
ٹرمپ انتظامیہ کا انسانی حقوق فنڈز کی ترجیحات میں بڑا ردوبدل، مغربی اقدار اور آزادیٔ اظہار کے منصوبوں کے لیے لاکھوں ڈالر مختص
ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باوجود تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے ڈیموکریسی فنڈ سے نئی گرانٹس؛ یورپ، برطانیہ، جنوبی افریقہ، برازیل اور نائیجیریا کے پروگرام شامل
سید مدثر احمد-ادارت
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ کے لیے مختص امریکی فنڈز کے استعمال کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے لاکھوں ڈالر کی رقم ایسے پروگراموں کے لیے مختص کی ہے جن میں مغربی تہذیبی اقدار کے تحفظ، آزادیٔ اظہار، قومی خودمختاری، جنوبی افریقہ میں افریقانرز کے حقوق اور یورپ میں اجتماعی ہجرت کے اثرات کو دستاویزی شکل دینے جیسے موضوعات شامل ہیں۔
امریکی میڈیا ادارے سی این این نے معاملے سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے ڈیموکریسی فنڈز میں سے متعدد گرانٹس کی منظوری دی۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں وسیع تر تبدیلی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی انسانی حقوق کے پروگراموں کے مقابلے میں آزادیٔ اظہار، قومی خودمختاری، ’’فطری حقوق‘‘، ہجرت اور مغربی تہذیبی اقدار جیسے موضوعات کو زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔
فنڈز کے استعمال کی ترجیحات میں تبدیلی
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے جن پروگراموں کو فنڈ فراہم کیا گیا یا ان کے لیے رقم مختص کی گئی، ان میں بعض ایسے منصوبے شامل ہیں جو یورپ اور برطانیہ میں اجتماعی ہجرت کے اثرات، آزادیٔ اظہار اور سیاسی خودمختاری جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے نقطۂ نظر کے مطابق یہ موضوعات اس کی موجودہ خارجہ پالیسی ترجیحات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انتظامیہ آزادیٔ اظہار کی حمایت، سنسرشپ کی مخالفت اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم عناصر میں شمار کرتی ہے۔
تاہم ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے فنڈز کے اس استعمال پر اعتراض کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کانگریس نے جمہوریت فنڈز کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک انسانی حقوق کے محافظوں، خلاف ورزیوں سے متاثرہ افراد اور جمہوری اداروں کی حمایت مقرر کیا تھا۔
سینیٹر جین شاہین کا اعتراض
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اعلیٰ ترین رکن سینیٹر جین شاہین نے ان فنڈز کی نئی ترجیحات پر اعتراض اٹھایا۔
شاہین کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے مستحکم جمہوری ممالک میں مخصوص سیاسی یا نظریاتی پروگراموں کے لیے رقم استعمال کرنا جمہوریت فنڈز کے روایتی مقصد سے مختلف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات امریکی اقدار اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شاہین نے مالی سال کے اختتام سے قبل تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کی 10 مجوزہ گرانٹس پر اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم انتظامیہ نے ان میں سے بعض فنڈز کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھا۔
محکمہ خارجہ: کانگریس کو مطلوبہ اطلاع دے دی گئی
امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ فنڈنگ کے حوالے سے کانگریس کو اطلاع دینے سے متعلق قانونی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے انتظامیہ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صدر ٹرمپ کے اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد ان پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہے جنہیں انتظامیہ امریکہ اور دنیا کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے۔
پیگوٹ کے مطابق امریکی حکومت مغربی تہذیب کے دفاع، سنسرشپ کی مخالفت، اجتماعی ہجرت کے دور کے خاتمے اور جنوبی افریقہ میں حکومت کی سرپرستی میں ہونے والے نسلی امتیاز کے خلاف اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یورپ کے لیے 50 لاکھ ڈالر کا پروگرام
مجوزہ گرانٹس میں ایک پروگرام کے لیے تقریباً 50 لاکھ ڈالر مختص کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جس کا مقصد یورپ کو ایک تہذیبی اتحاد کے طور پر دیکھنے والے منصوبوں کی حمایت کرنا ہے۔
اس پروگرام کے اہداف میں تحقیق، عوامی مباحثے اور سیاسی اصلاحات کے ذریعے آزادیٔ اظہار، سیاسی مسابقت اور قومی خودمختاری کے تحفظ جیسے موضوعات شامل ہیں۔
یہ پروگرام خاص طور پر اس لیے توجہ کا مرکز بنا ہے کہ امریکی جمہوریت فنڈز روایتی طور پر ایسے ممالک میں جمہوری اداروں اور انسانی حقوق کی حمایت کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں جہاں جمہوری نظام محدود یا سیاسی آزادیوں پر پابندیاں موجود ہوں۔ نئی ترجیحات میں یورپ اور برطانیہ جیسے مستحکم جمہوری معاشروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں افریقانرز کے حقوق
فنڈنگ کے نئے منصوبوں میں جنوبی افریقہ کے افریقانرز کے حقوق بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی جنوبی افریقہ میں سفید فام افریقانرز سے متعلق معاملات کو اپنی خارجہ پالیسی میں نمایاں کر چکی ہے۔
امریکی حکومت نے افریقانرز کو مبینہ نسلی امتیاز اور زمین و جائیداد سے متعلق پالیسیوں کے باعث درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت تاہم ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
