
درآمدی ایندھن سے نجات اور توانائی کا تحفظ
مقررین کا کہنا تھا کہ درآمدی ایندھن کی قیمتوں اور دستیابی میں اس اتار چڑھاؤ کے براہ راست اثرات عام شہریوں، کاروباری طبقے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعت پر مرتب ہو رہے ہیں
رپورٹ:پیر مشتاق رضوی-ادارت جنوبی پنجاب
انڈس کنسورشیم کے تعاون سے ہیلپ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کوٹ مٹھن میں "درآمدی ایندھن سے نجات، توانائی کا تحفظ اور صاف ستھری نقل و حرکت یقینی بنانا” کے عنوان سے ایک جامع پبلک فورم کا انعقاد کیا گیا۔ اس فورم کا بنیادی مقصد ملک میں مہنگے درآمدی ایندھن پر بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنے، توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صاف ستھری نقل و حرکت کے فروغ کے لیے عملی پالیسی تجاویز مرتب کرنا تھا۔ فورم میں گرو گرین نیٹ ورک کی ممبر تنظیموں سمیت مقامی سیاسی و سماجی نمائندگان، وکلاء، صحافیوں، ماہرین تعلیم، ماحولیاتی کارکنوں، کسانوں، دریائی کمیونٹی، نوجوانوں اور قابل تجدید توانائی کے ماہرین و ڈویلپرز نے بھرپور شرکت کی۔فورم سے خطاب کرنے والے مقررین میں حمزہ کمال فرید ملک ضلعی رہنما پاکستان مسلم لیگ، چوہدری توصیف اکبر سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار راجن پور، سردار شمشاد احمد خان کورائی صدر پریس کلب، بختو بی بی صدر انڈس فورم ضلع راجن پور، جمشید فرید سومرو ایڈووکیٹ صدر ہیلپ فاؤنڈیشن، ملک زاہد فرید نمائندہ کسان، قیصر عباس نمائندہ دریائی کمیونٹی، نوجوان نمائندہ محمد عبداللہ ہیری ٹیج سکول اور دیگر شامل تھے۔ مقررین نے اس امر کی نشاندہی کی کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ری گیسیفائیڈ ایل این جی یعنی آر ایل این جی کی دستیابی میں کمی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی جس کے باعث حکومت کو رات کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی طرح فروری کے آخر سے مئی 2026 کے آغاز تک نقل و حمل کے شعبے میں بھی شدید معاشی دباؤ دیکھا گیا جب پٹرول کی قیمتوں میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ درآمدی ایندھن کی قیمتوں اور دستیابی میں اس اتار چڑھاؤ کے براہ راست اثرات عام شہریوں، کاروباری طبقے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعت پر مرتب ہو رہے ہیں اور یہی صورتحال بجلی کے شعبے میں ایک کھرب سڑسٹھ ارب روپے کے گردشی قرضے میں اضافے کا بڑا سبب بن رہی ہے۔فورم کے شرکاء نے متفقہ طور پر دو اہم پالیسی اقدامات پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ پہلا مطالبہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے کیا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے خصوصی رعایتی فنانسنگ پالیسی متعارف کرائی جائے تاکہ کمرشل بینک آسان شرائط پر قرضے فراہم کر سکیں۔ شرکاء نے زور دیا کہ اس پالیسی میں صرف نئی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری ہی نہیں بلکہ موجودہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو مقامی سطح پر برقی گاڑیوں میں تبدیل کرنے یعنی ریٹروفٹنگ، رکشوں اور رائیڈر نیٹ ورکس کو بجلی پر منتقل کرنے اور یونیورسٹی کے طلبہ بالخصوص نوجوان طالبات کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کو آسان بنانے کو ترجیح دی جائے۔ اس سے نہ صرف درآمدی پٹرول پر انحصار کم ہوگا بلکہ قابل تجدید توانائی سے چلنے والے چارجنگ انفراسٹرکچر کی جانب منتقلی بھی تیز ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔دوسرا اہم مطالبہ حکومت پاکستان سے کیا گیا کہ آر ایل این جی پر مبنی بجلی گھروں پر انحصار کو مرحلہ وار کم کیا جائے اور ان پلانٹس کو قبل از وقت ریٹائر کر کے متبادل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ فورم کے اعلامیے میں کہا گیا کہ درآمدی ایندھن پر خرچ ہونے والے سرکاری وسائل کو مقامی شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر منتقل کیا جائے۔ ان منصوبوں کو بیٹری اسٹوریج اور جدید ترسیلی و تقسیمی نظام یعنی گرڈ ماڈرنائزیشن کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ بجلی کی بہتر دستیابی، توانائی کا تحفظ اور طویل مدتی خود انحصاری یقینی بنائی جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ اگر مقامی قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے تو ملک کو توانائی کے شعبے میں زیادہ خود انحصار بنایا جا سکتا ہے جس سے چھوٹے کاروباروں اور عام شہریوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی اور بہتر رسائی ممکن ہوگی اور کاروبار و صنعت کی بحالی کو فروغ ملے گا جو پاکستان کی معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے انجن کو دوبارہ متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آخر میں گرو گرین نیٹ ورک اور انڈس کنسورشیم کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صاف توانائی، توانائی کے تحفظ اور پائیدار نقل و حرکت کے لیے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں اور توانائی کے شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھا جائے گا تاکہ درآمدی ایندھن سے نجات کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔


