پاکستاناہم خبریں

راجہ ناصر عباس کا پرامن احتجاج اور غیر مشروط مذاکرات پر زور، ’ہمارے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں قرآن ہوگا‘

پارلیمان اسی مقصد کے لیے موجود ہے کہ عوامی نمائندے ملک کے اہم مسائل پر گفتگو کریں، اختلافات کو آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کریں اور سیاسی بحران کو مزید پیچیدہ ہونے سے روکیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وائس چیئرمین اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبر پختونخوا سے ہونے والے احتجاج اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں پرامن سیاسی جدوجہد، آئین کی بالادستی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران شرکاء کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں ہوگا بلکہ وہ قرآنِ پاک ساتھ لے کر نکلیں گے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی اور آئینی معاملات کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عدلیہ، پارلیمان اور ملک کے دیگر آئینی معاملات قومی نوعیت کے مسائل ہیں اور اپوزیشن ان تمام معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں مجوزہ احتجاج کے حوالے سے کہا کہ اگر احتجاج پرامن ہے تو اس کے خلاف کوئی ایسا بیانیہ تشکیل نہیں دیا جانا چاہیے جو اسے تشدد یا بدامنی سے جوڑتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شریک افراد جب وہاں سے نکلیں گے تو ان کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں ہوں گے۔

’ہمارے لباس کی جیبوں میں قرآنِ پاک ہوگا‘

راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں قرآنِ پاک ساتھ رکھنے کا مقصد انسانی جان کے احترام اور تقدس سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انسانی زندگی کی قدر و حرمت کا درس دیتا ہے اور ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران اگر کسی جانب سے تشدد بھی کیا جائے تو مظاہرین کو اشتعال کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول اگر کوئی انہیں مارنے آئے گا تو وہ جواب میں پھول پیش کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر کوئی تھپڑ مارے گا تو بھی اسے اپنا بھائی سمجھا جائے گا۔

اپوزیشن رہنما نے انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بھی ملک کے شہری اور بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو انسانی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کے اہلکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور کوئی بھی اپنے ہی لوگوں کا خون بہانا نہیں چاہتا۔

حکومت پر سخت سیاسی تنقید

راجہ ناصر عباس نے اپنے خطاب میں حکومت اور انتظامیہ کی احتجاجی پالیسی پر شدید تنقید بھی کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کو روکنے کے لیے کنٹینرز، سڑکوں کی بندش اور دیگر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے حکومتی اقدامات کو خوف سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو بزدلی کے طعنے دینے کے بجائے سیاسی اختلافات کا سامنا سیاسی میدان میں کیا جانا چاہیے۔ تاہم ان کے یہ الزامات ان کا سیاسی مؤقف ہیں اور حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کی اپنی وجوہات اور سیکیورٹی سے متعلق مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے۔

راجہ ناصر عباس نے حکمرانوں کی سیاسی حیثیت پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جو حکومت عوامی حمایت اور انتخابی مینڈیٹ کے حوالے سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے، اسے سیاسی احتجاج سے خوفزدہ ہونے کے بجائے عوامی مسائل اور سیاسی اختلافات کا سیاسی انداز میں سامنا کرنا چاہیے۔

اپوزیشن کا مذاکرات پر زور

اپوزیشن لیڈر نے موجودہ سیاسی کشیدگی ختم کرنے کے لیے مفاہمت اور مذاکرات کو بنیادی راستہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے سے بات کرنا ہوگی اور عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کے معاملات پارلیمان کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان اسی مقصد کے لیے موجود ہے کہ عوامی نمائندے ملک کے اہم مسائل پر گفتگو کریں، اختلافات کو آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کریں اور سیاسی بحران کو مزید پیچیدہ ہونے سے روکیں۔

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم ان کے مطابق مذاکرات کسی پیشگی شرط کے بغیر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی فریق کو دوسرے فریق پر ایسی شرائط عائد نہیں کرنی چاہئیں جو مذاکرات کے عمل کو شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع بنا دیں۔

اپوزیشن اتحاد اور 4 اکتوبر کا احتجاج

راجہ ناصر عباس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور دیگر اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف کے 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ میں شرکت کا اعلان کر چکی ہیں۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا جسے بعد ازاں 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے اس فیصلے کے باوجود احتجاج میں مکمل شرکت کی حمایت کی تھی۔

حالیہ سیاسی پیش رفت میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یکم اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق اپوزیشن قیادت کے اجلاس میں سیاسی صورتحال، مجوزہ احتجاج، خیبر پختونخوا سے متعلق حکومتی اقدامات اور مذاکرات کے امکانات پر غور کیا گیا، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات کا راستہ کھلا۔

مذاکرات اور احتجاج بیک وقت؟

موجودہ صورتحال میں ایک طرف اپوزیشن نے احتجاج کا اعلان برقرار رکھا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔ اس طرح سیاسی بحران کے حل کے لیے ایک طرف سڑکوں پر احتجاج اور دوسری طرف پارلیمانی و سیاسی مذاکرات دونوں راستے بیک وقت زیرِ استعمال ہیں۔

راجہ ناصر عباس کے مطابق سیاسی اختلافات کا حتمی حل طاقت یا تصادم میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت کریں، آئینی اداروں کا احترام کیا جائے اور عوام کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔

’پاکستان کو آئینی اور قانونی ملک بنانا ہوگا‘

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعتیں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک آئینی اور قانونی ریاست بنانے کی خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو ان کے حقوق واپس دینا اور ریاستی معاملات کو آئین و قانون کے مطابق چلانا سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مؤثر فورم بنایا جانا چاہیے اور تمام فریقوں کو ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

راجہ ناصر عباس نے واضح کیا کہ اپوزیشن مذاکرات سے فرار نہیں چاہتی بلکہ بات چیت کے ذریعے حالات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے مطابق مذاکرات میں کسی فریق پر پیشگی شرائط عائد نہیں ہونی چاہئیں۔

سیاسی کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی، معاشی اور امن و امان سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور ان حالات میں مزید محاذ آرائی مسائل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قوتوں کو تصادم کے بجائے مفاہمت، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کو ترجیح دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شریک افراد اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم سے بچنا تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات کو انسانی جانوں کے نقصان کے بغیر حل کیا جا سکتا ہے۔

راجہ ناصر عباس کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے، ریاستی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان تصادم سے گریز کیا جائے اور سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اب توجہ اس امر پر ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل کس حد تک آگے بڑھتا ہے اور آیا سیاسی جماعتیں احتجاج اور مذاکرات کے دونوں راستوں کو بیک وقت آگے بڑھاتے ہوئے کسی قابلِ عمل سیاسی مفاہمت تک پہنچ سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button