پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

بلوچستان میں ہوٹل دھماکا، جانی نقصان نہیں ہوا؛ پولیس کا سرچ آپریشن جاری

پولیس کے مطابق ایک شخص اس وقت جاں بحق ہوا جب موٹر سائیکل میں نصب مبینہ آئی ای ڈی اس وقت پھٹ گئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع دُکی میں ایک ہوٹل میں ہونے والے دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات اور نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے وقت ہوٹل کے اندر کوئی شخص موجود نہیں تھا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایس پی بخش کے مطابق دھماکا ایسے وقت پیش آیا جب ہوٹل کے اندر کوئی موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بم ڈسپوزل اور دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت سے شواہد کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکے میں کس نوعیت کا مواد استعمال ہوا اور واقعے کے پس پردہ محرکات کیا تھے۔

ایس پی بخش نے بتایا کہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اطراف کے علاقوں کی تلاشی لی جا رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ مشتبہ شخص یا مزید خطرے کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دھماکے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی۔

واقعے کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کے اطراف آمدورفت محدود کر دی، جبکہ شواہد کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں کسی فرد یا گروہ کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔

بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران آئی ای ڈی اور دیگر نوعیت کے دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں شہریوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دُکی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ماضی کے ایسے واقعات کے بعد پولیس اور سیکیورٹی ادارے عموماً سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کرتے رہے ہیں۔

دُکی میں اس سے قبل آئی ای ڈی دھماکا

اس سے قبل 30 جون کو ضلع دُکی کی تحصیل لونی میں ایک گاڑی آئی ای ڈی کی زد میں آ گئی تھی، جس کے نتیجے میں تین بھائی جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب چاروں افراد زرعی کام کے سلسلے میں کلی بختیار خان کے قریب ایک ندی سے گزر رہے تھے۔ گاڑی کو مبینہ طور پر سڑک یا گزرگاہ میں نصب دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور واقعے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دیہی علاقوں میں نقل و حرکت کے دوران شہریوں کو درپیش خطرات پر بھی توجہ مرکوز کی۔

اورماڑہ میں بھی آئی ای ڈی دھماکا

اس سے قبل 25 جون کو ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بھی آئی ای ڈی دھماکے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص اس وقت جاں بحق ہوا جب موٹر سائیکل میں نصب مبینہ آئی ای ڈی اس وقت پھٹ گئی جب وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کی تھیں۔ حکام نے واقعے کے محرکات اور دھماکا خیز مواد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

تازہ واقعے کے بعد بھی پولیس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور سرچ آپریشن مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button