پاکستاناہم خبریں

پاکستان،اسلام آباد: وزارتِ خارجہ نے گمراہ کن میڈیا رپورٹس مسترد کر دیں

جمعہ کے روز وزارتِ خارجہ میں ہونے والی معمول کی بریفنگ کو بھی بعض حلقوں نے غلط انداز میں پیش کیا، اور ایسے موضوعات کو اس سے منسوب کیا گیا جن پر نہ تو بات کی گئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا تھا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزارتِ خارجہ پاکستان نے خطے میں جاری تنازعات اور امن کوششوں سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی بعض رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان، جناب طاہر اندرابی نےایک تفصیلی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ حکومتِ پاکستان سے منسوب کیے جانے والے نام نہاد سرکاری ذرائع پر مبنی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
ترجمان کے مطابق، حالیہ دنوں میں بعض میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے خفیہ یا غیر اعلانیہ سفارتی اقدامات کر رہا ہے۔ تاہم، وزارتِ خارجہ نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے کسی بھی بیان یا موقف کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعہ کے روز وزارتِ خارجہ میں ہونے والی معمول کی بریفنگ کو بھی بعض حلقوں نے غلط انداز میں پیش کیا، اور ایسے موضوعات کو اس سے منسوب کیا گیا جن پر نہ تو بات کی گئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا تھا۔
ترجمان نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی حساسیت کے پیشِ نظر ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط رپورٹنگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارتی معاملات میں قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ علاقائی امن کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ وہ خبروں کی اشاعت سے قبل مستند ذرائع کی تصدیق کریں اور صرف سرکاری طور پر جاری کردہ بیانات، پریس ریلیزز اور میڈیا ریڈ آؤٹس پر انحصار کریں تاکہ درست اور بروقت معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں۔
آخر میں ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور بامعنی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، اور اس سلسلے میں شفاف اور ذمہ دارانہ مواصلات کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button