پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ: پاکستان کا انسانی حقوق کے عالمی اور مساوی اطلاق پر زور، محمد اقبال عثمان جدون

غزہ، جموں و کشمیر، اسلامو فوبیا اور حقِ ترقی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، عالمی برادری سے اصول اور عمل کے درمیان فرق ختم کرنے کا مطالبہ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید مدثر احمد-ادارت

اہم نکات

  • پاکستان نے انسانی حقوق کے عالمی اور مساوی اطلاق پر زور دیا۔
  • غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کا مطالبہ کیا۔
  • فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت دہرائی۔
  • پاکستان نے جموں و کشمیر کے بارے میں اپنے دیرینہ مؤقف کو اقوام متحدہ میں پیش کیا۔
  • اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور زینو فوبیا کے خلاف عالمی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
  • حقِ ترقی کو انسانی حقوق کے عالمی ایجنڈے میں مناسب مقام دینے پر زور دیا۔
  • ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل، موسمیاتی انصاف اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی ضرورت اجاگر کی۔
  • عالمی انسانی حقوق کے نظام میں اصول اور عمل کے درمیان فرق ختم کرنے پر زور دیا۔


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی تیسری کمیٹی کے عمومی مباحثے میں پاکستان نے انسانی حقوق کے عالمی نظام میں موجود تضادات اور اصولوں کے غیر مساوی اطلاق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ جغرافیہ، مذہب، نسل، قومیت یا سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تمام انسانوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان گروپ آف 77 اور چین کی جانب سے پیش کیے گئے بیانات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ ہر انسان کے لیے آزادی، مساوات اور وقار کے بنیادی حق کی ضمانت کا وعدہ کرتے ہیں، تاہم اصل چیلنج اصولوں کی کمی نہیں بلکہ ان پر یکساں اور مؤثر عمل درآمد کا فقدان ہے۔

انسانی حقوق کے اصول اور عمل میں بڑھتا ہوا فرق

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کئی دہائیوں میں ایک وسیع بین الاقوامی نظام تشکیل دیا گیا، لیکن آج اس نظام کو درپیش بنیادی مسئلہ اصول اور عمل، وعدوں اور ان پر عمل درآمد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔

ان کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات، غیر ملکی قبضے، نسل پرستی، زینو فوبیا اور اسلامو فوبیا انسانی وقار کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں، جبکہ غربت اور معاشی عدم مساوات بھی لاکھوں افراد کو بنیادی حقوق سے محروم رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے انسانی ترقی کے لیے بے مثال مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ٹیکنالوجی تک غیر مساوی رسائی اور امتیازی سلوک کی نئی شکلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کے مطابق انسانی حقوق کا عالمی نظام اسی وقت اپنی ساکھ برقرار رکھ سکتا ہے جب عالمگیریت کا مطلب حقیقی معنوں میں عالمگیریت ہو۔

بین الاقوامی قانون کا یکساں اطلاق ضروری ہے

پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ انسانی زندگی کی قدر کا تعین کسی فرد کی شہریت، مذہب یا سیاسی اہمیت کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق بین الاقوامی قانون کو ایک صورتحال میں پوری قوت سے نافذ اور دوسری صورتحال میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بعض افراد سے احتساب کا مطالبہ اور دوسروں کے لیے سزا سے استثنیٰ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یہ تضاد غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے۔

غزہ: شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کا مطالبہ

پاکستان نے فلسطینی عوام، بالخصوص غزہ کے مکینوں کی صورتحال کو عالمی انسانی حقوق کے نظام کے لیے ایک اہم آزمائش قرار دیا۔

سفیر عثمان جدون کے مطابق:

  • شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے؛
  • انسانی امداد بلا رکاوٹ ضرورت مندوں تک پہنچائی جائے؛
  • بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی جائے؛
  • خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنایا جائے؛
  • فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہونا چاہیے۔

پاکستانی سفارت کار نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت پر بھی زور دیا۔

جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اٹھا دیا

سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں جن میں علاقے کے مستقبل کے تعین کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر مقبوضہ علاقے میں بنیادی آزادیوں پر پابندیوں، گرفتاریوں اور آبادیاتی و سیاسی صورتحال تبدیل کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے۔

یہ پاکستان کا بیان کردہ مؤقف ہے؛ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

حقِ ترقی کو انسانی حقوق کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا مطالبہ

پاکستان نے انسانی حقوق کو صرف سیاسی و شہری آزادیوں تک محدود رکھنے کے بجائے معاشی، سماجی اور ترقیاتی حقوق کو بھی مساوی اہمیت دینے پر زور دیا۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی کمی، ناقابلِ برداشت قرضوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور بڑھتے ہوئے تکنیکی فرق جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

پاکستان کے مطابق ترقی کے لیے مالی اعانت، موسمیاتی انصاف، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات انسانی حقوق کے تحفظ کی عالمی کوششوں کا لازمی حصہ ہونی چاہئیں۔

انہوں نے حقِ ترقی کو خیرات یا استحقاق کے بجائے ایک ناقابلِ تنسیخ انسانی حق قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس حوالے سے ایک بین الاقوامی قانونی معاہدے کی منظوری کی حمایت کرتا ہے۔

اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی اقدامات پر زور

پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے مسئلے کو بھی نمایاں کیا۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ مذہب یا شناخت کی بنیاد پر افراد اور برادریوں کو نشانہ بنانا انسانی وقار کے اصول کے منافی ہے۔ انہوں نے اسلامو فوبیا کے اظہار میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مقدس علامات کی بے حرمتی اور مسلمانوں یا ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی کوششوں اور او آئی سی کی حمایت سے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کی تقرری بھی اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ ان اقدامات کو عملی اور مستقل بین الاقوامی کوششوں میں تبدیل کیا جائے۔

نسل پرستی اور زینو فوبیا کے خاتمے کی ضرورت

پاکستان نے انسانی حقوق کے عالمی ایجنڈے میں نسل پرستی، زینو فوبیا اور مذہبی تعصب کے خاتمے کو بھی اہم قرار دیا۔

سفیر عثمان جدون کے مطابق کسی بھی معاشرے میں انسانی وقار کا تحفظ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک افراد کو ان کی شناخت، عقیدے یا پس منظر کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا رہے۔

پاکستان نے باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور تمام افراد کے لیے مساوی حقوق کے فروغ پر زور دیا۔

غربت، بھوک اور عدم مساوات بھی انسانی حقوق کا مسئلہ

پاکستانی مندوب نے کہا کہ انسانی حقوق کو صرف سیاسی اور شہری آزادیوں کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ خوف سے آزادی کے ساتھ ساتھ غربت، بھوک، بے گھری، صحت اور تعلیم تک رسائی بھی انسانی وقار سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک سے محروم بچے، رہائش سے محروم خاندان اور صحت یا تعلیم کی بنیادی سہولیات تک رسائی نہ رکھنے والی آبادیوں کے لیے انسانی وقار کا تصور عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی گنجائش پیدا کرنا اور عالمی اقتصادی نظام میں موجود ساختی عدم مساوات کو کم کرنا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی: مواقع بھی، نئے چیلنجز بھی

پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی توجہ دلائی۔ سفیر عثمان جدون کے مطابق ٹیکنالوجی تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی شمولیت کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، تاہم اس تک غیر مساوی رسائی پہلے سے موجود سماجی و اقتصادی فرق کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان کی قیادت میں 2 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے "Access to Assistive Technology” کے عنوان سے قرارداد 80/305 منظور کی۔ قرارداد بغیر ووٹ کے منظور ہوئی اور اس کا مقصد معاون ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی کے ذریعے معذور افراد، بزرگوں اور دیگر ضرورت مند افراد کی شمولیت اور خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔

عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت

پاکستان نے اپنے مؤقف میں کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ صرف قراردادیں منظور کرنے سے نہیں بلکہ ان کے عملی نفاذ سے قائم ہوگی۔

سفیر عثمان جدون نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل، موسمیاتی انصاف، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے نظام کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں انسانی حقوق اور ترقی کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔

پاکستان کا مرکزی پیغام

پاکستانی وفد کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ انسانی حقوق کا اطلاق منتخب بنیادوں پر نہیں بلکہ مساوی طور پر ہونا چاہیے۔ پاکستان نے غزہ، جموں و کشمیر، اسلامو فوبیا، غربت، عدم مساوات، ترقی کے حق، ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کو ایک وسیع انسانی حقوق کے ایجنڈے کے طور پر پیش کیا۔

سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اقوام متحدہ میں کیے گئے وعدوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں کو درپیش حقیقی حالات کے درمیان موجود خلا کو ختم کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button