پاکستاناہم خبریں

پاکستان سرحدی کشیدگی میں اضافہ: سیکیورٹی کارروائیوں میں سینکڑوں ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقصانات کا دعویٰ

حکام کے مطابق ان آپریشنز میں 81 ایسے مقامات کو بھی فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر دہشت گردوں کو لاجسٹک اور بنیادی ڈھانچے کی معاونت فراہم کی جا رہی تھی

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
حالیہ سیکیورٹی پیش رفت میں حکام کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سرحدی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی مبینہ دراندازی اور حملوں کو روکنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 796 افراد ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 286 سے زائد پوسٹس کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 44 پوسٹس پر قبضہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپخانے اور ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
حکام کے مطابق ان آپریشنز میں 81 ایسے مقامات کو بھی فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر دہشت گردوں کو لاجسٹک اور بنیادی ڈھانچے کی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ ان کارروائیوں کو انتہائی مربوط اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کیا گیا قرار دیا جا رہا ہے، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
بیان میں خاص طور پر 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا گیا، جب غلام خان سیکٹر میں ایک سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ حملہ افغان طالبان اور مبینہ طور پر وابستہ عناصر کی جانب سے کیا گیا، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
سرکاری دعوے کے مطابق اس جھڑپ کے دوران حملہ آوروں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جن میں 37 افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی مؤثر حکمت عملی اور بروقت ردعمل کے باعث نہ صرف حملہ پسپا کیا گیا بلکہ دشمن کو شدید نقصان بھی پہنچایا گیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ حالیہ عرصے کی سب سے بڑی اور شدید نوعیت کی سرحدی جھڑپوں اور کارروائیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعووں کی مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے تناظر میں بھی ان واقعات پر بین الاقوامی سطح پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
حکام کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک کی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا، جبکہ کسی بھی دراندازی یا حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button