
چکوال کا وہ شاعر جو چکوال کو نہ بھول سکا(طالبؔ چکوالی)….علی عباس کاظمی
لکڑی کے نقش و نگار سے مزین بلند دروازہ، دیوان خانہ، اندرونی صحن، بیری کا درخت اور اردگرد کے کمرے اس گھر کو ایک پورے عہد کی علامت بناتے تھے۔
کچھ لوگ ایک شہر میں پیدا ہوتے ہیں، وہیں رہتے ہیں اور پھر وقت انہیں شہر سے دور لے جاتا ہے مگر ان کے دل سے وہ شہر کبھی دور نہیں ہوتا۔ طالب چکوالی بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کی زندگی کو محض ایک شاعر، وکیل یا ادیب کی زندگی کے عنوان سے بیان کر دینا شاید اس ہمہ رنگ داستانِ حیات کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔ ان کو اپنی زندگی میں کئی نشیب و فراز کا سامنا پڑا۔ بچپن ہی میں والدین کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ تعلیم کے میدان میں لیکن نمایاں مقام حاصل کیا۔ وکالت کی، کاروبار کیا، ادب کی محفلیں آباد کیں اور پھر تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز زمانے میں اپنا وطن چھوڑنا پڑا مگر زندگی کے آخری برسوں تک اپنے اندر ایک شہر کو زندہ رکھا۔ وہ شہر چکوال تھا، جس سے دور جا کر بھی وہ اس سے رشتہ توڑ نہ سکے۔

طالب چکوالی کا اصل نام منوہر لال کپور تھا۔ روایات کے مطابق ان کا خاندان بلخ و بخارا سے پشاور آیا اور محلہ کریم پورہ میں آباد ہوا۔ سکھ دور حکومت میں خاندان کے بزرگ چکوال آ بسے اور رفتہ رفتہ یہ خاندان چکوال کے معزز زمیندار خاندانوں میں شمار ہونے لگا۔ ان کے دادا لالہ ایشرداس کپور صاف گوئی، انکساری، پرہیزگاری اور سخاوت کے باعث علاقے میں عزت رکھتے تھے۔ چکوال کے مغربی حصے میں پشاوری کپوروں کا محلہ تھا، جہاں ان کا وسیع مکان یا حویلی واقع تھی۔ لکڑی کے نقش و نگار سے مزین بلند دروازہ، دیوان خانہ، اندرونی صحن، بیری کا درخت اور اردگرد کے کمرے اس گھر کو ایک پورے عہد کی علامت بناتے تھے۔
اسی گھر میں 13 مئی 1900 کو لالہ مکند کپور کے ہاں منوہر لال پیدا ہوئے۔ لیکن زندگی نے اس بچے کو بچپن کی وہ سہولت بھی نہ دی جو ایک گھر کی خوشیوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ ابھی وہ ایک برس کے بھی نہ ہوئے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور چند ہی ماہ بعد والدہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یوں زندگی کے آغاز ہی میں وہ یتیمی کی ایسی خاموش دنیا میں داخل ہوئے جہاں ماں کی آغوش اور باپ کا سایہ دونوں ماضی بن چکے تھے۔ ان کے دادا نے اس محرومی کو اپنی محبت سے بھرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بچے کو صرف پالا نہیں بلکہ اسے اپنی شفقت کا مرکز بنا لیا۔
گھر کے ماحول میں اگرچہ زمینداری اور لین دین کے وسیع معاملات تھے اور دور دور سے لوگ آتے جاتے تھے، مگر چھوٹے منوہر لال کے لیے ان سب کے درمیان ایک الگ دنیا آباد تھی۔ان کے بچپن کی ایک یاد خاص طور پر انسانی رشتوں کی وسعت کا احساس دلاتی ہے۔ ان کے دادا نے گھر سے ملحق حویلی میں ایک مسلمان کشمیری خاندان کو آباد کیا تھا۔ اس خاندان کی ایک عورت نے اپنے بچے کے ساتھ ننھے منوہر لال کو بھی دودھ پلایا۔ وقت گزرا، وہ خاندان کہیں اور چلا گیا مگر اس ابتدائی محبت کی یاد طالب چکوالی کے اندر محفوظ رہی۔ بعد میں جب وہ وکیل بن کر چکوال واپس آئے تو انہوں نے اس خاندان کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ شاید یہی زندگی کا ایک عجیب سبق تھا کہ بعض رشتے خون سے نہیں بنتے اور بعض لوگ بچھڑ کر بھی انسان کی یاد میں عمر بھر آباد رہتے ہیں۔
1907ء میں ان کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز چکوال کے ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول سے ہوا۔ ایک عام طالب علم کے لیے دس برس کی تعلیمی مسافت بظاہر معمولی دکھائی دے مگر طالب چکوالی نے اس راستے کو غیر معمولی ذہانت اور محنت سے طے کیا۔ 1917 میں انہوں نے انٹرنس یعنی دسویں کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا۔ امتحان کے لیے راولپنڈی جانا پڑا۔ چکوال میں ریل کا نیا نیا آغاز ہوا تھا اور اس سے پہلے سفر کے لیے تانگے اور دشوار کچی سڑکیں استعمال ہوتی تھیں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے کتابوں سے باہر کی دنیا سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ بدلتا ہوا چکوال بھی ان کی تربیت کا ایک اہم حصہ تھا۔ اس زمانے میں چکوال میں بیت کا رواج تھا، مختلف شعری کتابیں مقبول تھیں اور نوجوان منوہر لال نے بھی چوری چھپے بیت لکھنے شروع کر دیے تھے۔ شاید یہ وہ لمحہ تھا جب ان کے اندر کا شاعر پہلی بار اپنے آپ کو پہچان رہا تھا۔اعلیٰ تعلیم کے لیے منوہر لال لاہور پہنچے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے 1921 میں انگریزی میں بی اے آنرز کیا اور 1923 میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ ان کے تمام امتحانات میں نمایاں کامیابی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ادب اور شاعری کے ساتھ ان کا ذہن علمی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی مضبوط تھا۔
قانون کے امتحانات میں پنجاب بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا ان کی غیر معمولی تعلیمی صلاحیت کا ثبوت تھا۔ لیکن منوہر لال نے تعلیم کو محض روزگار کے حصول تک محدود نہ رکھا۔ وہ علم کو زندگی کے وسیع تر شعور سے جوڑتے گئے اور یہی وجہ ہے کہ بعد میں ان کی تحریروں میں ادبی ذوق کے ساتھ زندگی کا مشاہدہ بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
1923ء میں چکوال واپس آ کر انہوں نے وکالت شروع کی۔ اگلے تیرہ برس اسی شہر میں گزرے۔ عدالت، مقدمات، مقامی سیاست، سماجی تعلقات اور روزمرہ زندگی کے تجربات نے ان کے مشاہدے کو مزید وسعت دی۔ اسی زمانے میں انہوں نے چکوال میں ’’بزم ادب‘‘ قائم کی اور اس کے سیکرٹری کے طور پر ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ عدالت کے سنجیدہ ماحول کے ساتھ ساتھ شعر و ادب سے بھی ان کا تعلق گہرا ہوتا گیا۔
1936ء کے بعد انہوں نے کاروبار کا رخ کیا اور راولپنڈی کو مرکز بنایا، جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سمیت مختلف مقامات پر ان کے کاروباری دفاتر رہے۔چکوال چھوڑنا ایک کٹھن فیصلہ تھا۔ یہ اس شخص کے لیے اپنی زندگی کے ایک پورے باب سے دوری تھی جس نے تیرہ برس وکالت کی، ادبی محفلیں قائم کیں اور جس شہر میں اس کے بچپن کی یادیں محفوظ تھیں۔
دسمبر 1937ء میں راولپنڈی منتقل ہونے کے بعد منوہر لال عرف طالب چکوالی نے اپنے جذبات کو نظم میں یوں سمیٹا؎
