
بچے کو وقت دیں، موبائل نہیں……علی عباس کاظمی
یوں چند منٹ کی خاموشی کے بدلے ہم بچے کی توجہ، تخیل اور حقیقی دنیا سے تعلق کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں
ہم نے اپنے بچوں کو سہولتیں دیتے دیتے شاید ان سے زندگی کی سب سے بڑی سہولت چھین لی ہے۔۔۔خود سوچنے کی صلاحیت۔ آج کا بچہ پہلے کی طرح سوال کرتا ہے، مگر جواب تلاش کرنے کے لیے چند لمحے سوچنے کے بجائے فوراً موبائل اٹھاتا ہے۔ کبھی گوگل، کبھی یوٹیوب اور اب مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی، اس کے لیے ہر سوال کا جواب حاضر ہے۔ بظاہر یہ ترقی ہے، مگر ذرا ٹھہر کر دیکھیے تو ایک خطرناک تبدیلی ہمارے گھروں کی دہلیز پار کر چکی ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری نئی نسل میں برداشت کیوں کم ہو رہی ہے، کتاب سے دوری کیوں بڑھ رہی ہے، معمولی مشکل پر گھبراہٹ کیوں پیدا ہو جاتی ہے اور بچے چند لمحے موبائل کے بغیر کیوں نہیں گزار سکتے۔یہاں سوال موبائل فون یا اے آئی کا دشمن بننے کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے ان ایجادات کو اپنے بچوں کی زندگی میں کس مقام پر بٹھا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کی مدد کے لیے بنی تھی، لیکن اگر انسان اپنی بنیادی ذہنی صلاحیتیں ہی اس کے حوالے کر دے تو پھر سہولت آہستہ آہستہ کمزوری بن جاتی ہے۔
سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا بچہ، خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر، اگر گھر میں تنگ کر رہا ہے، شور کر رہا ہے، ضد کر رہا ہے یا بور ہو رہا ہے تو اس کا علاج موبائل فون نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں ایک آسان نسخہ عام ہو چکا ہے، بچہ رو رہا ہے، موبائل پکڑا دو۔ کھانا نہیں کھا رہا، موبائل سامنے رکھ دو۔ والدین کو آرام کرنا ہے، موبائل بچے کے ہاتھ میں دے دو۔ مہمان آئے ہیں، بچہ درمیان میں آ رہا ہے، اسے کارٹون لگا کر ایک طرف بٹھا دو۔ یوں چند منٹ کی خاموشی کے بدلے ہم بچے کی توجہ، تخیل اور حقیقی دنیا سے تعلق کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچہ تنگ کر رہا ہے تو ضروری نہیں کہ اسے موبائل چاہیے۔ ممکن ہے اسے والدین کا وقت چاہیے۔ ممکن ہے وہ کھیلنا چاہتا ہو۔ ممکن ہے وہ کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہو۔ ممکن ہے وہ صرف توجہ چاہتا ہو۔ لیکن ہم نے والدین ہونے کے بجائے ریموٹ کنٹرول بننا آسان سمجھ لیا ہے۔ بٹن دبایا، بچہ خاموش۔ اسکرین چلائی، گھر میں سکون۔ مگر یہ سکون کتنا دیرپا ہے؟ اور اس خاموشی کے اندر بچے کے ذہن میں کیا ہو رہا ہے، شاید ہم نے کبھی سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی۔
بچپن دراصل انسان کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچہ مٹی سے کھیل کر، چیزیں توڑ کر، دوبارہ جوڑ کر، سوال پوچھ کر، غلطی کر کے اور دوبارہ کوشش کر کے سیکھتا ہے۔ جب ہم اس کے ہر خالی لمحے کوموبائل فون کی اسکرین سے بھر دیتے ہیں تو ہم اسے بوریت سے بچانے کے ساتھ ساتھ تخلیقی سوچ کے ان مواقع سے بھی محروم کر دیتے ہیں جن میں اس کا ذہن اپنے طور پر کچھ نیا تخلیق کرتا ہے۔پھر یہی بچہ سکول جاتا ہے۔ کتابیں اس کے سامنے ہوتی ہیں، استاد سوال کرتا ہے، مگر گھر میں اسے ہر مشکل کا ایک آسان راستہ مل چکا ہوتا ہے۔۔۔ موبائل۔ پہلے گوگل تھا، اب اے آئی ہے۔ سوال لکھو اور جواب حاضر۔ مضمون لکھو اور چند سیکنڈ میں تیار۔ مشکل سوال حل کرو اور مکمل طریقہ سامنے۔ ہوم ورک کرو اور جواب کاپی کر کے جمع کرا دو۔ استاد خوش کہ ہوم ورک مکمل ہے، والدین خوش کہ بچے نے کام کر لیا، بچہ خوش کہ چند منٹ میں جان چھوٹ گئی۔ مگر اصل میں ہارا کون؟ ۔۔۔تعلیم۔
ہوم ورک صرف کاپی پر چند صفحات بھرنے کا نام نہیں۔ اس کا مقصد بچے کے ذہن کو کام دینا ہے۔ استاد نے اگر ریاضی کا سوال دیا ہے تو وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بچہ مسئلہ کیسے سمجھتا ہے۔ اگر مضمون لکھنے کو کہا ہے تو مقصد یہ ہے کہ بچہ اپنے خیالات کو الفاظ میں کیسے ڈھالتا ہے۔ اگر کسی موضوع پر چند سطریں لکھنے کو کہا ہے تو بچے کے اندر مشاہدہ، مطالعہ اور اظہار کی صلاحیت پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر اے آئی یہ سب کام بچے کی جگہ کر دے تو کاپی پر جواب ضرور آ جائے گا، لیکن بچے کے ذہن میں علم نہیں آئے گا۔اے آئی سے مدد لینے اور اے آئی سے اپنا کام کروانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بچہ پہلے خود سوال حل کرے، اپنی غلطی تلاش کرے، پھر اے آئی سے پوچھے کہ میری غلطی کہاں ہے، یہ ایک مفید طریقہ ہے۔ لیکن سوال دیکھتے ہی جواب مانگ لینا، پھر اسے جوں کا توں کاپی کر دینا، بچے کو علم نہیں دیتا، صرف کام مکمل کرنے کی عادت دیتا ہے۔
آج شاید یہ معمولی بات لگے۔ لیکن کل یہی بچہ عملی زندگی میں داخل ہوگا۔ وہاں ہر مشکل کے سامنے کوئی اے آئی اس کی کاپی پر جواب لکھنے نہیں بیٹھا ہوگا۔ امتحان میں سوالیہ پرچہ ہوگا اور سامنے صرف اس کی اپنی قابلیت ہوگی۔ ملازمت کے انٹرویو میں کوئی چیٹ بوٹ اس کے کان میں جواب نہیں ڈالے گا۔ زندگی کے مشکل فیصلوں میں کوئی مشین اس کی جگہ ذمہ داری نہیں اٹھائے گی۔ وہاں اسے خود سوچنا ہوگا، خود فیصلہ کرنا ہوگا اور اپنے فیصلے کے نتائج بھی خود برداشت کرنا ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے لیے اے آئی پر پابندی کے بجائے اے آئی کے صحیح استعمال کی تربیت کرنی چاہیے۔ بچے کو سمجھایا جائے کہ اے آئی تمہاری مدد کر سکتی ہے، تمہاری جگہ نہیں لے سکتی۔ جواب حاصل کرنا علم نہیں، جواب کو سمجھنا علم ہے۔ کام مکمل کرنا کامیابی نہیں، کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا کامیابی ہے۔
اور ایک اور خطرناک پہلو ہے، موبائل سے دوری کا خوف۔ بعض گھروں میں یہ منظر اب غیر معمولی نہیں کہ والدین موبائل واپس لیتے ہیں تو بچہ شدید غصے میں آ جاتا ہے، چیختا ہے، روتا ہے، ضد کرتا ہے، چیزیں پھینکتا ہے یا گھر کے ماحول کو کشیدہ کر دیتا ہے۔ ہر ایسے رویے کو طبی اصطلاح یا بیماری کا نام دینا درست نہیں، لیکن یہ ضرور سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک آلہ بچے کے مزاج، معمول اور گھریلو رویے پر اتنا اثر انداز ہو گیا ہے تو کہیں ہم نے اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت تو نہیں دے دی؟والدین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے صرف ہماری نصیحتیں نہیں سنتے، وہ ہمارے معمولات دیکھتے ہیں۔ اگر باپ کھانے کی میز پر موبائل دیکھ رہا ہے، ماں ہر چند منٹ بعد فون چیک کر رہی ہے، گھر میں گفتگو کے بجائے ہر شخص اپنی اپنی اسکرین میں مصروف ہے تو پھر بچے سے یہ توقع کرنا کہ وہ موبائل سے دور رہے، شاید خود فریبی ہے۔
