مشرق وسطیٰاہم خبریں

فلائی دبئی واقعہ: ملوث فریق کو ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانا ہوگی، نتن یاہو؛ معاون پائلٹ کے پیچھے کسی کے ہاتھ ہونے کی تحقیقات جاری

طیارے میں موجود افراد کو بعد میں متبادل پرواز کے ذریعے تل ابیب منتقل کیا گیا۔ کپتان اور معاون پائلٹ دونوں کو سعودی عرب میں طبی امداد دی گئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

تل ابیب/دبئی: اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نتن یاہو نے فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوگیا کہ معاون پائلٹ کسی کے کہنے یا ہدایت پر کارروائی کر رہا تھا تو اس کے پسِ پردہ موجود فریق کو ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانا ہوگی۔ تاہم انہوں نے کسی مخصوص ملک یا تنظیم کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا۔

نتن یاہو نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسرائیلی حکام اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا معاون پائلٹ کو کسی نے اس کارروائی کے لیے بھیجا تھا یا نہیں۔ ان کے بقول اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ اسے کسی نے بھیجا تھا تو ذمہ دار فریق کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 30 ستمبر 2026 کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں دورانِ پرواز کپتان پر مبینہ طور پر معاون پائلٹ کے حملے کے بعد طیارہ انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہوگیا تھا۔ طیارے میں 174 افراد سوار تھے اور یہ دبئی سے تل ابیب جا رہا تھا۔ واقعے کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔

کاک پٹ میں اچانک حملہ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرواز معمول کے مطابق جاری تھی کہ معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کردیا اور اسے چاقو مارا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس دوران طیارے کی پرواز بھی خطرناک انداز میں متاثر ہوئی اور جہاز تیزی سے بلندی کھونے لگا۔

زخمی کپتان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کے افراد نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔ مزید دو پائلٹ بھی طیارے میں موجود تھے جنہوں نے صورتحال سنبھالنے کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارنے میں کردار ادا کیا۔

رائٹرز کے مطابق فلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا، تاہم واقعے کے دوران اس نے تقریباً 16 ہزار فٹ کی بلندی بہت مختصر وقت میں کھو دی۔ طیارے کی پرواز میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران ایمرجنسی سگنلز بھی جاری کیے گئے۔

مسافروں اور عملے کی مداخلت سے ممکنہ سانحہ ٹلا

واقعے کے دوران طیارے میں موجود مسافروں اور عملے نے صورتحال پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق زخمی کپتان کے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کے بعد دیگر افراد اندر پہنچے اور معاون پائلٹ کو قابو کیا۔

اس دوران طیارے میں موجود دو اضافی پائلٹس نے کنٹرول سنبھالا اور جہاز کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا۔ بعد ازاں طیارہ تبوک میں بحفاظت لینڈ کرگیا۔

رائٹرز کے مطابق طیارے میں موجود افراد کو بعد میں متبادل پرواز کے ذریعے تل ابیب منتقل کیا گیا۔ کپتان اور معاون پائلٹ دونوں کو سعودی عرب میں طبی امداد دی گئی، جبکہ بعد میں دونوں کو متحدہ عرب امارات منتقل کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

متحدہ عرب امارات میں باضابطہ تحقیقات

متحدہ عرب امارات کے حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اماراتی عدالتی حکام کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے یہ معلوم کرنے کے لیے انکوائری کا حکم دیا کہ آیا واقعے کا تعلق دہشت گردانہ سرگرمی سے تھا، حملے کے پیچھے کوئی خاص مقصد کارفرما تھا یا اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی یا کسی بیرونی فریق کی ہدایت شامل تھی۔

یہ تحقیقات اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں کہ واقعہ ایک ایسے مسافر طیارے میں پیش آیا جس میں 174 افراد سوار تھے اور جس کا راستہ دبئی سے تل ابیب تھا۔

اسرائیلی حکام بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کرنے کی تیاری کر رہے تھے تاکہ حملے کے محرکات، ممکنہ روابط اور واقعے کے پسِ پردہ حالات کو سمجھا جاسکے۔

