
سرکاری گاڑی کا نجی استعمال: سابق سری لنکن وزیر کو بڑا جرمانہ
تاہم عدالت کے مطابق فوزی نے اس گاڑی کو تقریباً پانچ سال تک اپنے ذاتی استعمال میں رکھا۔
اے ایف پی کے ساتھ
اس وقت 88 سالہ فوزی کو عدالت نے حکم دیا کہ وہ ریاستی ملکیتی اخبارات میں سنہالی، تامل اور انگریزی زبانوں میں نصف صفحے پر مشتمل معافی نامے شائع کرائیں۔ عدالت نے کہا کہ ان اشتہارات میں مذکورہ گاڑی کی تصویر بھی شامل کی جائے۔
یہ گاڑی سری لنکا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے لیے خریدی گئی تھی۔ اس کی خریداری کے لیے نیدرلینڈز سے حاصل کیے گئے قرضے کا استعمال کیا گیا تھا۔ گاڑی پر اندھیرے میں روشن ہونے والے نشانات، ہنگامی صورتحال سے خبردار کرنے والا الارم سسٹم اور دیگر آلات نصب تھے، جنہیں ہنگامی کارروائیوں میں مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
تاہم عدالت کے مطابق فوزی نے اس گاڑی کو تقریباً پانچ سال تک اپنے ذاتی استعمال میں رکھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، ”انہوں نے تقریباً پانچ سال تک اس گاڑی کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے مختص رکھا اور عوامی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے کو اپنی ذاتی ملکیت کی طرح استعمال کیا۔‘‘
عدالت نے اسے ”عوام کے اعتماد کے ساتھ کھلی اور مثالی خیانت‘‘ قرار دیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فوزی اس کے علاوہ ریاستی ملکیت والی چار دیگر لگژری ایس یو وی گاڑیاں بھی استعمال کر رہے تھے۔

عدالتی فیصلے کا خیر مقدم
فوزی نے گاڑی سے متعلق بدعنوانی کے الزامات کا اعتراف کیا تھا اور 2024 میں انہیں معطل سزائے قید سنائی گئی تھی، جس کے باعث انہیں جیل نہیں جانا پڑا تھا۔
تاہم بدعنوانی کے خلاف سرگرم کارکن چندرا جے رتنے نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ معمولی سزا عوامی وسائل کے غلط استعمال سے ہونے والے وسیع تر نقصان کی عکاسی نہیں کرتی۔
جے رتنے نے سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ اصول مضبوط ہوتا ہے کہ عوامی اثاثے ذاتی مراعات نہیں ہوتے۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”یہ ایک اچھا پیغام ہے۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر ملزم صرف معطل سزائے قید کے ساتھ ہی آسانی سے بچ نکلتا، تو مستقبل کے لیے یہ ایک برا پیغام ہوتا۔‘‘
یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب سری لنکا کی حکومت راجاپاکشے سیاسی خاندان سے وابستہ افراد کے خلاف بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات تیز کر رہی ہے۔
راجاپاکشے خاندان گزشتہ دو دہائیوں کے بیشتر عرصے میں سری لنکا کی سیاست میں اقتدار میں رہا، تاہم 2022 میں بڑے پیمانے پر ہونے والے عوامی احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے صدر گوٹابایا راجاپاکشے کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔



