
افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کا بڑھتا اثر و رسوخ، خطے کیلئے سنگین چیلنج
سابق افغان سینئر سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق موجودہ صورتحال میں افغانستان مختلف جہادی گروہوں کےدرمیان جنگ کامیدان بن سکتا ہے
By www.vogurdunews.de
افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کا بڑھتا اثر و رسوخ، خطے کیلئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ امریکی جریدے فارن پالیسی نے افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا نظریاتی گٹھ جوڑ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔
امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق فتنہ الخوارج، القاعدہ کی ایک عسکری اتحادی تنظیم ہے، اپنے نظریات اور فکری بنیادوں میں افغان طالبان رجیم سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہے۔ 30 سے 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل دہشت گرد گروہ پاک افغان سرحد پر بڑا خطرہ بن چکا ہے، جس کا بنیادی ہدف پاکستانی ریاست اور اس کے ادارے ہیں۔
فارن پالیسی نےاقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ صرف فتنہ الخوارج کے تقریباً 6,000 جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، اور اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد ذیلی گروہوں کے جنگجو بھی فعال ہیں۔ کابل میں فتنہ الخوارج کے سرغنہ نور ولی محسود اور اس گروہ کو افغان طالبان مسلسل لاجسٹک سہولیات، آپریشنل جگہ اور مالی معاونت فراہم کرتے رہے۔
سابق افغان سینئر سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق موجودہ صورتحال میں افغانستان مختلف جہادی گروہوں کےدرمیان جنگ کامیدان بن سکتا ہے، ہر گروہ کسی نہ کسی علاقے پر اپنادعویٰ کرنا شروع کردے گا۔سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان ایک اور شام بن سکتا ہے، جہاں طالبان رجیم بشار الاسد کی حکومت کی طرح کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق فارن پالیسی کی رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کا غلبہ اور انہیں حاصل سرکاری پشت پناہی خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کیلئے مستقل خطرہ ہے، بلکہ افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔



