اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

قصور بارڈر پر بی ایس ایف کی فائرنگ، 2 پاکستانی شہری جاں بحق،ایک زخمی؛ بھارتی ذرائع کی تشہیر: دراندازی کی کوشش ناکام بنائی گئی

پاک بھارت بین الاقوامی سرحد سے متعلق طے شدہ معاہدے اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم- ادارت پاکستان

لاہور/قصور: پاکستان اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد کے قریب قصور کے علاقے میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق جنکی شناخت عظمت رسول ولد عطا اللہ اور محسن جٹ کے طور پر کی گئی ہے۔جبکہ ایک زخمی ہے. ذرائع کے مطابق تیسرے شہری کو فائرنگ کے نتیجے میں زخم آئے، تاہم دستیاب ابتدائی اطلاعات میں اس کی شناخت اور حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں شہری نہتے تھے اور ان کی جانب سے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی، جبکہ بھارتی ذرائع نے واقعے کو مبینہ دراندازی کی کوشش قرار دیا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعہ 2 اکتوبر 2026 کو قصور کے قریب پیش آیا، جہاں لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی شہری سرحدی ستون سے چند قدم آگے چلے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں نے مبینہ طور پر بغیر وارننگ فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

پاکستانی مؤقف: سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے واقعے کے بارے میں واضح کیا ہے کہ تینوں شہریوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق شہری صرف بارڈر پلر سے چند قدم آگے گئے تھے، جس کے بعد بی ایس ایف اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی۔

پاکستانی حکام سے منسوب اس مؤقف کے مطابق واقعہ پاک بھارت بین الاقوامی سرحد سے متعلق طے شدہ معاہدے اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOPs) کی خلاف ورزی ہے۔

ریڈیو پاکستان اور دیگر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہی تفصیلات نشر کی ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر کسی مشترکہ سرحدی تحقیقات یا غیر جانب دار ادارے کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بھارتی مؤقف اس سے مختلف

واقعے کے بارے میں بھارتی میڈیا اور ذرائع نے مختلف مؤقف پیش کیا ہے۔ بھارتی رپورٹس کے مطابق بی ایس ایف نے پنجاب کے ترن تارن سیکٹر میں مبینہ طور پر بین الاقوامی سرحد عبور کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو پاکستانی افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

بھارتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان افراد کو روکنے اور واپس جانے کے لیے خبردار کیا، تاہم وہ آگے بڑھتے رہے، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ ایک تیسرے شخص کے واپس پاکستان کی جانب فرار ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

یوں واقعے کے بنیادی حقائق میں دونوں جانب سے مختلف بیانیے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے شہریوں کو نہتے مقامی افراد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی، جبکہ بھارتی ذرائع اسے دراندازی کی کوشش کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

مقام اور واقعے کی تفصیلات پر بھی اختلاف

رپورٹس میں واقعے کے جغرافیائی مقام کے حوالے سے بھی کچھ فرق سامنے آیا ہے۔ پاکستانی ذرائع اسے قصور، لدھڑ کے قریب پاک بھارت بین الاقوامی سرحد کا واقعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بھارتی رپورٹس میں ترن تارن کے بی او پی راجوکے علاقے کا ذکر کیا گیا ہے۔

دونوں جانب سے جاری ابتدائی اطلاعات میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی تعداد پر اتفاق نظر آتا ہے، جبکہ تیسرا شخص بھی واقعے میں شامل بتایا گیا ہے۔ تاہم فائرنگ سے قبل کی صورتحال، وارننگ دیے جانے، سرحدی ستون اور باڑ کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانیے مختلف ہیں۔

واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پاک بھارت کشیدگی دوبارہ نمایاں ہے

قصور بارڈر کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی سطح پر کشیدگی کے مختلف واقعات زیرِ بحث ہیں۔

اس واقعے سے ایک روز قبل پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران بھارتی دعوے سے متعلق ایک پاکستانی شہری محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھارتی دعوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی ذرائع نے جس شخص کو مبینہ طور پر ہلاک قرار دیا، وہ پاکستان میں موجود ہے۔ اس موقع پر پاکستانی فوجی قیادت نے بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ بھی دیا تھا۔

تاہم دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر قصور بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کو اس سے ایک روز قبل سامنے آنے والے تنازع سے براہِ راست جوڑنے کے لیے فی الحال کوئی آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

سرحدی علاقوں میں شہریوں کی نقل و حرکت کا حساس معاملہ

پاکستان اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد کے قریب پنجاب کے متعدد دیہات ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں مقامی آبادی کا روزمرہ معمول سرحدی حدود کے قریب رہنے اور زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ ایسے علاقوں میں سرحدی ستون، باڑ اور حفاظتی حدود کے حوالے سے معمولی غلط فہمی بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

قصور بارڈر کے تازہ واقعے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ فائرنگ کے وقت تینوں افراد کی اصل پوزیشن کیا تھی، آیا انہیں وارننگ دی گئی یا نہیں، اور آیا انہوں نے بین الاقوامی سرحد یا سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوئی کوشش کی تھی یا نہیں۔

ان سوالات کے جوابات کے لیے دونوں جانب سے سرکاری سطح پر مکمل تحقیقات اور قابلِ تصدیق شواہد اہم ہوں گے۔

سرحدی پروٹوکولز پر سوالات

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے واقعے کو بین الاقوامی سرحد سے متعلق معاہدے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تاہم دستیاب ابتدائی رپورٹس میں کسی مخصوص سرحدی معاہدے کی وہ شقیں سامنے نہیں آئی ہیں جن کی مبینہ خلاف ورزی ہوئی۔

اسی لیے اس مرحلے پر قانونی یا معاہداتی خلاف ورزی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مؤقف کو اسی نسبت کے ساتھ بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر پاکستانی اعتراض

پاکستانی ذرائع نے بھارتی میڈیا کی ان رپورٹس پر بھی اعتراض کیا جن میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے افراد کو مبینہ درانداز قرار دیا گیا۔

پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں افراد مقامی پاکستانی شہری تھے اور انہوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ دوسری طرف بھارتی رپورٹس میں بی ایس ایف کی کارروائی کو سرحد پار داخلے کی مبینہ کوشش روکنے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

چونکہ دونوں طرف سے واقعے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، اس لیے آزادانہ تصدیق، جائے وقوعہ کی معلومات اور سرکاری تحقیقات کی تفصیلات اس معاملے کی حقیقت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

واقعے کے ممکنہ سفارتی اثرات

پاک بھارت سرحد پر شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے حساس سیکیورٹی ماحول میں مزید تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم اس وقت دستیاب اطلاعات میں پاکستان یا بھارت کی جانب سے اس مخصوص واقعے کے نتیجے میں کسی باضابطہ سفارتی اقدام کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی۔

آئندہ پیش رفت میں سرحدی حکام کے درمیان رابطہ، سفارتی سطح پر احتجاج، واقعے کی مزید تحقیقات یا دونوں ممالک کی جانب سے اضافی وضاحتیں اہم ہوسکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button