
ٹرمپ کی ایران کو ’ملیامیٹ‘ کرنے کی دھمکی، اقوام متحدہ میں سفارتی کوششیں بھی جاری
اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے بیانات کو ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران’’جارح طاقتوں پر مزید شدید، تباہ کن اور غیر متوقع ضربیں لگانے کے لیے مکمل طور پر تیار‘‘ ہے۔
ٹرمپ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو گا جس کے تحت وہ دوبارہ تعمیر نو کر سکے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بن سکے؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو تباہ کر دوں اور یہ کام جلدی کر دوں، تا کہ انہیں دوبارہ لوگوں اور ملکوں کو ہلاک اور تباہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے؟‘‘
ایران کی مسلح افواج نے اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے بیانات کو ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران’’جارح طاقتوں پر مزید شدید، تباہ کن اور غیر متوقع ضربیں لگانے کے لیے مکمل طور پر تیار‘‘ ہے۔
تاہم سخت بیانات سے ہٹ کر تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ جنگ رواں سال فروری کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور خطے کے کئی ہمسایہ ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو چکے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ثالثوں کے ذریعے طویل مذاکرات کیے۔ ان کے بقول ثالث ’’پورے دن دونوں فریقوں کے درمیان آتے جاتے رہے‘‘۔
وٹکوف نے مزید کہا کہ ثالث اپنا کام جاری رکھیں گے اور انہیں امید ہے کہ بات چیت ’’تعمیری اور امید افزا ثابت ہوگی‘‘۔

سفارتی سرگرمیاں جاری
امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے ان رہنماؤں سے بھی ملاقات کی جو آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ جنگ سے قبل دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ تاہم یہ ممالک اپنے دیرینہ حریف ایران کو بہت زیادہ طاقت دینے سے بھی محتاط ہیں۔
ان میں سے کئی ممالک میں امریکہ کے بڑے فوجی اڈے بھی موجود ہیں، جنہیں جنگ کے دوران ایران کی جانب سے بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ان رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ صورتحال 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد، شاید اس سے پہلے ہی، ختم ہو سکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم، آپ شاید کچھ نہیں جانتے۔‘‘
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ٹرمپ کو کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے، جن میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں، بیرون ملک پھیلتا علاقائی تنازع اور چھ ہفتے بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات شامل ہیں، جو ان کی سیاسی حیثیت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے، اس کے عالمی تیل کی منڈیوں، خلیجی خطے کی سلامتی اور ایرانیوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

ایران اپنے موقف پر مصر
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی۔ قطر کئی ماہ سے اس تنازع کو کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ میں کمی لاتا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو تہران چند دنوں کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔
اس ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے گزشتہ ہفتے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی تازہ ترین تجویز پہنچا دی تھی اور اگر اس کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے تو وہ سات دن کے اندر خلیجی ممالک کی جانب جانے والی بحری جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کھول سکتا ہے۔
ایران کے اب تک کے سخت مؤقف کی ایک اور مثال دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو ماضی کے مذاکرات میں ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر چکے ہیں، نے کہا کہ ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایرانی عوام اور اس کی مسلح افواج پر اپنی طاقت مسلط نہیں کر سکتے۔‘‘



