
سید عاطف ندیم-ادارت, وزیر اعظم آفس کے ساتھ
نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کا قیام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کے مختلف اہم شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے امریکی کاروباری رہنماؤں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور موجودہ کاروباری شراکت داریوں کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی ہے۔
یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر امریکی-پاکستان بزنس کونسل (USPBC) اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ (BCIU) کے مشترکہ وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری کے امکانات، موجودہ امریکی کاروباری سرگرمیوں اور پاکستان میں نئی شراکت داریوں کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور امریکہ کے کاروباری تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے نجی شعبوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کاروباری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری شعبوں کے درمیان شراکت داری میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے اور حکومت پاکستان امریکی کمپنیوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں موجود امکانات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچرنگ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات سمیت متعدد شعبے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اہم مواقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے حکومت کی ترجیحات میں کاروبار دوست ماحول کا قیام شامل ہے، تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے سکیں۔
نوجوان آبادی اور بڑی مارکیٹ پاکستان کی اہم قوتیں
وزیراعظم نے پاکستان کو امریکی کاروباری اداروں کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کی منزل قرار دیتے ہوئے ملک کی بڑی صارف مارکیٹ اور نوجوان افرادی قوت کو سرمایہ کاری کے اہم عوامل میں شمار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ٹیکنالوجی، خدمات، صنعت اور دیگر شعبوں میں انسانی وسائل کی ایک بڑی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم نے امریکی کاروباری نمائندوں کو پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری اور کاروباری مواقع کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔
بوئنگ، پیپسی کو، کوکا کولا اور دیگر کمپنیوں کے نمائندے شریک
ملاقات میں پاکستان کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف متعدد معروف امریکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں بوئنگ، ایبٹ، پیپسی کو، کوکا کولا، ریسکیورٹی، ماسٹر کارڈ، این ویڈیا، ای ٹی ایس کیپیٹل، ٹی آر جی انٹرنیشنل، آرچر ڈینیئلز مڈلینڈ کمپنی، نارتھ شور میڈیکل لیب، ریکٹ، ویزا اور ایکسیلیریٹ انرجی سمیت مختلف اداروں کے نمائندگان موجود تھے۔
کمپنیوں کے نمائندوں نے پاکستان میں اپنے موجودہ کاروباری مفادات، جاری سرگرمیوں اور مستقبل میں ملک میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
امریکی کاروباری اداروں کی پاکستان میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی
امریکی-پاکستان بزنس کونسل کی صدر ایسپرانزا جیلیلیان نے امریکی کاروباری اداروں کے ساتھ وزیراعظم کی مسلسل رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وزیراعظم کو امریکی چیمبر آف کامرس کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔

ایسپرانزا جیلیلیان کے مطابق امریکی کاروباری اداروں اور پاکستان کے درمیان موجود روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نجی شعبے کے درمیان رابطہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے صدر پیٹر ٹچانسکی نے وزیراعظم کو پاکستان میں موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور نئی کاروباری شراکت داریوں کے مواقع تلاش کرنے میں بی سی آئی یو کی رکن کمپنیوں کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کی رکن کمپنیاں پاکستان میں اپنے کاروباری مفادات کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان قریبی رابطہ جاری رکھنے کا عزم
امریکی-پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل آف انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے نمائندوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ دونوں تنظیمیں پاکستان میں کاروباری اور سرمایہ کاری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھیں گی۔
وفد کے ارکان نے پاکستان میں اپنی موجودہ سرگرمیوں، کاروباری تجربات اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق اپنے خیالات وزیراعظم کے سامنے پیش کیے۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت، آئی ٹی اور معدنیات میں مواقع
وزیراعظم نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات جیسے شعبوں کو مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے تناظر میں امریکی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے لیے تعاون کے مختلف امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح معدنی وسائل، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبے بھی سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
وزیراعظم نے امریکی کاروباری رہنماؤں کو یقین دلایا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ذریعے سہولت کاری جاری رکھے گی۔
وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی معاونت کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، وزیر خزانہ و محصولات، وزیر دفاع، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، چیئرمین پی وی آر اے بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی موجود تھے۔

ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں اور پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر سفارتی روابط کے ساتھ ساتھ اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کی امریکی کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کرنے اور موجودہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت
ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی کمپنیوں کے موجودہ کاروباری تجربے کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی۔
دونوں جانب سے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل رابطے، موجودہ سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ اور نئی کاروباری شراکت داریوں کے امکانات تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان کی بڑی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں موجود امکانات کو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع کے طور پر اجاگر کیا گیا، جبکہ امریکی کاروباری نمائندوں نے پاکستان میں اپنی موجودگی اور مستقبل کے سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔



