اہم خبریںکاروبار

جنگ سے جہازرانی میں خلل اور اخراجات میں اضافہ، پاکستان کے برآمدی آرڈرز خطرے میں

حالیہ مہینوں میں فریٹ چارجز میں 350 فیصد اضافہ ہوا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-ادارت
ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندگان نے جمعرات کو اس خدشے کا اظہار کیا کہ غیر ملکی خریدار پاکستانی برآمدی آرڈرز کو مؤخر یا تبدیل کر سکتے ہیں کیونکہ شرقِ اوسط جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے مال برداری کے اخراجات میں اضافہ اور ترسیل سے متعلق حالات کے بارے میں امکانات کم ہو گئے ہیں۔ اس سے بیرونِ ملک مال کی فروخت یا برآمدات کے حوالے سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندگان نے کہا کہ گذشتہ مالی سال میں تقریباً 18 بلین ڈالر کی برآمدات کی گئیں لیکن موجودہ حالات میں یہ خطرات کا شکار ہے۔ تاخیر سے خاص طور پر کپڑوں اور گھریلو ٹیکسٹائل کو نقصان ہوتا ہے جو مقررہ اور مخصوص مدت کے لیے آرڈر کیے گئے ہوں۔

چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بتایا، "خریدار ترسیل کے وعدوں اور زمینی اخراجات کے بارے میں کافی محتاط ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "آرڈرز کے مؤخر، کم یا زیادہ مسابقتی مقامات کی طرف منتقل ہو جانے کا خطرہ ہے خاص طور پر نقل و حمل کے بڑے مراکز والے ممالک جہاں مال برداری کے اخراجات کم اور ترسیل کے اوقات بدستور زیادہ قابلِ اعتماد ہیں۔”

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی سے نیویارک کی ترسیل کے لیے فریٹ چارجز تقریباً 2,000 ڈالر سے بڑھ کر 9,000 ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ گئے ہیں جو 350 فیصد اضافہ ہے۔

ارشد نے کہا، "تجارت میں خلل آنے کے بعد سے مال برداری کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔”

عالمی برانڈز بشمول ایڈیڈاس، نائیکی اور پیوما کو رسد بھیجنے والے پاکستانی تیارکنندہ انٹرلوپ نے بھی فریٹ کے مہنگے اخراجات اور کم قابلِ اعتماد اوقات کی اطلاع دی۔

طویل راستے، بھاری اخراجات

پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سید طاہر حسین نے کہا، کیپ آف گڈ ہوپ (راس امید) کے طویل بحری سفر میں مزید 15-20 دن صرف ہو رہے ہیں۔

"جب آپ طویل راستے اختیار کرتے ہیں تو قدرتی طور پر آپ کا ایندھن، انشورنس پریمیم اور مختلف بالائی اخراجات بڑھ جاتے ہیں،” انہوں نے سمندری ایندھن اور دیگر عملیاتی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

رکاوٹ جہاز کی نوعیت اور راستے کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

حکومتِ پاکستان اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا کنٹینرز کی نقل و حمل کے لیے مخصوص کردہ جہاز کا حصول برآمد کنندگان کے لیے ترسیل کو بہتر بنا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ بحری امور محمد ارشد نے عرب نیوز کو بتایا، "حکومت جہاز خرید کر یا اسے لیز (کرائے) پر حاصل کر سکتی ہے لیکن اس کا انحصار مال کی ضمانت شدہ مقدار کی دستیابی پر ہو گا۔”

انہوں نے کہا، "یہ ضمانت برآمد کنندگان کی جانب سے ہونی چاہیے جنہیں جہاز کے لیے درکار مقدار میں مال کی دستیابی یقینی بنانا ہو گی۔”

یہ تجویز فی الحال مشروط ہے۔ حکومت نے نہ تو جہاز کی خریداری یا لیز پر لینے کا اعلان اور نہ ہی مجوزہ راستوں یا سروس شروع کرنے کے کسی ٹائم ٹیبل کا تعین کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button