
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے اندر دو مقامات پر دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر فضائی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں شہری بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے بھی صوبہ کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 شہریوں کی ہلاکت اور 9 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغانستان کے اندر دو مقامات پر کارروائی قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ وزارت کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درست اور مخصوص انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں ان مقامات کو پاکستان کے سرکاری بیانیے میں فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندستان اور ان سے وابستہ گروہوں سے منسوب کیا۔ وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ وزارت نے مزید دعویٰ کیا کہ ان ٹھکانوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا کہ کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کے ان مراکز کو نشانہ بنانا تھا جہاں سے پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کی جاتی ہے۔ وزارت کے مطابق کارروائی میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان طویل عرصے سے افغانستان پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہاں موجود بعض مسلح گروہ پاکستانی سرزمین پر حملوں کے لیے افغان علاقے کو استعمال کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ضروری ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
کابل کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کی فضائی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب افغانستان کے صوبہ کنڑ اور ہلمند میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق حملوں میں تین مکانات بھی تباہ ہوئے۔ افغان حکام نے پاکستان کی کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ہے۔
ہلمند کی صوبائی حکومت کے مطابق جنوبی افغانستان میں سفر گاؤں کو بھی فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔
افغان حکام کا مؤقف ہے کہ حملوں میں شہری آبادی متاثر ہوئی، تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف تھی۔
اقوام متحدہ کی جانب سے شہری ہلاکتوں کی تصدیق
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن UNAMA نے یکم اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ کنڑ اور ہلمند میں ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں، جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ نے حملوں کے بعد فریقین پر کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو ترجیح دینے، بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے اور شہریوں کو مزید نقصان سے بچانے پر زور دیا۔
UNAMA کے مطابق 2026 کے دوران اب تک افغانستان میں سرحد پار مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں 1,100 سے زائد شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے بھی کنڑ میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین شہریوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
تاہم اقوام متحدہ کے بیان میں تازہ حملوں کو براہِ راست پاکستان سے منسوب نہیں کیا گیا، اگرچہ دیگر دستیاب رپورٹس میں پاکستان کی جانب سے انہی حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی جانب سے ہلاکتوں اور اہداف سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوئی۔
ہلمند میں مقامی آبادی کے نقصانات کی اطلاعات
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلمند کے مقامی رہائشیوں نے اپنے علاقے میں متعدد فضائی حملوں کی اطلاع دی۔ مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے نتیجے میں گھروں کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
ایک مقامی رہائشی عبدالواحد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا جبکہ بعض مکانات متاثر ہوئے۔ ایک اور مقامی شہری قدرت اللہ کے مطابق وہ اپنے گھر میں موجود تھے جب ان کے پڑوس میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
اے ایف پی کے مطابق لشکرگاہ میں اطالوی امدادی تنظیم ایمرجنسی کے زیر انتظام ہسپتال کے حکام نے بھی دو بچوں کے ہسپتال میں داخل کیے جانے کی اطلاع دی۔
پاکستان کا مؤقف: کارروائی انٹیلیجنس کی بنیاد پر
پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق فضائی کارروائی اچانک یا عمومی نوعیت کی کارروائی نہیں تھی بلکہ قابل اعتماد انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی۔ وزارت نے کہا کہ دہشت گردوں کے مبینہ کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو افغانستان سے سرگرم بعض مسلح گروہوں کی جانب سے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کا مقصد پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم شہریوں اور ملک کی سلامتی کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزارت کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم جاری رہے گی۔
کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف سکیورٹی معاملات پر کشیدگی رہی ہے۔ اسلام آباد کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ پاکستانی طالبان سمیت بعض مسلح گروہ افغانستان میں موجود رہ کر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
گزشتہ عرصے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی کارروائیاں اور سفارتی کشیدگی متعدد مرتبہ سامنے آ چکی ہے۔ بعض ثالثی کوششوں کے باوجود بنیادی سکیورٹی اختلافات مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال مارچ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کچھ عرصے کے لیے کشیدگی میں کمی آئی، تاہم سرحدی اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
شہری تحفظ اور کشیدگی کم کرنے پر زور
حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد ایک طرف پاکستان نے دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں درست قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب افغان حکام نے شہری ہلاکتوں اور مکانات کی تباہی کا دعویٰ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار کشیدگی کے نتیجے میں شہریوں کے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔
حالیہ صورتحال میں بنیادی تنازع پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور کابل کی جانب سے اسے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دینے کے گرد گھوم رہا ہے۔ دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آنے کے باعث جانی نقصان اور حملوں کے مخصوص اہداف سے متعلق مکمل تصویر مزید آزادانہ تصدیق اور تفصیلات سامنے آنے کے بعد واضح ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی کے الزامات، شہریوں کے تحفظ اور دوطرفہ رابطوں سے متعلق معاملات کا حل اہمیت اختیار کر گیا ہے۔