اسی معاملے کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 میں افریقانرز کو امریکی پناہ گزین پروگرام میں ترجیح دینے کے اقدامات بھی کیے تھے۔ CNN کے مطابق بعد میں انتظامیہ نے 2027 کے لیے پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 17,500 مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، جس میں افریقانرز کو نمایاں حصہ ملنے کی توقع تھی۔
برازیل میں لولا حکومت سے اختلافات
نئی فنڈنگ میں برازیل سے متعلق پروگرام بھی شامل ہیں، جہاں ٹرمپ انتظامیہ اور صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی حکومت کے درمیان مختلف سیاسی معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایسے منصوبوں کی حمایت کرنا چاہتی ہے جو عدالتی اختیارات کے مبینہ تجاوز اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے خلاف کام کریں۔
اس تناظر میں برازیل کی سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی موریس کا معاملہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ان پر پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم بعد میں یہ پابندیاں ختم کردی گئیں۔ موریس سابق صدر جائر بولسونارو کے خلاف مقدمات اور ان سے متعلق عدالتی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے اہم جج رہے ہیں۔
نائیجیریا بھی نئے پروگراموں میں شامل
نئی ترجیحات میں نائیجیریا بھی شامل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وہاں عیسائیوں کے خلاف مبینہ بڑے پیمانے پر تشدد اور ہلاکتوں کے معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نائیجیریا میں مجوزہ پروگراموں کو بھی امریکی انتظامیہ کی موجودہ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
روایتی جمہوریت فنڈ سے مختلف سمت
امریکی جمہوریت فنڈز کے روایتی استعمال اور موجودہ انتظامیہ کی ترجیحات میں فرق اس معاملے کا اہم پہلو ہے۔
عام طور پر ایسے فنڈز آمرانہ حکومتوں، محدود جمہوری نظام رکھنے والے ممالک اور ایسے معاشروں میں انسانی حقوق، آزاد میڈیا، سول سوسائٹی اور جمہوری اداروں کی حمایت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ گرانٹس میں یورپ، برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کے پروگرام بھی شامل ہیں جہاں جمہوری ادارے موجود ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حامی اس تبدیلی کو آزادیٔ اظہار، قومی خودمختاری اور مغربی معاشروں کے تحفظ سے متعلق نئے امریکی خارجہ پالیسی ایجنڈے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی انسانی حقوق اور جمہوریت کے پروگراموں کا روایتی مقصد تبدیل ہو رہا ہے۔
کانگریس اور انتظامیہ کے درمیان اختیار کا سوال
فنڈز کے استعمال پر پیدا ہونے والے اختلاف نے امریکی کانگریس اور انتظامیہ کے درمیان خارجہ پالیسی کے مالی اختیارات سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کیا ہے۔
سینیٹر جین شاہین اور دیگر ڈیموکریٹک قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ کانگریس کی جانب سے مختص کیے گئے فنڈز کو ان مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جن کے لیے انہیں منظور کیا گیا تھا۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کانگریس کو مطلوبہ اطلاعات فراہم کی جا چکی ہیں اور فنڈنگ کے عمل کے قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی امریکی غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی پروگراموں کے حجم، مقاصد اور ترجیحات میں وسیع تبدیلیاں کر رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں وسیع تر تبدیلی
نئی فنڈنگ کو انتظامیہ کی وسیع تر خارجہ پالیسی تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت میں قومی خودمختاری، سرحدی کنٹرول، آزادیٔ اظہار اور امریکی قومی مفادات کو خارجہ پالیسی میں نمایاں اہمیت دی ہے۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سمیت مختلف مواقع پر آزادیٔ اظہار، مذہبی آزادی، قومی خودمختاری اور سرحدوں کے کنٹرول کی حمایت پر زور دیا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کی نئی ترجیحات میں یورپ میں اجتماعی ہجرت، مبینہ سنسرشپ اور قومی شناخت جیسے موضوعات زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
نئی سمت کے ممکنہ اثرات
فنڈز کی ترجیحات میں یہ تبدیلی امریکی خارجہ پالیسی کے روایتی انسانی حقوق کے کردار کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ ایک طرف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آزادیٔ اظہار، قومی خودمختاری اور مغربی تہذیبی اقدار کا تحفظ بھی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ دوسری طرف ناقدین اسے امریکی جمہوریت فنڈز کے بنیادی مقصد سے انحراف قرار دے رہے ہیں۔
اس معاملے میں حتمی قانونی اور سیاسی اثرات کا انحصار کانگریس اور انتظامیہ کے درمیان جاری اختلاف، فنڈنگ کے قانونی طریقۂ کار اور ان پروگراموں کے عملی نتائج پر ہوگا۔
فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے مطلوبہ کانگریسی نوٹیفکیشن مکمل کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک قانون ساز ان فنڈز کے استعمال اور ترجیحات پر اعتراضات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یوں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکی جمہوریت اور انسانی حقوق کے فنڈز کے استعمال کا دائرہ روایتی پروگراموں سے آگے بڑھ کر آزادیٔ اظہار، قومی خودمختاری، ہجرت اور مغربی تہذیبی شناخت جیسے موضوعات تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔



