پاکستاناہم خبریں

اسلام آباد میں پی ٹی آئی احتجاج کی تیاریاں، حکومت اور پیپلز پارٹی کا اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی حکومتی رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ملاقات متوقع ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ناصف اعوان-ادارت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ کے باعث وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، اہم داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کیے جانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تازہ پیش رفت کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے بعد وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل مشترکہ وفد کے پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذاکرات میں موجودہ سیاسی صورتحال، مجوزہ احتجاج اور ملک کو درپیش سیاسی و سکیورٹی چیلنجز پر بات چیت متوقع ہے۔
پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں پارٹی قیادت نے اس کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی۔ پارٹی کی جانب سے حالیہ بیانات میں مارچ کو مقررہ تاریخ پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت

مجوزہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد انتظامیہ نے شہر کے حساس مقامات اور اہم شاہراہوں پر سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ ریڈ زون کے داخلی راستوں سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران دارالحکومت میں معمولات زندگی، اہم سرکاری تنصیبات اور شہریوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی کہا ہے کہ حکومت نے مارچ کو روکنے کے لیے انتظامات کیے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج پرامن ہوگا اور حکومت کو سیاسی معاملات طاقت یا انتظامی اقدامات کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔ پارٹی قیادت نے 4 اکتوبر کے احتجاج کو مؤخر کرنے کا امکان بھی مسترد کیا ہے۔

صدر اور وزیراعظم کی اہم ملاقات

سیاسی کشیدگی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق ملاقات میں خاص طور پر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے امن و استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور اٹارنی جنرل سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کے ارکان بھی شریک تھے۔

حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد پی ٹی آئی سے ملاقات کرے گا

سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا۔
مذاکراتی وفد میں حکومت کی نمائندگی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام کریں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شریک ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، 4 اکتوبر کے احتجاج، آئینی و پارلیمانی معاملات اور سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے امکانات پر براہ راست بات چیت کی جائے گی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی حکومتی رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا جسے اپوزیشن نے قبول کرلیا۔

پس پردہ رابطوں کا بھی انکشاف

مذاکرات کے فیصلے سے قبل وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان احتجاج کے معاملے پر ’آف دی ریکارڈ‘ رابطے جاری ہیں۔
ان کے مطابق مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے کرنا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سیاسی رابطے جاری ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اگر احتجاج کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا تو حکومت نے اسے روکنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم موضوع

موجودہ سیاسی تنازع میں خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئینی ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات پر بھی بیانات سامنے آئے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے 30 ستمبر کو کہا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ’سنجیدگی سے غور‘ کر رہی ہے۔
تاہم یہ معاملہ ابھی سیاسی اور آئینی بحث کا حصہ ہے اور کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومت کے بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی صورتحال اور مجوزہ مارچ کے تناظر میں وفاق کو آئینی اختیارات استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت ایسے کسی اقدام کی مخالفت کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج مؤخر کرنے سے انکار

پی ٹی آئی نے اپنے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کا احتجاجی مارچ شیڈول کے مطابق ہوگا۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مارچ مؤخر کرنے کا کوئی امکان نہیں اور پارٹی اپنے پروگرام کے مطابق احتجاج کرے گی۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج مسئلے کا حل نہیں، جبکہ انہوں نے مارچ کو پرامن رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق ان کا مطالبہ سیاسی و آئینی نوعیت کا ہے اور حکومت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے چاہئیں۔

حکومت کا مؤقف: احتجاج اور معمولات زندگی میں توازن ضروری

وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم دارالحکومت کی سڑکوں کی بندش، سرکاری تنصیبات کو نقصان یا شہریوں کے معمولات زندگی میں خلل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج آئینی اور قانونی دائرے میں ہونا چاہیے جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں حکومت سے سیاسی معاملات پر بات چیت اور احتجاج کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مذاکرات کے لیے اہم سیاسی موقع

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان براہ راست رابطے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جانب سے سخت بیانات بھی جاری رہے ہیں۔ اس تناظر میں مشترکہ حکومتی و پیپلز پارٹی وفد کی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کو سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں کے درمیان مذاکرات میں اگر احتجاج، خیبر پختونخوا کی صورتحال، سیاسی حقوق، آئینی معاملات اور امن و امان جیسے موضوعات پر براہ راست بات چیت ہوتی ہے تو اس سے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم مذاکرات کے نتیجے یا احتجاج کے مستقبل کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

دارالحکومت میں سیاسی اور انتظامی دباؤ برقرار

ایک طرف اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں اور اہم راستوں پر رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت نے سیاسی رابطے کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ کھولا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کا احتجاج برقرار رکھنے کے اعلان اور حکومت کی جانب سے اسے روکنے کے انتظامات کے باوجود مذاکرات کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
اب توجہ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات پر مرکوز ہے۔ مذاکرات میں فریقین اپنے اپنے مؤقف پیش کریں گے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سیاسی اختلافات، احتجاج کے معاملے اور خیبر پختونخوا سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی پر کوئی قابلِ عمل اتفاقِ رائے پیدا ہو پاتا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button