وکالت چھوڑ دی، چکوال چھوڑا
یہ دیرینہ تعلق میں نے توڑا
محبت تھی کسی سے، تھی عداوت
بہت دلچسپ تھی لوکل سیاست
جہاں تیرہ برس کی تھی وکالت
میسر تھے جہاں اعزاز و ثروت
بِنا ڈالی جہاں ’’بزم ادب‘‘ کی
جہاں ذوق ادب کو زندگی دی
وہاں سے، ہاں اسی رشک چمن سے
اسی چکوال سے، پیارے وطن سے
یہاں آ کر ہوا پنڈی نواسی
وطن چھوڑا ہوا پردیس باسی
مگر بھولا نہیں اپنے وطن کو
کبھی بلبل بھی بھولا ہے چمن کو؟
مگر کچھ اور تھا چکوال، طالبؔ
خوشی کا دور تھا چکوال، طالبؔ
اسی دوران ان کا ادبی سفر بھی پھیلتا گیا۔ طالب چکوالی نے اردو اور انگریزی میں مضامین لکھے، نظم و نثر تخلیق کی اور ملک کے معتبر اخبارات و رسائل میں ان کی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔ کانپور کے معروف رسالے ’’زمانہ‘‘ میں ان کی ادبی موجودگی نمایاں رہی۔
انہوں نے پنجابی میں بھی نظمیں لکھیں اور ادبی سرگرمیوں سے مسلسل وابستہ رہے۔ چکوال کی ’’بزم ادب‘‘ کے بعد دِلی میں ’’ادبی سبھا‘‘ سے وابستگی نے ان کے ادبی دائرے کو مزید وسیع کر دیا۔ ہندوستان بھر کے اہل قلم اور اہل ذوق سے ملاقاتیں ہوئیں، مشاعروں میں شرکت ہوئی اور دِلی کی ادبی زندگی میں ان کی اپنی جگہ بنتی گئی۔ کئی ادبی حوالوں میں بھی انہیں اردو کے ان ادیبوں اور شاعروں میں شمار کیا گیا ہے جنہوں نے اردو ادب کی تشکیل میں حصہ لیا۔
مگر ادبی شہرت کے باوجود ان کے اندر کا انسان خلوت پسند رہا۔ وہ دِلی کے اہل ذوق کی محبت کو اپنی ذات کے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ شاید ایک غریب الدیار شاعر کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی تھی کہ اجنبی شہر اسے اجنبی نہ رہنے دے۔ مگر اس قبولیت کے باوجود دل میں ایک جگہ ایسی تھی جہاں دِلی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ وہ جگہ چکوال کی تھی۔اسی لیے وہ لکھتے ہیں؎
یاد آتے ہیں مجھے اپنے رفیقانِ وطن
میں بھی کیا اپنے رفیقانِ وطن کو یاد ہوں؟
پھر 1947ء آیا۔ برصغیر کی تاریخ ایک ایسے موڑ پر پہنچی جہاں لاکھوں لوگوں کی طرح طالب چکوالی کی زندگی بھی یکسر بدل گئی۔ تقسیم کے بعد اگست 1947ء میں وہ دِلی پہنچے اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی۔ لیکن شہر بدلنے سے بھلا یادیں اور عادتیں کہاں بدلتی ہیں۔ دِلی ان کا مسکن تو بن گیا مگر چکوال ان کی یاد کا وطن رہا۔ اسی کیفیت کو انہوں نے نہایت درد مندی سے بیان کیا؎
ہنس ہنس کے پوچھتے ہیں دِلّی کے رہنے والے
تیری کہاں زمیں ہے، تیرا کہاں مکاں ہے
اے مہرباں عزیزو، اس کا جواب کیا دوں
یہ دکھ بھری کہانی ناقابل بیاں ہے
دِلی میں انہوں نے ادبی زندگی کو ترک نہیں کیا۔ ’’ادبی سبھا‘‘ کے کنوینئر کی حیثیت سے سرگرم رہے اور مختلف ادبی حلقوں میں شرکت کرتے رہے۔ ان کی تصانیف اور شعری مجموعوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ’’انوارِ حقیقت‘‘ 1931ء میں سامنے آئی۔ ’’برگِ سبز‘‘ میں 1923ء سے 1965ء تک کا کلام شامل بتایا گیا، جبکہ ’’برگِ زرد‘‘ میں 1965ء سے 1980ء تک کا کلام محفوظ ہوا۔
’’فوجی محبوبہ‘‘ ناول، ’’میری یادیں‘‘، ہندی میں ’’شردھا کے پشپ پتر‘‘ اور ’’برگِ صد برگ‘‘ بھی ان کی تصنیفی زندگی کے اہم حوالے ہیں۔
