
احسان احمد-ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے اور اب قومی معیشت کو محض استحکام تک محدود رکھنے کے بجائے صنعت کاری، برآمدات میں اضافے، پیداوار، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مبنی پائیدار ترقی کی طرف لے جانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کسی ایک فرد یا ادارے کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں، مالیاتی شعبے اور نجی شعبے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (REIT) کی لسٹنگ کے موقع پر منعقدہ گونگ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، گورنر اسٹیٹ بینک، معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب اور کارپوریٹ سیکٹر کی اہم شخصیات نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، میاں ریاض حسین پیرزادہ اور ڈاکٹر مصدق ملک بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مشکل حالات سے نکال کر استحکام کی طرف لانے میں حکومت، متعلقہ اداروں اور معاشی ٹیم کے درمیان ٹیم ورک کا اہم کردار ہے۔ ان کے مطابق اب اگلا مرحلہ معیشت کو تیز رفتار اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، جس کے لیے نجی شعبے، صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو آگے آنا ہوگا۔
’اب استحکام سے ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا‘
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اب ایسی معاشی ترقی درکار ہے جس کا بنیادی انحصار برآمدات پر ہو۔ برآمدات میں اضافہ ہونے سے صنعتی سرگرمیوں، پیداوار، روزگار اور اشیا و خدمات کی ترسیل میں بہتری آئے گی اور ملکی معیشت کے لیے مزید مضبوط بنیاد قائم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنا ہے جبکہ سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ نجی شعبے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان، مینوفیکچررز، صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس مراعات اور سہولیات فراہم کی ہیں تاکہ سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کے لیے دی گئی مراعات کے اثرات سامنے آنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کراچی میں تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اصلاحات کا اعتراف
وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ نیویارک اور لندن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی بینکاری اور مالیاتی شعبے کے نمائندوں، جن میں سٹی بینک، جے پی مورگن اور بارکلیز کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے، سے ملاقاتیں کیں۔
ان کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں اور مالیاتی شعبے کے نمائندوں نے پاکستان میں طویل عرصے سے زیر التوا ساختی اصلاحات پر عملدرآمد کو سراہا ہے۔
شہباز شریف نے ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں آنے والی تبدیلی کو محسوس کیا گیا، تاہم وزیراعظم نے اس تبدیلی کو کسی ایک شخصیت کے بجائے اپنی معاشی ٹیم اور مشترکہ کاوشوں سے منسوب کیا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، وزارت خزانہ، ایف بی آر، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں نے مل کر کام کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی بھی حوصلہ افزا ہے۔
انہوں نے معاشی استحکام کے ضمن میں بیرونی شعبے کے بعض اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر مالیت کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا جس کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ وزیراعظم کے مطابق اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم نے تاہم واضح کیا کہ ان اشاریوں میں بہتری کو حتمی منزل نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی استحکام کو حقیقی اقتصادی نمو، روزگار اور برآمدات میں اضافے میں تبدیل کیا جائے۔
حالیہ سرکاری معاشی جائزے میں بھی جولائی تا اگست 2026 کے دوران ترسیلات زر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اسی عرصے میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی کے دوران سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلات زر 7.29 ارب ڈالر تک پہنچیں۔
نجی شعبے کو معاشی ترقی کا انجن بنانے پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ اب نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت پالیسی اور ریگولیٹری ماحول بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی، جبکہ سرمایہ کاری، صنعتوں کی توسیع، روزگار اور برآمدات میں اضافے کی بنیادی ذمہ داری کاروباری اور صنعتی شعبے پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی معیشت بنانا ہوگا جو صرف درآمدی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہ ہو بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی مسابقتی حیثیت مضبوط کرے۔
وزیراعظم نے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جدید مشینری، ٹیکنالوجی، بہتر انتظامی نظام اور محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا ہوگی۔
درآمدی متبادل کے لیے قائم صنعتوں کی کارکردگی پر تشویش
شہباز شریف نے بعض ایسی صنعتوں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا جنہیں ماضی میں درآمدی متبادل کے مقصد سے تحفظ، معاونت اور سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیاں قبل ایک واضح صنعتی وژن کے تحت بعض شعبوں کو اس امید کے ساتھ فروغ دیا گیا تھا کہ وہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور پیداوار میں اضافہ کریں گے، تاہم اب ان صنعتوں کو اپنی پیداواری صلاحیت، معیار اور مسابقت بہتر بنانا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ صرف تحفظ یا مراعات کے ذریعے صنعتوں کو طویل مدت تک کامیاب نہیں بنایا جا سکتا بلکہ جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت اور عالمی معیار کے مطابق مسابقت ضروری ہے۔
