انٹرٹینمینٹتازہ ترین

پیرس فیشن ویک کا آغاز، نئے ڈیزائنرز اور عالمی فیشن ہاؤسز کی توجہ کا مرکز

Vaccarello کے دور میں Saint Laurent نے اپنی شناخت کو جدید اور پُرکشش انداز میں برقرار رکھا اور عالمی لگژری مارکیٹ میں برانڈ کی نمایاں موجودگی قائم رہی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پیرس: پیرس ویمنز فیشن ویک کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں دنیا کے معروف فیشن ہاؤسز کے ساتھ ابھرتے اور نئے ڈیزائنرز بھی موسمِ بہار و گرما 2027 کی نئی کلیکشنز پیش کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ فیشن ویک میں روایتی یورپی فیشن کے ساتھ افریقی اور متبادل ثقافتی جمالیات کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

پیرس فیشن ویک کے آفیشل پروگرام کا آغاز جنوبی افریقہ کے معروف برانڈ MaXhosa Africa کے شو سے ہوا، جو پہلی مرتبہ اس عالمی فیشن ایونٹ کے سرکاری شیڈول کا حصہ بنا ہے۔ برانڈ کے بانی لادوما نگزوکولو (Laduma Ngxokolo) نے اپنی ڈیزائننگ میں جنوبی افریقہ کی ثقافت اور ژوسا (Xhosa) عوام کی روایات کو جدید فیشن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

67 کیٹ واک شوز، درجنوں دیگر تقریبات

موسمِ بہار و گرما 2027 کی کلیکشنز کی نمائش کے لیے پیرس فیشن ویک کے دوران مجموعی طور پر 67 کیٹ واک شوز منعقد ہوں گے۔ اس کے علاوہ متعدد فیشن برانڈز نجی نمائشوں، پریزنٹیشنز اور خصوصی تقریبات کے ذریعے اپنی نئی کلیکشنز متعارف کرائیں گے۔

پیرس کو عالمی فیشن کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں ہر سیزن میں فیشن ڈیزائنرز، خریدار، ماڈلز، فیشن ایڈیٹرز، میڈیا نمائندگان اور عالمی شخصیات بڑی تعداد میں جمع ہوتی ہیں۔ اس لیے پیرس فیشن ویک محض ملبوسات کی نمائش نہیں بلکہ عالمی فیشن اور لگژری مارکیٹ کے رجحانات کا بھی اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

Dior اور Saint Laurent کی شوز پر نظریں

فیشن ویک کے ابتدائی دنوں میں عالمی سطح پر معروف فیشن ہاؤسز بھی اپنی نئی کلیکشنز پیش کریں گے۔ Christian Dior اور Saint Laurent کے شوز خاص طور پر توجہ کا مرکز بننے کی توقع ہے۔

Saint Laurent کے لیے اس مرتبہ کا شو اضافی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ فیشن حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ بیلجیئن ڈیزائنر Anthony Vaccarello، جو تقریباً ایک دہائی سے برانڈ کی تخلیقی سمت کی قیادت کر رہے ہیں، شاید مستقبل میں اس ذمہ داری سے الگ ہوجائیں۔ تاہم کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے حتمی فیصلہ یا باضابطہ اعلان ہی قابلِ اعتماد بنیاد تصور ہوگا۔

Vaccarello کے دور میں Saint Laurent نے اپنی شناخت کو جدید اور پُرکشش انداز میں برقرار رکھا اور عالمی لگژری مارکیٹ میں برانڈ کی نمایاں موجودگی قائم رہی۔

MaXhosa Africa کی عالمی فیشن میں پیش قدمی

پیرس فیشن ویک کے آفیشل پروگرام میں MaXhosa Africa کی شمولیت افریقی فیشن کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

Laduma Ngxokolo نے ایسے ڈیزائن تیار کرنے پر توجہ دی ہے جن میں ژوسا ثقافت، روایتی رنگوں، نقش و نگار اور دستکاری کے عناصر کو جدید فیشن کے تقاضوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ برانڈ نے خاص طور پر بنا ہوا لباس اور مخصوص ثقافتی ڈیزائن کے ذریعے عالمی فیشن مارکیٹ میں اپنی شناخت بنائی ہے۔

A model presents a creation of Maxhosa By Laduma on the catwalk on the second day of the Cape Town International Fashion Week, on April 12, 2019, in Cape Town. – Maxhosa By Laduma was founded by Laduma Ngxokolo, an innovative textile and knitwear designer that by infusing a strong Xhosa (Ethnic group and language) identity into his garments, combines traditional Xhosa aesthetics with modern looks. In 2015, he won the Vogue Italia Scouting for Africa prize to showcase his collections at the Palazzo Morando Show in Milan, Italy. (Photo by RODGER BOSCH / AFP) (Photo credit should read RODGER BOSCH/AFP via Getty Images)

