہ اور ملازمین کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ اس رپورٹ نے واضح کیا کہ منصوبے میں شفافیت، مالی نظم و ضبط، اور قانونی کارروائیوں کی کمی نے اس کے انجام کو پیچیدہ اور متنازعہ بنا دیا۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق، آئندہ ایسے کسی بھی منصوبے کو قانونی اجازت کے بغیر شروع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اس کے لیے مکمل نگرانی اور تحقیقاتی عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔



