
بھارتی میڈیا نے اس شخص کو پاکستان کی سپیشل فورسز کا سابق فوجی قرار دیتے ہوئے کہا یہ اب لشکر طیبہ کا سینیئر کمانڈر تھا
میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں۔ بھارت کا یہ دعویٰ میں عملی طور پر یہاں آکر غلط ثابت کر رہا ہوں۔
پاکستان،ایجنسیاں
پاکستان کی مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی کو بھارت نے گزشتہ روز عسکری گروپ کا کارندہ کہہ کر دعویٰ کیا کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اس کی لاش ملی ہے۔ جسے دعوے کے مطابق بھارتی فوج نے ایک آپریشن میں ہلاک کیا۔
تاہم پاکستان کی مسلح افواج کے میڈیا ونگ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد چودھری نے اس آصف نامی فوجی کو پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ایسی بھونڈی کوششوں اور جھوٹے دعوؤں سے باز رہے اور کسی جعلی کارروائی کو بنیاد بنا کر ایک بار پھر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔
بھارتی فوج نے بدھ کے روز اپنے دعوے میں کہا تھا کہ اس نے ضلع بڈگام کے علاقے میں ایک آپریشن کے بعد ایک عسکریت پسند کی لاش قبضے میں لی ہے جس کی شناخت محمد آصف عرف موسیٰ ہاشم کے نام سے ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا نے اس شخص کو پاکستان کی سپیشل فورسز کا سابق فوجی قرار دیتے ہوئے کہا یہ اب لشکر طیبہ کا سینیئر کمانڈر تھا۔ بھارتی میڈیا میں اس آصف نامی شخص کا شناختی کارڈ بھی شائع کیا گیا۔ تاہم محمد آصف ، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے ساتھ پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے آئے اور کہا کہ میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں۔ بھارت کا یہ دعویٰ میں عملی طور پر یہاں آکر غلط ثابت کر رہا ہوں۔
محمد آصف کے بقول جب بھارتی فوج اور بھارتی میڈیا نے ان کے بارے میں اس طرح کا دعویٰ کیا تو ان کے ذاتی دوستوں نے مختلف شہروں سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا خبریں ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں بھارتی فون نمبر سے بھی کچھ کالیں موصول ہوئیں جو جانکاری کی کوشش میں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تھے۔ 2005 میں پاکستانی فوج کے ایس ایس جی گروپ کا حصہ بنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اب ایک نجی سیکیورٹی کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔ ان کی رہائش پنڈی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہے۔
آئی ایس پی آر سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے اس موقع پر بھارتی دعوؤں کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ بھارتی فوج اور اس کے میڈیا نے بلا جواز ایک سابق فوجی کو عسکریت پسند قرار دیا اور ایک جعلی واقعے میں اس کی ہلاکت کی خبر بھی دے دی۔
انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر مسئلے کی ذمہ داری پاکستان پر نہ ڈالے۔ اگر بھارت نے دورباہ سے کسی ‘فالز فلیگ آپریشن’ کی بنیاد پر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کا جواب پہلے کی طرح یادگار رہے گا اور ہم اب کی بار بھارت کو آسانی سے نہیں چھوڑیں گے۔