تعمیراتی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کا اہم ذریعہ قرار دیا
وزیراعظم نے تعمیراتی صنعت کو ملکی معیشت اور روزگار کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر متعدد صنعتی شعبوں کو متحرک کرتا ہے۔
انہوں نے عارف حبیب کو نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس REIT کی لسٹنگ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں منظم اور ریگولیٹڈ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا سرمایہ مارکیٹ اور تعمیراتی شعبے دونوں کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے لاہور اور کراچی میں REIT کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کو بھی سراہا اور کہا کہ تعمیراتی صنعت کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومتی مراعات کے نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ سرگرمیوں کا اثر صرف ایک صنعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، بجلی کے آلات، فرنیچر، سینیٹری اور دیگر متعلقہ شعبوں میں بھی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے۔
کیپٹل مارکیٹ میں مزید اصلاحات کی ضرورت
شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور کیپٹل مارکیٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں بہتری آئی ہے، تاہم اب بھی بعض کمزوریاں اور خامیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی دیگر اسٹاک ایکسچینجز کے تجربات کا جائزہ لے کر پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں ضروری اصلاحات متعارف کرائی جانی چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی طرف راغب کیا جا سکے اور کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے مواقع وسیع ہوں۔
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس REIT کی لسٹنگ کو بھی پاکستان کی بنیادی کیپٹل مارکیٹ میں سرگرمی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایس ای سی پی نے بتایا تھا کہ اس اسکیم میں 44.06 ملین یونٹس کی پیشکش شامل تھی اور یہ 2026 میں منظور ہونے والی متعدد عوامی پیشکشوں میں شامل تھی۔
سرمایہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت میں اضافہ
تقریب میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بھی کیپٹل مارکیٹ، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے کردار پر بات کی۔ ان کے مطابق KSE-100 انڈیکس مارچ 2024 کے تقریباً 67 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً 170 ہزار پوائنٹس تک پہنچا، جبکہ ستمبر 2026 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 25,281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے۔ ان کے مطابق کل سرمایہ کاروں کی تعداد 656,218 تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسٹاک مارکیٹ کی کامیابی صرف انڈیکس میں اضافے سے نہیں بلکہ اس امر سے بھی جانچی جانی چاہیے کہ مارکیٹ کاروبار، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ، جدت اور روزگار کے لیے حقیقی سرمایہ فراہم کرنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحالی اور اصلاحات کے عمل میں ٹیم ورک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ، کابینہ ارکان، ایف بی آر، وفاقی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات پر عملدرآمد اور میکرو اکنامک استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون بھی اہم رہا ہے۔
وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے حمایت اور تعاون کو بھی سراہا۔ یہ وزیراعظم کا سیاسی و حکومتی مؤقف ہے، جبکہ معاشی پالیسی کے نتائج کا جائزہ وسیع تر معاشی اشاریوں اور وقت کے ساتھ کیا جائے گا۔
نیب اور لینڈ بینک کے منصوبے کا ذکر
شہباز شریف نے چیئرمین نیب کی کاوشوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو نے بڑی مالیت کی اراضی سے متعلق ریکوری اور دریافت کے اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے لینڈ بینک کے قیام کے منصوبے کو بھی سراہا اور کہا کہ زمین کے ریکارڈ، اثاثوں کے بہتر استعمال اور شفافیت سے متعلق اقدامات معاشی سرگرمیوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو عالمی معاشی مقام دلانے کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بناتے ہوئے ایک پیداواری، برآمدی اور روزگار پیدا کرنے والی معیشت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی حالت اس وقت تبدیل ہوگی جب صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، برآمدات اور تعمیرات سمیت مختلف شعبوں میں پیداوار بڑھے گی، نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کے لیے پیداواری روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ان شاء اللہ دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط معیشت بن کر ابھرے گا اور عالمی سطح پر ملک کے معاشی مقام اور وقار میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلہ معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور روزگار کے حصول کا ہے، اور اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
ممتاز کاروباری شخصیت عارف حبیب نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ نے علاقائی مارکیٹوں کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مقامی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ ملک میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، جبکہ عالمی سرمایہ کار بھی پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یوں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس REIT کی لسٹنگ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں حکومت کی جانب سے یہ پیغام نمایاں رہا کہ معاشی پالیسی کا اگلا مرحلہ استحکام سے ترقی، ترقی سے سرمایہ کاری اور سرمایہ کاری سے روزگار کی سمت پیش قدمی پر مرکوز ہونا چاہیے۔