منوہر لال طالب چکوالی کی عمر بڑھتی رہی مگر چکوال ان کے اندر جوان ہی رہا۔ وہ یادوں میں اسی طرح زندہ رہا جیسے بچپن میں تھا۔ ان کی شاعری میں ماضی صرف گزرے ہوئے وقت کا نوحہ نہیں بلکہ شناخت کا ایک بنیادی حوالہ بن گیا۔ عمر کے آخری حصے میں ان کے کلام میں یہ احساس مزید گہرا ہو گیا کہ انسان کے گزر جانے کے بعد اس کی یادیں بھی اپنے ساتھ جڑی جگہوں کو زندہ رکھتی ہیں۔
ان کا شعری مجموعہ ’’نذرانہ‘‘ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یوگندر کمار کپور نے شائع کیا۔ جس میں 1980ء سے 1988ء تک کا غیر مطبوعہ کلام شامل کیا گیا۔
24 دسمبر 1988ء کو دِلی میں طالب چکوالی کی زندگی کا سفر اختتام کو جا پہنچا۔ مگر ان کی داستان کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے جانے کے بعد بھی چکوال ان کے لفظوں میں زندہ رہا۔ اپنی آخری تحریروں میں انہوں نے جس چکوال کو لفظوں میں سمیٹا، وہ آج بھی ان کے چکوال سے جڑی یادوں کا حصہ ہے۔ان کے اشعار میں یہی یقین ایک عجیب ادبی پیش گوئی کی طرح سامنے آتا ہے؎
ساحرِ وقت دکھائے گا کرشمہ اپنا
یادِ ماضی سے غمِ حال بھی جی اٹھے گا
جب کبھی کوئی مجھے یاد کرے گا طالبؔ
ساتھ میں میرے مِرا چکوال بھی جی اٹھے گا
طالب چکوالی کی زندگی کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے چکوال کو صرف یاد نہیں کیا، اسے اپنی یادوں اور اپنی شاعری کے ذریعے محفوظ کر دیا۔ان کی شاعری ان کی چکوال سے محبت کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے لیے چکوال ایک قصبہ، ایک گھر یا ایک جغرافیائی مقام نہیں تھا بلکہ بچپن، محرومی، تعلیم، جوانی، محبت، رفاقت اور شناخت کا مجموعہ تھا۔
وہ چکوال سے نکلے، راولپنڈی گئے، دِلی جا بسے، مگر ان کی شاعری نے اس سفر کے ہر پڑاؤ کے ساتھ چکوال کو جوڑے رکھا۔ شاید اسی لیے ایک شاعر کی زندگی ختم ہونے کے باوجود اس کا شہر اس کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔
طالبؔ چکوالی کی شاعری کے کچھ نمونے پیشِ خدمت ہیں ؎
کیسے کہیں کہ اُن کو بھی زندگی سے پیار
جو لوگ زندگی کے تقاضوں سے ڈر گئے
طالب کسی کی یاد میں جینا ہے زندگی
یہ کیا ہوا کہ غم نہ سہا اور مر گئے
٭٭٭٭٭
چھوٹے بڑے خداؤں کی اس ریل پیل میں
سب سے بڑے خدا کو کوئی پوچھتا نہیں
کہتا ہوں لاکھ تو بھی زمانے کے ساتھ چل
اس دل کا کیا کروں کہ میری مانتا نہیں
٭٭٭٭٭
طالبؔ آدمی تو اچھا ہے ، شاعر بھی کچھ برا نہیں وہ
جانے پھر یہ کیا چکر ہے ، بےچارا بدنام بہت ہے
٭٭٭٭٭
جانے کس رشکِ مسیحا کی ہے آمد آمد
جو مسیحا بھی نظر آتے ہیں بیماروں میں
مفت بکنے کو ہیں بے تاب ہزاروں یوسف
ہو نہ ہو کوئی زلیخا ہے خریداروں میں
٭٭٭٭٭
آنے لگا ہے خوف بہاروں کے نام سے
وہ زخم ہم نے دورِ بہاراں میں کھائے ہیں
طالبؔ نہ ان کو اشک ندامت کہے کوئی
حسرت نے یہ چراغ خوشی سے جلائے ہیں
٭٭٭٭٭
خدا رکھے رقیبوں کو کہ یہ ہیں زینتِ دامن
الجھنے میں مزہ آتا ہے ان سے خار کی صورت
٭٭٭٭٭
نظر آتا ہے یہ کشتی کنارے لگ نہیں سکتی
ڈبو دے گا جنوں طالب "ہماروں” اور "تمہاروں” کا
٭٭٭٭٭
زندگی بھی ہے ایک غزل طالبؔ
اس کے مقطع کو موت کہتے ہیں
اچھے اعمال سے بشر زندہ
اچھے اشعار یاد رہتے ہیں
٭٭٭٭٭
تڑپ رہے ہیں بیچارے جو بھوک سے طالبؔ
وہی بتائیں گے مر جانے میں خوشی کیا ہے


