کاروباراہم خبریں

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان EFF اور موسمیاتی پروگرام کے جائزوں پر باضابطہ مذاکرات شروع

کامیاب جائزوں سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت کی راہ ہموار ہونے کا امکان، مالیاتی نظم و ضبط، سرکاری اداروں اور صحت و تعلیم کے اخراجات سمیت متعدد امور زیرِ بحث

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ مذاکرات کی کامیاب تکمیل پاکستان کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت کی راہ ہموار کرسکتی ہے، جس میں EFF کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی پروگرام کے تحت تقریباً 200 ملین ڈالر شامل ہوں گے۔

آئی ایم ایف مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی نگرانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور متعلقہ اقتصادی ٹیم کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف مشن سے ابتدائی ملاقات

وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ابتدائی یا ’کک آف‘ اجلاس کیا، جس میں EFF کے چوتھے جائزے اور RSF کے تیسرے جائزے سے متعلق امور پر بات چیت کا آغاز ہوا۔

یہ جائزہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان نے گزشتہ جائزوں کے دوران مالیاتی استحکام، بنیادی بجٹ سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی اور بعض ساختی اصلاحات میں پیش رفت کی ہے، تاہم متعدد اصلاحاتی اہداف اب بھی حکومتی توجہ کا مرکز ہیں۔

آئی ایم ایف نے مئی 2026 میں پاکستان کے EFF کے تیسرے اور RSF کے دوسرے جائزے مکمل کیے تھے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور RSF کے تحت تقریباً 220 ملین ڈالر کی رقم دستیاب ہوئی تھی۔ اس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ (IMF)

7 ارب ڈالر کا پروگرام اور موجودہ جائزہ

پاکستان کا موجودہ EFF پروگرام ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ 37 ماہ پر محیط پروگرام ہے جس کا مقصد مالیاتی اور بیرونی شعبے کے استحکام کو مضبوط کرنا، ٹیکس بیس وسیع کرنا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور پائیدار معاشی نمو کے لیے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔

آئی ایم ایف کے پروگرام شیڈول کے مطابق EFF کا چوتھا جائزہ ستمبر 2026 میں ہونا طے تھا اور اس میں جون 2026 تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا ہے۔

تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ معاونت

موجودہ مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دونوں جائزوں کی کامیاب تکمیل کے بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پاکستان کے لیے نئی مالی معاونت کی سفارش کی جاسکتی ہے۔

موجودہ پروگرام کے تحت EFF سے تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ RSF سے تقریباً 200 سے 220 ملین ڈالر کی معاونت متوقع ہے۔ حتمی رقم اور ادائیگی کا فیصلہ مذاکرات، عملے کی سطح پر معاہدے اور بعد ازاں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ گزشتہ جائزے میں EFF کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور RSF کے تحت تقریباً 220 ملین ڈالر جاری ہوئے تھے۔

بنیادی بجٹ سرپلس پر توجہ

مذاکرات میں پاکستان کی مالیاتی کارکردگی اہم موضوع ہوگی۔ آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ جائزے میں پاکستان کی مالیاتی کارکردگی کو مضبوط قرار دیا گیا تھا اور FY2026 کے لیے جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے بنیادی بجٹ سرپلس کے ہدف کی تکمیل متوقع تھی۔

موجودہ جائزے میں بھی حکومت کے محصولات، اخراجات، صوبائی مالیاتی پوزیشن، سرکاری شعبے کے مالی معاملات اور مجموعی بجٹ نظم و ضبط کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

بجٹ کے اعداد و شمار اور شفافیت کا معاملہ

مذاکرات کے دوران گزشتہ مالی سال کے مالیاتی اعداد و شمار میں مبینہ تضادات بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق مالیاتی حسابات میں بڑے شماریاتی فرق نے شفافیت کے معاملے کو اہم بنا دیا ہے۔

ذرائع کی جانب سے 853 ارب روپے کے شماریاتی تضاد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی حتمی نوعیت اور آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر کیا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے، یہ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔

صحت اور تعلیم کے اخراجات بھی اہم نکتہ

مذاکرات میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے مختص اخراجات بھی اہم معاملہ بن سکتے ہیں۔

