
لاہور مبینہ اجتماعی زیادتی کیس: آذربائیجانی خاتون کا مجسٹریٹ کے روبرو بیان ریکارڈ، پولیس کی تفتیش جاری
تاہم دونوں واقعات الگ الگ مقدمات ہیں اور موجودہ آذربائیجانی خاتون کے کیس کی تفتیش اپنے دستیاب شواہد کی بنیاد پر جاری ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور کے ڈیفنس سی علاقے میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متاثرہ خاتون نے پیر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش مختلف شعبوں کی مشترکہ ٹیمیں کر رہی ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
متاثرہ خاتون کی شکایت پر ڈیفنس سی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375-A سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں تین مردوں کے ملوث ہونے کا الزام ہے، جبکہ تفتیش کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کی جا چکی ہے۔
دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ
پولیس کے مطابق آذربائیجانی خاتون کو سخت سیکیورٹی میں لاہور کینٹ کچہری لایا گیا، جہاں انہوں نے مجسٹریٹ کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا جانے والا بیان فوجداری تفتیش میں اہم قانونی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اس بیان میں متاثرہ خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے متعلق اپنا مؤقف عدالت کے سامنے ریکارڈ کراتی ہیں۔
اس سے ایک روز قبل عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ خاتون کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کا بیان قانون کے مطابق ریکارڈ کیا جا سکے۔
پولیس کا مؤقف: تین ملزمان کی شناخت
پولیس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تین افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایک مرکزی مشتبہ شخص کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، جبکہ پولیس دیگر ملزمان تک پہنچنے کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بعض افراد کو مبینہ طور پر ملزمان کی معاونت کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار یا حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں اور مبینہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔
مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی برآمد
تفتیش میں پولیس نے ایک ایسی گاڑی بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر خاتون کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانے کے لیے استعمال ہوئی۔
پولیس کے مطابق یہ گاڑی ایک مشتبہ مرکزی ملزم کے رشتہ دار کے گھر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد اسے ڈیفنس سی تھانے منتقل کر دیا گیا۔ تفتیش کار گاڑی کو واقعے کے شواہد اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
تفتیشی حکام واقعے سے متعلق دیگر شواہد، ممکنہ سی سی ٹی وی فوٹیج، گاڑی کی نقل و حرکت اور متاثرہ خاتون کے بیان سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واقعے کی مبینہ تفصیلات
مقدمے کی ایف آئی آر اور پولیس کے مطابق، آذربائیجانی خاتون کاروباری مقصد کے لیے لاہور آئی ہوئی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق 25 ستمبر کی رات دو خواتین انہیں ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں تین مرد بھی موجود تھے۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ کیفے میں وقت گزارنے کے بعد انہیں مبینہ طور پر گاڑی میں سیر یا ڈرائیو کے لیے لے جانے کی پیشکش کی گئی، تاہم ان کے مطابق انہیں ایک فلیٹ لے جایا گیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہاں انہیں ایسا مشروب پلایا گیا جس میں مبینہ طور پر نشہ آور یا بے ہوشی پیدا کرنے والی شے شامل تھی۔ اس کے بعد خاتون نے تین مردوں کی جانب سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا۔
پولیس کے مطابق یہ تمام تفصیلات متاثرہ خاتون کی شکایت اور ایف آئی آر میں درج مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ واقعے کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
خاتون کو مبینہ طور پر سڑک پر چھوڑا گیا
ایف آئی آر کے مطابق مبینہ واقعے کے بعد خاتون کو لاہور کے غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا۔ وہاں انہوں نے ایک راہ گیر سے مدد حاصل کی اور اس کے موبائل فون کے ذریعے پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی۔
خاتون نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ان کے بعض قیمتی سامان، جن میں موبائل فونز شامل تھے، مبینہ طور پر ملزمان اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس نے واقعے کے جنسی تشدد کے الزام کے ساتھ ساتھ ان الزامات کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا ہے۔
طبی معائنہ بھی کرایا گیا
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد خاتون کا طبی معائنہ کرایا گیا تھا۔ تازہ رپورٹوں میں پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ طبی رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم اس رپورٹ کی مکمل قانونی حیثیت اور دیگر شواہد کا جائزہ تفتیشی عمل اور عدالتی کارروائی میں لیا جائے گا۔
جنسی تشدد کے مقدمات میں طبی معائنہ تفتیش کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے، تاہم کسی بھی ملزم کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے تمام شواہد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
مختلف پولیس شعبوں کی مشترکہ تفتیش
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے مطابق مقدمے کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)، آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگز مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پولیس نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے مشتبہ افراد کے بیرونِ شہر یا ملک فرار ہونے کے خدشے کے پیش نظر ان کے نام متعلقہ فہرستوں میں شامل کرنے کے لیے وفاقی حکام سے بھی رابطہ کیا ہے۔
ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے متعلق دوسرا واقعہ
یہ واقعہ اس لیے بھی توجہ کا باعث بنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں غیر ملکی خواتین سے متعلق جنسی تشدد کا ایک اور مقدمہ بھی سامنے آ چکا ہے۔
رواں سال جون میں نیدرلینڈز اور وینزویلا کی شہریت رکھنے والی دو خواتین کے مبینہ اغوا، حبس اور جنسی زیادتی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں ایف آئی آر کے مطابق متعدد افراد پر خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کرکے ایک مقام پر رکھنے، تاوان طلب کرنے اور جنسی تشدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تاہم دونوں واقعات الگ الگ مقدمات ہیں اور موجودہ آذربائیجانی خاتون کے کیس کی تفتیش اپنے دستیاب شواہد کی بنیاد پر جاری ہے۔
واقعے نے غیر ملکی شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دیے
لاہور پاکستان کا ایک بڑا کاروباری، تعلیمی اور سیاحتی مرکز ہے جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کاروبار، تعلیم اور دیگر مقاصد کے لیے آتے ہیں۔ کسی غیر ملکی شہری کے ساتھ مبینہ سنگین جرم کا واقعہ نہ صرف پولیس کی تفتیش بلکہ شہر میں غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کے انتظامات کے حوالے سے بھی توجہ کا باعث بنتا ہے۔
موجودہ مقدمے میں پولیس کی ذمہ داری اب صرف ملزمان تک پہنچنے تک محدود نہیں بلکہ واقعے سے متعلق تمام شواہد کو محفوظ کرنا، متاثرہ خاتون کے بیان اور طبی شواہد کو تفتیش کا حصہ بنانا اور مقدمے کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا بھی اہم مرحلہ ہے۔
تفتیش کے اہم مراحل
مقدمے میں اب متاثرہ خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ ہونے کے بعد تفتیشی حکام کے لیے دیگر شواہد کو اس بیان سے ملانا اہم ہوگا۔ اس میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی، ممکنہ سی سی ٹی وی ریکارڈ، موبائل فونز اور دیگر تکنیکی شواہد، طبی رپورٹ اور مشتبہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات شامل ہو سکتی ہیں۔
پولیس نے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے جبکہ حراست میں لیے گئے افراد سے بھی تفتیش جاری ہے۔
مقدمے میں نامزد یا مشتبہ افراد کے خلاف الزامات اس وقت تک حتمی جرم ثابت نہیں ہوتے جب تک عدالت میں شواہد کی بنیاد پر قانونی فیصلہ نہ ہو۔ اس لیے کیس کی آئندہ پیش رفت میں پولیس تفتیش، فرانزک اور طبی شواہد، متاثرہ خاتون کے عدالتی بیان اور دیگر دستیاب ثبوت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
لاہور پولیس کے لیے یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ متاثرہ خاتون غیر ملکی شہری ہیں اور معاملے کی شفاف، قانون کے مطابق اور میرٹ پر تفتیش نہ صرف انصاف کے تقاضوں بلکہ پاکستان میں آنے والے غیر ملکی شہریوں کے اعتماد کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ فی الحال پولیس کی کارروائی جاری ہے اور مقدمے میں مزید پیش رفت تفتیش مکمل ہونے اور عدالت کے سامنے شواہد پیش کیے جانے کے بعد سامنے آئے گی۔



