
عراق سے امریکی انخلا ’تاریخی فتح‘ ہے، پاسداران انقلاب
بدھ کو امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد نے، جسے 2014ء میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے عراق اور شام میں تعینات کیا گیا تھا،
ایران کے پاسداران انقلاب نے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کو ’’تاریخی فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ امریکی فوجی مشرق وسطیٰ چھوڑ دیں۔
پاسداران انقلاب نے اپنے سرکاری ذرائع ابلاغ پر جاری بیان میں ’’عراق کی باوقار قوم، اسلامی مزاحمت کے متحدہ محاذ اور عالم اسلام کے انقلابی جنگجوؤں کو اس تاریخی فتح پر مبارکباد‘‘ پیش کی۔
بدھ کو امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد نے، جسے 2014ء میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے عراق اور شام میں تعینات کیا گیا تھا، باضابطہ طور پر اپنا مشن ختم کر کے انخلا مکمل کر لیا۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا، ’’امریکہ کو خطہ چھوڑ دینا چاہیے اور سلامتی کا انتظام خود اقوام کے سپرد کر دینا چاہیے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا، ’’دو دہائیوں کے قبضے نے ثابت کر دیا کہ امریکی موجودگی نے سلامتی نہیں دی بلکہ وہی مغربی ایشیا میں عدم تحفظ، دہشت گردی اور عدم استحکام کا سرچشمہ تھی۔‘‘
بغداد اور واشنگٹن نے 2024ء میں اتحاد کا مشن بتدریج ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد اتحادی فوجی ملک بھر کے اڈوں سے مرحلہ وار نکلتے گئے اور ان کی موجودگی شمالی خودمختار کرد علاقے تک محدود رہ گئی۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اتحاد کے انخلا سے وہ جواز ختم ہو گیا ہے جسے ایران نواز طاقتور مسلح دھڑے اپنے ہتھیار رکھنے کے لیے پیش کرتے رہے ہیں۔
جمعرات کو عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے مسلح دھڑوں کے لیے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کی نئی مہلت 30 جون 2027ء مقرر کرنے کا اعلان کیا۔



