
سید عاطف ندیم-ادارت
افغانستان کے مطابق پاکستان نے کل رات گئے دو افغان صوبوں میں فضائی حملے کیے، جن میں 9 خواتین اور بچے ہلاک جبکہ مزید 11 شہری زخمی ہوگئے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ حملوں میں صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم دونوں جانب سے جانی نقصان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے مسلسل سلسلے کے دوران ہوئے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ڈرامائی اضافے کے بعد پاکستان افغانستان کے اندر متعدد مرتبہ فضائی حملے کر چکا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ رواں سال اب تک سرحد پار تشدد کے نتیجے میں افغانستان میں 1,100 سے زائد شہری ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔
پاکستان شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند ہیں، جبکہ افغانستان پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔

افغان طالبان نے کیا کہا
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ فضائی حملوں میں جنوبی صوبے ہلمند اور مشرقی صوبے کنڑ میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تین مکانات تباہ ہوئے، 9 خواتین اور بچے ہلاک اور 11 دیگر شہری زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اسے جارحیت اور ایسا جرم سمجھتے ہیں جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تمام اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

پاکستان کا ردعمل
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغانستان میں کیے گئے فضائی حملے ’’قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات‘‘ کی بنیاد پر کیے گئے اور دو مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت نے ایکس پر جاری بیان میں کہا، ’’اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘
بیان میں کہا گیا کہ ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا، ’’پاکستان کو لاحق خطرہ افغانستان سے جنم لے رہا ہے۔ ہماری کارروائی میں دہشت گردوں کے مراکز کو درست طور پر نشانہ بنایا گیا۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔‘‘ وزارت نے مزید کہا کہ عسکریت پسندوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے اس کی کارروائیاں ’’پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔‘‘
پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت عسکریت پسندوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے اور پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ ٹی ٹی پی افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے، تاہم دونوں کے درمیان اتحاد ہے۔ افغان طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالا تھا۔
کابل ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے اور پاکستان کے دعووں کو مسترد کرتا رہا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ اسلام آباد کے مطابق ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا اور عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ ان حملوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان رواں سال کے آغاز میں جنگ ہوئی تھی، جبکہ مارچ میں جنگ بندی کے بعد بھی وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں، کیونکہ سکیورٹی سے متعلق تنازعات کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔



