پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

لاہور میں خانہ بدوش برادری کے لیے “جپسی کلچرل امن میلہ” کا انعقاد

یہ رنگا رنگ میلہ HRCP Auditorium میں منعقد ہوا، جہاں ثقافتی سرگرمیوں، موسیقی اور آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔

رپورٹ پاکستان سے.وائس آف جرمنی اردو نیوز

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی تنظیم  گود لاہور کے زیرِ اہتمام سالانہ “جپسی کلچرل امن میلہ” Gypsy Cultural Peace Festival کا انعقاد کیا گیا، جس میں خانہ بدوش (جپسی) برادری سے تعلق رکھنے والے بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ یہ رنگا رنگ میلہ HRCP Auditorium میں منعقد ہوا، جہاں ثقافتی سرگرمیوں، موسیقی اور آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔


میلے کا مقصد: حقوق اور شعور کی آگاہی

میلے کے انعقاد کا بنیادی مقصد معاشرے کے نظر انداز شدہ طبقے، خصوصاً خانہ بدوش بچوں اور خواتین، کو تفریحی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خانہ بدوش برادری کو معاشرے کا برابر کا حصہ سمجھتے ہوئے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔


ثقافتی رنگ اور روایتی مظاہر

تقریب میں مختلف ثقافتی پروگرام پیش کیے گئے، جن میں روایتی موسیقی، ڈھول اور گڑوی پر گانے شامل تھے۔ ان پروگرامز نے نہ صرف شرکاء کو محظوظ کیا بلکہ خانہ بدوش ثقافت کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بچوں اور خواتین نے اپنی روایتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔


خانہ بدوش برادری: ایک نظر انداز حقیقت

تنظیم کے سربراہ  نظیر احمد غازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم گزشتہ 25 برسوں سے بلا امتیاز رنگ و نسل خانہ بدوش خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر جانبدار سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 80 لاکھ سے زائد خانہ بدوش افراد آباد ہیں، جو بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صرف لاہور میں ہی 15 سے زائد خانہ بدوش خاندان موجود ہیں جبکہ ملک بھر میں 30 سے زائد بڑے خاندان مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ افراد زیادہ تر کاغذ اور کچرا اکٹھا کرنے، سڑکوں پر موسیقی بجانے اور دیگر غیر رسمی پیشوں سے وابستہ ہیں، جن کی آمدن نہایت کم اور غیر مستحکم ہوتی ہے۔


بچوں کی تعلیم اور جبری مشقت کا مسئلہ

میلے کے دوران اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ خانہ بدوش بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ غربت اور وسائل کی کمی کے باعث یہ بچے اکثر کم عمری میں ہی مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو کہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مقررین نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔


حکومت اور اداروں سے مطالبات

تقریب میں شریک سماجی رہنماؤں اور مقررین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ خانہ بدوش برادری کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان میں مفت اور معیاری تعلیم، بنیادی صحت کی سہولیات، رہائش اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔


سماجی تنظیم کی خدمات اور اقدامات

گود لاہور کے نمائندوں کے مطابق تنظیم خانہ بدوش خاندانوں کے لیے مختلف فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں تعلیمی پروگرام، مفت طبی کیمپس، اور آگاہی مہمات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ان افراد کو ایک بہتر اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔


اختتام پر عزم کا اظہار

میلے کے اختتام پر بچوں میں تحائف تقسیم کیے گئے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ خانہ بدوش برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف ان کی آواز کو بلند کریں گی بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بھی بنیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button