حکومت کو پروگرام کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر سماجی شعبوں، بالخصوص صحت اور تعلیم، کے اخراجات بڑھانے سے متعلق اہداف کا سامنا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانچوں حکومتوں کو مجموعی طور پر 3.47 ٹریلین روپے خرچ کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم تقریباً 370 ارب روپے کا فرق رہ گیا۔

آئی ایم ایف نے گزشتہ جائزے میں بھی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے اخراجات کو اہم ترجیح قرار دیا تھا۔ فنڈ کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے مالی استحکام کے ساتھ انسانی سرمائے اور سماجی تحفظ پر مناسب اخراجات ضروری ہیں۔

سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات

سرکاری ملکیتی ادارے (SOEs) بھی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے پہلے ہی پاکستان پر زور دیا ہے کہ سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم ہو اور معیشت میں مسابقت اور نجی سرمایہ کاری کے امکانات بہتر ہوں۔

آئی ایم ایف کے مئی 2026 کے جائزے میں SOEs کی اصلاح، نجکاری، کاروباری ماحول میں بہتری اور غیر ضروری ضوابط کے خاتمے کو آئندہ اصلاحاتی ترجیحات میں شامل کیا گیا تھا۔

RSF کے تحت موسمیاتی اصلاحات

EFF کے ساتھ ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کا جائزہ بھی موجودہ مذاکرات کا حصہ ہے۔

یہ پروگرام پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات میں مدد فراہم کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق RSF کے تحت پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال، موسمیاتی خطرات سے متعلق مالی معلومات اور سرکاری سرمایہ کاری میں موسمیاتی عوامل کو شامل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔

موجودہ جائزے میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی اثرات کو شامل کرنے، آفات سے متعلق مالیاتی حکمت عملی اور وفاقی و صوبائی سطح پر قدرتی آفات کے لیے مالیاتی رابطہ کاری جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور پاکستانی معیشت

مذاکرات کے دوران عالمی اور علاقائی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر اثرات بھی اہم رہیں گے۔ گزشتہ جائزے میں آئی ایم ایف نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی توانائی قیمتوں، افراطِ زر، بیرونی کھاتوں اور پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا تھا۔

پاکستان کے لیے خطے میں کشیدگی بالخصوص تیل کی عالمی قیمتوں، درآمدی بل، زرمبادلہ کی ضروریات اور افراطِ زر کے حوالے سے اہم ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی گزشتہ جائزے میں کہا تھا کہ عالمی تنازعات سے پیدا ہونے والے جھٹکے پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔

حکومت کا مؤقف اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ریلیف

وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور کم آمدنی والے طبقے کو درپیش مشکلات پر بات کی تھی۔

حکومت نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے 100 روپے فی لیٹر تک ہدفی رعایت کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس اقدام کے معاشی اور مالی اثرات بھی پروگرام کے تناظر میں زیرِ بحث آسکتے ہیں۔

مذاکرات کا اگلا مرحلہ

موجودہ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے جون 2026 تک کے معاشی اور مالیاتی اعداد و شمار، اصلاحاتی اقدامات اور پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ اس کے بعد آئی ایم ایف مشن اپنی جائزہ رپورٹ تیار کرے گا۔

اگر دونوں فریق تمام اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کرلیتے ہیں تو اسٹاف لیول ایگریمنٹ سامنے آسکتا ہے، جس کے بعد معاملہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

پاکستان کے لیے موجودہ جائزے کی کامیابی محض نئی مالی معاونت کے حصول تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس سے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے ملک کی پالیسی ساکھ، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحاتی عمل کے تسلسل کا بھی اظہار ہوگا۔

معاشی استحکام کے بعد اگلا مرحلہ

آئی ایم ایف نے اپنے حالیہ جائزوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال میں استحکام اور اعتماد کی بحالی کو تسلیم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف قلیل مدتی استحکام کافی نہیں اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

اب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ مالیاتی اہداف کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں، توانائی، ٹیکس نظام، سماجی شعبوں، موسمیاتی لچک اور معاشی نظم و نسق سے متعلق اصلاحات پر کس حد تک پیش رفت ہوئی ہے۔

اگر دونوں جائزے کامیابی سے مکمل ہوگئے تو پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مزید معاونت تک رسائی مل سکتی ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں حکومت کے لیے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو طویل مدتی اور پائیدار اقتصادی نمو میں تبدیل کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button