پیرس کے مرکزی فیشن کیلنڈر میں اس کی موجودگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی فیشن انڈسٹری میں یورپی اور امریکی مراکز کے علاوہ افریقی ڈیزائنرز اور ثقافتی جمالیات کو بھی زیادہ نمایاں جگہ مل رہی ہے۔

Matieres Fecales کی منفرد شناخت

کینیڈا کا برانڈ Matieres Fecales بھی پیرس میں اپنی نئی کلیکشن پیش کرنے والا ہے۔ یہ برانڈ اپنے غیر روایتی اور تجرباتی ڈیزائن کے باعث فیشن کی دنیا میں الگ شناخت رکھتا ہے۔

اس کی ڈیزائننگ روایتی خوبصورتی کے تصورات سے ہٹ کر زیادہ تجرباتی اور بصری طور پر نمایاں انداز اختیار کرتی ہے۔ متعدد معروف شخصیات بھی اس برانڈ کے ملبوسات پہن چکی ہیں، جس کے باعث اسے عالمی فیشن اور پاپ کلچر میں مزید شناخت ملی۔

لگژری مارکیٹ کو کاروباری چیلنجز کا سامنا

پیرس فیشن ویک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب عالمی لگژری فیشن انڈسٹری کو کاروباری دباؤ اور صارفین کے بدلتے رجحانات کا سامنا ہے۔

کووڈ-19 کے بعد عالمی معیشت کے دوبارہ کھلنے پر لگژری مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ تاہم 2023 کے بعد عالمی لگژری مارکیٹ کی رفتار میں کمی اور استحکام کے آثار سامنے آئے۔ چین سمیت بعض بڑی مارکیٹوں میں صارفین کے اخراجات میں تبدیلی، معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی نے فیشن برانڈز کے لیے کاروباری ماحول کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایسے حالات میں بڑے فیشن ہاؤسز کے لیے نئی کلیکشنز کے ذریعے صارفین کی توجہ برقرار رکھنا، نوجوان خریداروں تک رسائی حاصل کرنا اور اپنی برانڈ ویلیو کو برقرار رکھنا اہم چیلنج بن چکا ہے۔

Chanel کی نئی سمت بھی توجہ کا مرکز

اس مشکل کاروباری ماحول کے باوجود بعض بڑے برانڈز اپنی نئی تخلیقی حکمت عملی کے باعث خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

Chanel میں ڈیزائنر Matthieu Blazy کی آمد کے بعد برانڈ کی نئی تخلیقی سمت کو فیشن حلقوں میں نمایاں توجہ ملی ہے۔ بعض بڑے بوتیکس کے باہر صارفین کی قطاریں بھی اس بات کی علامت کے طور پر دیکھی گئیں کہ معروف فیشن برانڈز اب بھی صارفین میں مضبوط کشش رکھتے ہیں، اگرچہ مجموعی لگژری مارکیٹ کو مختلف معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

عالمی شخصیات کی شرکت

پیرس فیشن ویک کی ایک خاص روایت عالمی شوبز، فلم اور موسیقی کی شخصیات کی شرکت بھی ہے۔ گزشتہ سیزنز میں Margot Robbie، Nicole Kidman، Kim Kardashian، Jennifer Lawrence، Rosalía، Zendaya اور Anne Hathaway سمیت متعدد معروف شخصیات فیشن شوز میں شریک ہوچکی ہیں۔

ان شخصیات کی موجودگی فیشن ہاؤسز کے لیے محض تشہیر تک محدود نہیں رہتی بلکہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا اور عالمی پاپ کلچر میں نئی کلیکشنز کی رسائی کو بھی بڑھاتی ہے۔

ثقافت، جدت اور کاروبار کا امتزاج

موجودہ پیرس فیشن ویک میں ایک طرف Dior اور Saint Laurent جیسے تاریخی فیشن ہاؤسز عالمی لگژری فیشن کی روایتی طاقت کی نمائندگی کر رہے ہیں تو دوسری جانب MaXhosa Africa جیسے برانڈز عالمی فیشن میں نئے ثقافتی اور جغرافیائی اثرات متعارف کرا رہے ہیں۔

موسمِ بہار و گرما 2027 کی کلیکشنز کے ذریعے ڈیزائنرز صرف نئے ملبوسات اور رنگوں کے رجحانات ہی پیش نہیں کر رہے بلکہ ثقافتی شناخت، جدید جمالیات، پائیداری، صارفین کے بدلتے ذوق اور عالمی فیشن مارکیٹ کے مستقبل سے متعلق اپنے تصورات بھی سامنے لا رہے ہیں۔

پیرس فیشن ویک کے آئندہ دنوں میں بڑے فیشن ہاؤسز اور نئے ڈیزائنرز کی مزید کلیکشنز سامنے آنے کے ساتھ یہ ایونٹ عالمی فیشن انڈسٹری کے نئے رجحانات اور آئندہ سیزن کے تجارتی امکانات کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button