یورپتازہ ترین

فرانس برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے تارکین وطن سے متعلق معاہدے کے خاتمے کا خواہاں

اس معاہدے کو عرف عام میں ’ون اِن، ون آؤٹ‘ (one-in-one-out) معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانس سے غیر قانونی طور پر انگلینڈ پہنچنے والے نئے تارکین وطن کے بدلے برطانیہ سے.....

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے پی کے ساتھ

فرانس برطانیہ کے ساتھ تارکین وطن کی آمد کو محدود کرنے سے متعلق اس دو طرفہ معاہدے کے خاتمے کا خواہش مند ہے، جو پیرس اور لندن کی حکومتوں کے مابین گزشتہ برس طے پایا تھا۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے بدھ 30 ستمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا کہ پیرس حکومت کے لندن حکومت کے ساتھ اس موضوع پر مذاکرات جاری ہیں کہ وہ باہمی معاہدہ ختم کر دیا جائے جو دونوں ممالک کے مابین 2025ء میں طے پایا تھا اور جس کا مقصد انگلش چینل یا رودبار انگلستان کے راستے چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر برطانیہ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد کو عملاﹰ کم سے کم کرنا تھا۔

ایسے تارکین وطن اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اس انگلش چینل کو پار کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر سفر کرتے ہیں، جس کے ایک طرف فرانس ہے اور دوسری طرف برطانیہ۔

برٹش بارڈر فورس کی ایک بڑی گشتی کشتی انگلش چینل میں سفر کے دوران ریسکیو کیے گئے تارکین وطن کو لے کر انگلینڈ میں ڈوور کی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے کے قریب، فائل فوٹو
برٹش بارڈر فورس کی ایک بڑی گشتی کشتی انگلش چینل میں سفر کے دوران ریسکیو کیے گئے تارکین وطن کو لے کر انگلینڈ میں ڈوور کی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے کے قریب، فائل فوٹوتصویر: Justin Tallis/AFP

اس معاہدے کو عرف عام میں ’ون اِن، ون آؤٹ‘ (one-in-one-out) معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانس سے غیر قانونی طور پر انگلینڈ پہنچنے والے نئے تارکین وطن کے بدلے برطانیہ سے ٹھیک اتنی ہی تعداد میں ایسے تارکین وطن کو واپس فرانس بھیج دیا جاتا ہے۔

اس موضوع پر آج بدھ ہی کے روز فرانسیسی اخبار ’لموند‘ میں ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق کرتے ہوئے پیرس میں فرانسیسی وزارت داخلہ کے حکام نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’اس معاہدے سے اخراج کی شرائط کے بارے میں دونوں ممالک کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔‘‘

لندن میں برطانوی حکومت اب تک مؤثر اس معاہدے کی مدت میں توسیع کی خواہش مند تھی، مگر پیرس کی طرف سے اس سمجھوتے میں ممکنہ توسیع کے سلسلے میں کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی گئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button