
فاطمہ زہرا منصوری مراکش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں
منصوری نے 2008 میں پی اے ایم کے قیام کے بعد اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ جماعت بادشاہ کے بچپن کے دوست اور قریبی مشیر فواد علی الہمتہ نے قائم کی تھی۔
اے ایف پی، اے پی اور روئٹرز کے ساتھ
پی اے ایم نے 395 رکنی ایوان نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کیں، جو دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت سے 31 نشستیں زیادہ ہیں۔ تاہم انتخابات میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سب سے کم ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔
مراکش کے آئین کے تحت وزیر اعظم مقرر کرنے کا اختیار بادشاہ کے پاس ہے، تاہم انہیں پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
فاطمہ زہرا منصوری نے اپنی تقرری کے بعد کہا، ”ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون حکومت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔ یہ میرے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مراکشی خواتین کے لیے باعث فخر ہے۔‘‘

فاطمہ زہرا منصوری کون ہیں؟
پچاس سالہ وکیل فاطمہ زہرا منصوری عرب دنیا میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے والی دوسری خاتون ہیں۔ ان سے قبل تیونس کی نجلاء بودن رمضان 2021 سے 2023 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔
منصوری نے 2008 میں پی اے ایم کے قیام کے بعد اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ جماعت بادشاہ کے بچپن کے دوست اور قریبی مشیر فواد علی الہمتہ نے قائم کی تھی۔
فرانس کی یونیورسٹی آف موں پئیے سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی فاطمہ زہرا 2024 میں پارٹی کی صف اول کی رہنماؤں میں شامل ہوگئیں تھیں۔ وہ دو مرتبہ مراکش کے شہر مراکش کی میئر رہ چکی ہیں اور پارلیمان کی رکن بھی رہی ہیں۔
فاطمہ زہرا مراکش کے معروف مقامی عہدیدار اور ”پاشا آف مراکش‘‘ عبد الرحمٰن المنصوری کی بیٹی ہیں، جو متحدہ عرب امارات میں مراکش کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ مراکش کی بار ایسوسی ایشن کے سربراہ اور زمینوں کے مالک بھی رہے ہیں۔
توقع ہے کہ منصوری آئندہ چند روز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کر کے نئی حکومت تشکیل دیں گی، کیونکہ مراکش کے انتخابی نظام کے باعث کسی ایک جماعت کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے۔

نئی وزیر اعظم کو درپیش چیلنجز
نئی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 2030 کے فیفا ورلڈ کپ سے متعلق منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے، اجرتوں میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدوں پر بھی عمل درآمد کرے گی۔
منصوری کو مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔ نامعلوم ہیکرز کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے شہر مراکش میں اراضی کے لین دین کے حوالے سے اپنے عہدے کا ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ فاطمہ منصوری نے تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ہتک آمیز قرار دیا تھا اور قانونی کارروائی بھی کی تھی۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں رجسٹرڈ ایک کروڑ 58 لاکھ ووٹرز میں سے تقریباً 10 لاکھ نے پی اے ایم کے حق میں ووٹ دیا، جو اس جماعت کے قیام کے بعد سے اس کی پہلی انتخابی کامیابی ہے۔ یہ انتخابات گزشتہ جولائی میں تارکین وطن سے متعلق سیوتا بحران اور گزشتہ سال نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مہلک احتجاجی مظاہروں کے بعد کرائے گئے پہلے عام انتخابات تھے۔
شاہی محل کی طرف سے وزیر اعظم کی نامزدگی کے بعد اب توجہ نئی حکومت تشکیل دینے والے سیاسی اتحاد پر مرکوز ہوگئی ہے۔ پی اے ایم نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اعتدال پسندانہ سوچ کی حامل اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور بائیں بازو کی فیڈریشن آف ڈیموکریٹک لیفٹ سمیت بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔



