
کوہاٹ واقعے پر عطا تارڑ کی سہیل آفریدی پر تنقید، سیف سٹی، سی ٹی ڈی اور فرانزک سہولیات پر سوالات
صوبے میں امن و امان، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران مختص وسائل سے کیا نتائج حاصل ہوئے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کوہاٹ میں پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے تناظر میں خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان، پولیس کی استعدادِ کار اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جب کوہاٹ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا اور پولیس اہلکاروں سمیت شہریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کہاں تھے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ کے پاس سیاسی سرگرمیوں اور دھرنے کی تیاری کے لیے وقت موجود ہے، تاہم صوبے میں دہشت گردی سے متاثرہ عوام اور پولیس اہلکاروں کے لیے ترجیحات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان 21 ستمبر کو کوہاٹ میں ایک ورکرز کنونشن سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوہاٹ واقعے کے وقت لاہور میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ نے مختصر ہیلی کاپٹر دورہ کیا اور واپس چلے گئے۔ عطا تارڑ نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ صوبے میں امن و امان، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران مختص وسائل سے کیا نتائج حاصل ہوئے۔
پولیس کی استعداد اور فرانزک سہولیات پر سوالات
عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا پولیس کی سہولیات اور تفتیشی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن صوبے میں جدید فرانزک سہولیات کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سیف سٹی منصوبوں، انسدادِ دہشت گردی کے نظام اور فرانزک سہولیات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ طویل عرصے سے صوبائی حکومتوں کے پاس موجود وسائل کے باوجود ان شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت کیوں نہیں ہوسکی۔
تاہم خیبر پختونخوا پولیس کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق پشاور سیف سٹی منصوبے کی افتتاحی تقریب مارچ 2026 میں ہوئی تھی، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکت کی تھی۔ اس لیے صوبے میں سیف سٹی کا کوئی منصوبہ نہ ہونے کا عمومی تاثر درست نہیں ہوگا؛ اصل سوال منصوبے کے دائرہ کار، تکمیل، کارکردگی اور دیگر اضلاع تک توسیع سے متعلق ہوسکتا ہے۔
کوہاٹ حملہ؛ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں
حالیہ کوہاٹ حملے میں پولیس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طویل کارروائی کے بعد کمپاؤنڈ کو کلیئر کیا۔ مختلف ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں فرق سامنے آیا، تاہم واقعہ خیبر پختونخوا میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم اور سیکیورٹی فورسز کا عزم کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کوہاٹ دورہ اور امدادی اقدامات
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 19 ستمبر کو کوہاٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیس لائنز حملے کے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق انہوں نے متاثرہ مسجد اور عمارتوں کی تعمیر نو، شہداء کے خاندانوں کے لیے مالی معاونت اور کوہاٹ اسپیشل برانچ کے لیے پولیس اسٹیشن کے قیام کا اعلان کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کوہاٹ ڈی ایچ کیو اسپتال میں جدید طبی آلات، جن میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی شامل ہیں، کی فراہمی اور ایک ہزار بستروں کے اسپتال کے منصوبے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈنگ کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے پولیس کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے اضافی 35 ارب روپے اور پولیس بجٹ میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔
ترقیاتی فنڈز اور حکومتی ترجیحات پر سیاسی بحث
عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے کے پاس گزشتہ کئی برسوں سے بڑے مالی وسائل موجود رہے ہیں، تاہم عوامی سطح پر بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی نظام سے متعلق شکایات برقرار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موٹروے سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں داخل ہوتے ہی ترقیاتی سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں، پولیس کی ضروریات اور عوامی سہولیات کے لیے مختص وسائل کے استعمال کی تفصیلات سامنے لائے۔
وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر سیاسی سرگرمیوں کو حکمرانی کی ترجیحات پر فوقیت دینے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی اور وسائل کے استعمال کا بھی جائزہ ضروری ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سرکاری بیان کے مطابق کوہاٹ ڈویژن میں پولیس نفری، صحت کی سہولیات، متاثرہ عمارتوں کی تعمیر نو اور سیکیورٹی استعداد میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جولائی 2026 کے ایک سرکاری جائزہ اجلاس میں کوہاٹ ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور نئے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔
کوہاٹ سانحے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بیان بازی نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات، پولیس کی استعداد، ترقیاتی وسائل کے استعمال اور سیاسی ترجیحات کو ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث صوبے میں مؤثر قانون نافذ کرنے، جدید تفتیشی نظام اور عوامی تحفظ کے اقدامات کی اہمیت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔



