
احسان احمد-ادارت
کراچی: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی شفافیت، ٹیم ورک اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے ممکن ہو رہی ہے، حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور وسیع تر معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ ملکی معیشت کی آئندہ ترقی میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں عارف حبیب کارپوریشن کے زیر اہتمام نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئٹ کی لسٹنگ کے موقع پر منعقدہ گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے حکومت کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے اور کیپٹل مارکیٹ کی حالیہ کارکردگی پر تفصیلی گفتگو کی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور کے ایس ای-100 انڈیکس مارچ 2024 میں تقریباً 67 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً 170 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے سرمایہ کاروں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کو بھی نمایاں قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جو ایک ماہ کے دوران نئے سرمایہ کاروں کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس اضافے کے بعد پی ایس ایکس میں مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مارچ 2024 میں یہ تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 144 تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ کیپٹل مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی اہمیت صرف انڈیکس میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ اصل مقصد سرمایہ کی تشکیل اور اسے معیشت کے پیداواری شعبوں تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں پیدا ہونے والے اعتماد کو کاروبار، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ، جدت اور روزگار کے لیے سرمایہ میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط کیپٹل مارکیٹ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے طویل المدتی سرمایہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 11 کمپنیاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہوئیں، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے میں ایک مالی سال کے دوران لسٹنگ کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مزید 5 آئی پی اوز مکمل ہو چکے ہیں، جو کیپٹل مارکیٹ میں جاری سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی کمپنیوں کی اسٹاک مارکیٹ میں آمد کاروباری اداروں کو سرمائے کے حصول کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے اور اس عمل سے سرمایہ کاروں کو بھی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع میسر آتے ہیں۔
اپنا گھر پروگرام اور ہاؤسنگ فنانسنگ
وزیر خزانہ نے وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ مزید تقریباً 340 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دی جا چکی ہے جو ادائیگی کے مرحلے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکاری شعبے نے ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ منظور شدہ فنانسنگ کے نتیجے میں ہاؤسنگ کی فراہمی کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔
محمد اورنگزیب نے ہاؤسنگ کے شعبے میں نجی شعبے کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (ABAD) سمیت نجی شعبے کے ادارے ملک میں رہائشی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریئٹس بھی ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کیپٹل مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے درمیان مؤثر روابط سے طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے



