
خواتین ملازمین سے امتیاز کے الزام پر ایفل ٹاور سربراہ مستعفی
ایفل ٹاور چلانے والی کمپنی (SETE) کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برانکو روئیوو، جو 2018 کے اواخر سے اس عہدے پر فائز ہیں، سال کے اختتام پر یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔
اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے
آزادانہ تحقیقات میں اس واقعے سے متعلق انتظامی اور عملی سطح پر متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے نتیجے میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ایفل ٹاور کے عملے کی جانب سے ہڑتال کی گئی اور فرانسیسی سیاست دانوں نے بھی تنقید کی۔
ایفل ٹاور چلانے والی کمپنی (SETE) کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک برانکو روئیوو، جو 2018 کے اواخر سے اس عہدے پر فائز ہیں، سال کے اختتام پر یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔
اس کمپنی نے بتایا کہ 5 ستمبر کو ایک ہندو مذہبی گروپ کے دورے کی آزادانہ تحقیقات میں ان متعدد انتظامی خامیوں کا انکشاف ہوا، جن کے نتیجے میں خواتین ملازمین کو ڈیوٹی سے الگ رکھا گیا۔ کمپنی نے اس صورت حال کو ”ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔
انتظامیہ نے خواتین ملازمین کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہندو مذہبی تنظیم بوچاسانواسی شری اکشر پرشوتم سوامی نارائن سنستھا (BAPS) کے ایک وفد سے رابطے میں نہ آئیں۔
کمپنی نے ابتدا میں تسلیم کیا تھا کہ وفد کے دورے کے دوران ایفل ٹاور کی تیسری منزل سے خواتین عملے کو ہٹا دینا ایک غلطی تھی۔

ہندو تنظیم کا موقف
بی اے پی ایس نے خواتین ملازمین کو دور رکھنے یا پردے میں رکھنے کی ہدایت دینے کی تردید کی۔
اس تنظیم نے کہا، ”ہمارے سادھوؤں کے مذہبی معمولات سے ایفل ٹاور کی انتظامیہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ یہ ذاتی روحانی وابستگیاں ہیں، جن پر ہمارے سادھو دوسروں پر ان کو مسلط کیے بغیر عمل کرتے ہیں۔ ان معمولات کے لیے ان مقامات سے خواتین کو دور رکھنا ضروری نہیں، جہاں وہ جاتے ہیں۔‘‘
بی اے پی ایس ہندو مت کی سوامی نارائن طبقے سے وابستہ ایک بین الاقوامی مذہبی اور شہری تنظیم ہے۔ اس کا وفد روایتی ہندو طرز کے پتھروں کے مندر کی افتتاحی تقریبات کے سلسلے میں اس خطے کا دورہ کر رہا تھا۔

آئندہ کیا ہو گا؟
اس واقعے کے خلاف ایفل ٹاور کے ملازمین نے 7 ستمبر کو ہڑتال کی، جس کے باعث تاریخی حیثیت کا حامل یہ عالمی شہرت یافتہ ٹاور ایک روز کے لیے بند رہا۔
SETE کے چیئر پرسن ایریل وائل نے کہا کہ کمپنی صنفی مساوات کے فروغ کے لیے نئے اقدامات اور تربیتی پروگرام متعارف کرائے گی۔
تحقیقات کے بعد ایک علیحدہ پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ بھی قائم کیا جائے گا۔
پیرس میں 330 میٹر (1,083 فٹ) بلند ایفل ٹاور کی سیر کے لیے ہر سال تقریباً 70 لاکھ مہمان آتے ہیں۔