بچے کو کتاب پڑھنے کا کہیں گے تو اسے خود بھی کتاب کے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ بچے کو موبائل کم استعمال کرنے کا کہیں گے تو والدین کو بھی اپنی اسکرین ٹائم پر نظر ڈالنا ہوگی۔ بچے کو گفتگو کا عادی بنانا ہے تو گھر میں گفتگو کا ماحول بنانا ہوگا۔ بچے کو سوال کرنے کی عادت ڈالنی ہے تو اس کے سوالوں سے جان نہیں چھڑانی ہوگی۔ہمیں اپنے بچوں کو ہر وقت مصروف رکھنے کی ضرورت نہیں۔ بچے کا کچھ دیر خالی بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ کبھی اسے صحن میں کھیلنے دیں، کبھی مٹی سے کھیلنے دیں، کبھی سائیکل چلانے دیں، کبھی کتاب ہاتھ میں دیں، کبھی اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کی بات سنیں۔ اسے یہ موقع دیں کہ وہ خود سوچے کہ اب کیا کرنا ہے۔ کیونکہ ہر لمحہ تفریح فراہم کرنا تربیت نہیں۔
اے آئی آنے والے زمانے کی حقیقت ہے۔ ہمارے بچے اس سے بچ نہیں سکتے، نہ انہیں بچانا ضروری ہے۔ لیکن ہمیں انہیں یہ ضرور سکھانا ہے کہ اے آئی ایک ٹول ہے۔۔۔دماغ نہیں۔ کیلکولیٹر حساب آسان کر سکتا ہے، مگر ہر حساب کیلکولیٹر سے نہیں کیا جاتا۔ نقشہ راستہ دکھا سکتا ہے، مگر سفر انسان کو خود کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اے آئی معلومات دے سکتا ہے، مگر علم، تجربہ، کردار اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت انسان کو خود پیدا کرنا ہوتی ہے۔ہمیں بچوں کے ہاتھ سے موبائل چھیننے سے پہلے ان کے ہاتھ میں متبادل دینا ہوگا۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ موبائل چھوڑ دو۔ پوچھنا ہوگا، موبائل کے بعد کیا؟ اگر گھر میں کتاب نہیں، کھیل نہیں، گفتگو نہیں، والدین کا وقت نہیں تو بچہ پھر اسکرین کی طرف جائے گا۔ اس لیے مسئلہ صرف موبائل نہیں، ہمارے گھروں کا بدلتا ہوا ماحول بھی ہے۔
آج ہمیں اپنے بچوں سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے، تم نے یہ جواب خود سوچا ہے یا کسی نے تمہیں دے دیا ہے؟یہ سوال صرف تعلیم کا نہیں، پوری زندگی کا سوال ہے۔کیونکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب بچے کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ کھڑا ہوگا جس کا جواب نہ گوگل کے پاس ہوگا، نہ یوٹیوب کے پاس اور نہ اے آئی کے پاس۔ اس دن اسے اپنے اندر سے جواب تلاش کرنا ہوگا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل صرف معلومات رکھنے والی نسل نہ ہو بلکہ سمجھ رکھنے والی نسل ہو، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صرف جوابات یاد نہ کریں بلکہ سوال کرنا بھی جانیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ مشکل حالات میں گھبرا کر کسی اسکرین کی طرف نہ دیکھیں بلکہ اپنے ذہن اور کردار پر اعتماد کریں، تو ہمیں آج سے ان کی تربیت بدلنا ہوگی۔بچے کو ہر سوال کا جواب مت دیں، اسے جواب تلاش کرنا سکھائیں۔اس کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل مت دیں، کبھی اپنا ہاتھ دیں۔اور سب سے بڑھ کر، اسے اے آئی کا محتاج بنانے کے بجائے ایسا انسان بنائیں جو ضرورت پڑنے پر اے آئی سے فائدہ اٹھا سکے، لیکن ضرورت پڑتے ہی اس کے بغیر بھی سوچ سکے۔کیونکہ اصل خطرہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے اے آئی استعمال کرنا سیکھ جائیں گے، اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہ اے آئی کے بغیر سوچنا ہی بھول نہ جائیں۔



