مشرق وسطیٰتازہ ترین

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں، پورے خطے میں جمعہ کی صبح کا آغاز حملوں کے ساتھ ہوا

ایران اور حزب اللہ کی جانب سے آج بھی اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں، خود اسرائیل نے اس کا اعتراف کیا ہے۔

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : April 3, 2026 at 2:51 PM IST

دبئی، متحدہ عرب امارات: جمعہ کو مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم ہونے کے بہت کم آثار نظر آرہے ہیں۔ اسرائیل نے ایک بیان میں کہا کہ، اسے ایران، کویت اور بحرین کی جانب سے آنے والی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں، ایران نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے متاثرہ ایک بڑے پل کے قریب فارسی نئے سال کے اختتام کا جشن مناتے ہوئے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

تہران نے اپنے ہمسایہ خلیجی ممالک پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایران سے خطرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

جمعرات کے روز ٹرمپ نے پل کے گرنے کی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یہ پل مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں سب سے اونچا ہے۔

ایران نے پل پر حملے کی مذمت کی، جس میں نیچر ڈے منانے والے 95 افراد زخمی بھی ہوئے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، "شہریوں کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ صرف دشمن کی شکست اور اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔”

خلیجی ریاستوں پر ایران کے حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اس کی ناکہ بندی نے دنیا کی توانائی کی سپلائی میں خلل ڈالا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر بڑی حد تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ میں ایران کا سب سے بڑا اسٹریٹجک فائدہ ثابت ہوا ہے۔ برطانیہ نے تقریباً تین درجن ممالک کے ساتھ ایک میٹنگ کی ہے تاکہ جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے جانے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز طاقت سے لیا جا سکتا ہے – لیکن کہا کہ ایسا کرنا امریکہ کے بس میں نہیں ہے۔ بدھ کی رات امریکی عوام سے خطاب میں، انہوں نے ہرمز کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ، وہ یا تو امریکہ سے تیل خریدیں یا پھر آبنائے ہرمز جانے کی ہمت دکھائیں۔

ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے جاری

ایران کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم زلفغری نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ تہران اسلحہ، گولہ بارود اور پیداواری سہولیات کے پوشیدہ ذخیرے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حملوں کے ذریعے اب تک جو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ اہمیت کی حامل نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کے بنیادی اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 27 افراد ہلاک ہو گئے۔

جنگ کے دوران ایران میں 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیل میں 19 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ خلیجی ریاستوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 13 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

لبنان میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہاں دس اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button