معاون پائلٹ کا پس منظر بھی تحقیقات کا حصہ

امریکی اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں معاون پائلٹ کے پس منظر کے حوالے سے مختلف معلومات سامنے آئی ہیں۔ اے بی سی نیوز کے مطابق حکام نے اسے عمانی شہری بتایا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسے ماضی میں سیکیورٹی خدشات کے باعث عمان ایئر میں پرواز سے معطل کیا گیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات اور مکمل تحقیقات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

اسی طرح اسرائیلی وزیرِاعظم نے معاون پائلٹ کے بارے میں ’’اسلام پسند بنیاد پرستی‘‘ یا انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن انہوں نے اس دعوے کی تفصیلی شہادت عوام کے سامنے پیش نہیں کی۔ اس لیے واقعے کے محرکات اور کسی ممکنہ تنظیم یا ریاست سے تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے تک سامنے نہیں آیا۔

ایران سے مبینہ تعلق کی بات بھی سامنے آئی، مگر تصدیق نہیں

واقعے کے بعد بعض سیاسی بیانات میں معاون پائلٹ کے ممکنہ ایرانی تعلق کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر ایران سے تعلق کے امکان کو دیکھا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے بھی کہا کہ معاملے پر کام جاری ہے۔

نتن یاہو نے اس سے قبل ایران کے ممکنہ کردار کے بارے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اس واقعے میں ملوث تھا۔ یوں کسی ریاست یا تنظیم کو ذمہ دار قرار دینے کے حوالے سے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

فلائٹ ڈیٹا سے خطرناک صورتحال کا انکشاف

پرواز کے دوران طیارے کی بلندی میں اچانک اور غیر معمولی کمی نے واقعے کی سنگینی کو واضح کیا۔ رائٹرز کے مطابق فلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا، لیکن واقعے کے دوران تقریباً 16 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی تیزی سے کھو بیٹھا۔

طیارے کی رفتار اور بلندی میں شدید تبدیلیوں کے دوران ایمرجنسی کوڈز بھی استعمال کیے گئے۔ اس کے بعد طیارہ سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔

ابتدائی رپورٹس میں بلندی میں کمی کے اعداد مختلف انداز میں بیان کیے گئے ہیں، تاہم فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جہاز نے بہت مختصر وقت میں ہزاروں فٹ بلندی کھوئی، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

فلائی دبئی کی پروازیں اور تحقیقات

واقعے کے بعد فلائی دبئی نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کیں اور تبوک میں موجود مسافروں کو متبادل طیاروں کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچانے کے انتظامات کیے۔

واقعے نے ایئرلائن سیکیورٹی، کاک پٹ کے تحفظ اور پرواز کے دوران عملے کے کسی رکن کی جانب سے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہوتے ہیں اور کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پوری ایئرلائن کی مجموعی حفاظتی صورتحال کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

زخمی کپتان کی حالت اور تحقیقات کا اگلا مرحلہ

واقعے میں زخمی ہونے والے کپتان کی شناخت بھارتی شہری سمت مچھر (Smit Machchhar) کے طور پر ہوئی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انہوں نے شدید زخمی ہونے کے باوجود طیارے میں موجود دیگر افراد کی مدد سے صورتحال پر قابو پانے میں کردار ادا کیا۔

واقعے کے بعد انہیں طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب معاون پائلٹ کو حراست میں لے کر اس سے واقعے کے محرکات اور ممکنہ پس منظر کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

اس واقعے کی تحقیقات اب اس بنیادی سوال کے گرد گھوم رہی ہیں کہ آیا یہ ایک فرد کا اقدام تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ، دہشت گردانہ مقصد یا بیرونی ہدایت موجود تھی۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری تحقیقات میں معاون پائلٹ کے پس منظر، مبینہ حملے کے محرکات، کاک پٹ میں ہتھیار پہنچنے کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ بیرونی رابطے سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جب تک تحقیقات سے قابلِ اعتماد اور حتمی شواہد سامنے نہیں آتے، کسی مخصوص ملک یا تنظیم کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم نتن یاہو کا ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانے کا انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت اس واقعے کے کسی ممکنہ بیرونی رابطے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button