کاروبارتازہ ترین

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود طلب میں اضافہ

مارچ 2026 میں پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ

رپورٹ ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ گئے، جہاں مارچ 2026 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم حیران کن طور پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں ایندھن کی طلب کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔


پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں نمایاں اضافہ

سرکاری اور نجی اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں پیٹرول کی فروخت فروری کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 6 لاکھ 70 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی کھپت میں بھی تقریباً 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں معاشی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔


موجودہ قیمتیں عوام پر بوجھ

اس وقت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔

قیمتوں میں یہ اضافہ عوام کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔


طلب میں اضافے کی بڑی وجوہات

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کے باوجود کھپت میں اضافہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے:

1. عید کی تعطیلات

مارچ میں عید کے موقع پر سفر میں اضافہ ہوا، جس کے باعث ٹرانسپورٹ اور ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

2. ایندھن کی قلت کا خدشہ

ملک میں ممکنہ ایندھن کی کمی کے خدشات نے عوام اور کاروباری حلقوں کو زیادہ مقدار میں پیٹرول ذخیرہ کرنے پر مجبور کیا۔

3. ذخیرہ اندوزی کا رجحان

ماہرین کے مطابق غیر یقینی صورتحال میں آئل کمپنیوں اور ڈیلرز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی بھی ایک اہم وجہ ہے، جس سے مصنوعی طور پر طلب میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔


ماہرین کی رائے: کھپت کم کرنا مشکل

معروف ماہرِ معیشت و توانائی کے مطابق حکومت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنا آسان نہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ تیل اور گیس جیسے قدرتی ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔

آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (IPPs) خام تیل درآمد کر کے بجلی پیدا کرتے ہیں، اور چاہے بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، حکومت کو انہیں کیپیسٹی پیمنٹس ادا کرنا پڑتی ہیں۔


ٹرانسپورٹ کا مکمل انحصار تیل پر

پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا نظام بڑی حد تک پیٹرول اور ڈیزل پر منحصر ہے:

  • موٹر سائیکل اور گاڑیاں پیٹرول استعمال کرتی ہیں
  • مال برداری اور بسیں ڈیزل پر چلتی ہیں
  • ریلوے کا بڑا حصہ ڈیزل سے چلتا ہے
  • ہوائی جہاز جیٹ فیول استعمال کرتے ہیں

ماہرین کے مطابق گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ایندھن کی کھپت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔


’سائیکلنگ کلچر‘ کا فقدان

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سائیکل چلانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

شہروں کی سڑکیں اس انداز میں بنائی جاتی ہیں کہ زیادہ تر جگہ گاڑیوں کے لیے مختص ہوتی ہے جبکہ سائیکل سواروں کے لیے مناسب سہولیات موجود نہیں۔

اسی وجہ سے طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو روزمرہ سفر کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جس سے پیٹرول کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے۔


ذخیرہ اندوزی: ایک سنجیدہ مسئلہ

اسلام آباد میں مقیم معاشی ماہر کے مطابق مارچ میں کھپت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض آئل کمپنیاں اپنی اصل ضرورت سے زیادہ پیٹرول خرید لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کمپنی کی ضرورت 40 ہزار لیٹر ہو اور وہ 50 ہزار لیٹر خرید لے، تو یہ اضافی 10 ہزار لیٹر بھی مجموعی کھپت میں شامل ہو جاتا ہے۔

بعد ازاں یہی ذخیرہ شدہ ایندھن قیمت بڑھنے پر فروخت کر کے منافع کمایا جاتا ہے۔


حکومتی نگرانی پر سوالات

ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پیٹرول پمپس اور آئل کمپنیوں کے سٹاک کی مؤثر نگرانی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ان کے مطابق اگر سٹاک کی سخت مانیٹرنگ کی جائے تو ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور مصنوعی طلب میں کمی لائی جا سکتی ہے۔


مجموعی صورتحال اور چیلنجز

پاکستان کو اس وقت دوہرے چیلنج کا سامنا ہے:

  1. عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  2. مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب اور کمزور نگرانی

یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔


نتیجہ

مارچ 2026 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔

یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں توانائی کے متبادل ذرائع، بہتر ٹرانسپورٹ پالیسی، اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button