صحتتازہ ترین

صحت مند دل، صحت مند پنجاب ہمارا عزم، دل کے امراض سے بچاؤ کیلئے طرزِ زندگی میں تبدیلی ضروری: مریم نواز

عالمی یومِ قلب پر وزیراعلیٰ پنجاب کا پیغام، تمام اضلاع میں کیتھ لیب اور کارڈیالوجی مراکز کے قیام کا عزم، دل کے مریضوں کو مفت ادویات، اسٹنٹ اور بائی پاس کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انصار ذاہد سیال-پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عالمی یومِ قلب کے موقع پر دل کے امراض سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولتوں کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صحت مند دل، صحت مند پنجاب ہمارا عزم ہے۔” انہوں نے کہا کہ دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے احتیاط علاج سے بہتر ہے، اس لیے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے عالمی یومِ قلب کے موقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امراضِ قلب کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں طبی عملہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

امراضِ قلب سے بچاؤ کیلئے طرزِ زندگی میں تبدیلی ضروری

مریم نواز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ دل کو صحت مند رکھنے کے لیے صرف بیماری کی صورت میں علاج کافی نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر اور صحت مند معمولات زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات کو فروغ دیں اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اپنی خوراک اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دیں۔

وزیراعلیٰ نے بالخصوص طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جنک فوڈ اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں اور جسمانی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

پنجاب کے تمام اضلاع میں کیتھ لیبز قائم کرنے کا عزم

وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیبارٹریز اور کارڈیالوجی سینٹرز قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے چھ اضلاع میں قائم کیتھ لیبز کے ذریعے اب تک امراضِ قلب میں مبتلا 7 ہزار 294 مریضوں کے کامیاب طبی پروسیجرز کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق جہلم، جھنگ، وہاڑی، قصور، میانوالی اور بہاولنگر میں قائم کیتھ لیبز میں 4 ہزار 448 مریضوں کی انجیو گرافی جبکہ 2 ہزار 763 افراد کی انجیو پلاسٹی کی جا چکی ہے۔

یہ سہولتیں اس مقصد کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں کہ دل کے مریضوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں یا مخصوص مراکز تک طویل سفر نہ کرنا پڑے اور ضلعی سطح پر ہی ضروری طبی سہولتیں دستیاب ہوں۔

قصور میں عارضی پیس میکر کی کامیاب تنصیب

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور کی کیتھ لیب میں دو مریضوں کو کامیابی سے عارضی پیس میکر بھی لگائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر جدید طبی سہولتوں کی فراہمی سے دل کے مریضوں کو بروقت علاج میسر آسکے گا اور پیچیدہ طبی مسائل سے نمٹنے کی مقامی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید 15 اضلاع میں کیتھ لیبز قائم کرنے کا منصوبہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبے میں مزید کیتھ لیبز قائم کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق 8 اضلاع میں نومبر تک جبکہ مزید 7 اضلاع میں فروری تک کیتھ لیبز قائم کی جائیں گی۔

اس منصوبے کا مقصد پنجاب کے مختلف علاقوں میں امراضِ قلب کے علاج کی سہولتوں کو مرحلہ وار وسیع کرنا اور ضلعی سطح پر جدید کارڈیالوجی خدمات تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

مریم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کے ہر شہری کو دل کے امراض کے علاج کی سہولت اس کے قریب ترین ممکنہ مرکز پر فراہم کرنے کے لیے طبی انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

دل کے مریضوں کیلئے مفت ادویات، اسٹنٹ اور بائی پاس

وزیراعلیٰ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت صوبے کے تمام دل کے ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دل کے مریضوں کے لیے مفت ادویات، مفت اسٹنٹ اور مفت بائی پاس کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علاج کی لاگت بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، اس لیے دل کے مریضوں کو ضروری طبی سہولتوں کی فراہمی میں مالی مشکلات کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتالوں میں مفت اسکریننگ

وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب حکومت کے کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتالوں میں شہریوں کی بلڈ پریشر اور شوگر کی مفت اسکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔

بلڈ پریشر اور ذیابیطس سمیت بعض ایسے عوامل کی بروقت نشاندہی اہم سمجھی جاتی ہے جو دل کی صحت سے متعلق خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے بنیادی سطح پر اسکریننگ کی سہولت فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ہر ڈویژن میں جدید کارڈیک سینٹرز قائم کرنے کا اعلان

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں جدید ترین کارڈیک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

ان مراکز کا مقصد صوبے میں دل کے امراض کے علاج کے لیے جدید طبی سہولتوں کا دائرہ وسیع کرنا اور ایسے مریضوں کو بہتر علاج فراہم کرنا ہے جنہیں خصوصی کارڈیالوجی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کارڈیک مراکز کے قیام اور موجودہ سہولتوں کی بہتری کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

خواتین میں امراضِ قلب سے متعلق آگاہی پر زور

وزیراعلیٰ نے خواتین میں دل کے امراض سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے خصوصی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں بھی دل کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنا ضروری ہے اور انہیں علامات، خطرے کے عوامل، بروقت طبی معائنے اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ خواتین کے لیے امراضِ قلب سے متعلق آگاہی پروگراموں کو مؤثر انداز میں ترتیب دیا جائے۔

سکولوں میں بچوں کی ہارٹ ہیلتھ اور جسمانی سرگرمیوں کا پروگرام

مریم نواز شریف نے سکولوں میں بچوں کی دل کی صحت اور جسمانی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی پروگرام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ صحت مند عادات کا فروغ بچپن ہی سے شروع کیا جانا چاہیے۔ بچوں کو متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت سے آگاہ کرنا مستقبل میں بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیمی ادارے بچوں میں صحت مند عادات پیدا کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

عالمی یومِ قلب کا پیغام: علاج کے ساتھ احتیاط بھی ضروری

عالمی یومِ قلب کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کا پیغام بنیادی طور پر دل کے امراض سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں میں توسیع پر مرکوز رہا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے شہریوں کو بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان سے بچاؤ کے طریقوں سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے ضلعی سطح پر کارڈیالوجی سہولتوں، مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولتوں کو وسعت دینے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کے ہر شہری کو دل کے امراض سے محفوظ اور صحت مند زندگی فراہم کرنے کے لیے حکومت طبی سہولتوں میں مزید بہتری اور عوامی آگاہی کے اقدامات جاری رکھے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت مند دل ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اور دل کے امراض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں اور شہریوں کو مشترکہ طور پر احتیاطی اقدامات اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button