پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں بڑا آپریشن: افغان شہری دہشت گرد گرفتار، سرحد پار روابط کے شواہد پیش

اس گروہ کی قیادت ’’مسلم‘‘ نامی شخص کے ہاتھ میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر سرحد پار بیٹھ کر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات جاری کر رہا تھا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ،بلوچستان حکام کے ساتھ
بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ سرحد پار روابط کے حوالے سے تفصیلات پیش کی ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی بریفنگ میں میر ضیاء لانگو، حمزہ شفقت اور اعتزاز گورایہ نے شرکت کی اور میڈیا کو آپریشن اور اس کے پس منظر سے آگاہ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران حکام نے بتایا کہ ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ایک ایسے مبینہ دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا جو بیک وقت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے لیے کام کر رہا تھا۔ گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت افغان شہری حبیب اللہ کے نام سے کی گئی، جس نے دورانِ تفتیش بلوچستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

حکام کے مطابق، ملزم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں براہِ راست شامل رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گرفتار دہشت گرد کا بھائی، شیر افغان، بھی ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ ایک منظم اور مربوط دہشت گرد نیٹ ورک کے تحت سرگرم تھے۔

پریس بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ دورانِ تفتیش اس گروہ کی قیادت ’’مسلم‘‘ نامی شخص کے ہاتھ میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر سرحد پار بیٹھ کر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات جاری کر رہا تھا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بیرونی معاونت حاصل کر رہا تھا، جس کے واضح شواہد بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
حکام نے ملزم کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حبیب اللہ کو ابتدائی طور پر ایک ماہ تک شک کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا تھا، تاہم اس وقت ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث اسے ایک عام شہری سمجھ کر رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں جب مزید مصدقہ شواہد سامنے آئے تو اسے بلوچستان کے علاقے کچلاک سے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ دوسری گرفتاری کے بعد ہونے والی تفتیش میں ملزم نے سرحد پار دہشت گردی کے روابط اور اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان بارہا اس بات کے شواہد پیش کر چکا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مسلسل افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔
ہوم سیکرٹری حمزہ شفقت اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر حکام نے میڈیا کو ملزم کے اعترافی بیان، آپریشن کی تفصیلات اور دیگر شواہد پر مبنی سلائیڈز بھی دکھائیں۔ حکام کے مطابق یہ شواہد پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ بین الاقوامی روابط کو بے نقاب کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button