پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان:صوبہ پنجاب کے لاہور پولیس کے پی آر او کے مبینہ رویے پر صحافیوں کے تحفظات، اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کال کا فوری جواب دینا ممکن نہ ہو تو کم از کم بعد میں کال بیک، پیغام یا مختصر جواب دے دینا پیشہ ورانہ رابطہ کاری کا حصہ ہونا چاہیے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-پاکستان ادارت

لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے پی آر او کاشف رسول کے مبینہ رویے کے حوالے سے متعدد صحافیوں نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے اور معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پی آر او کے رابطہ کاری کے طریقہ کار میں بعض صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر زیادہ تعاون جبکہ دیگر صحافیوں کے ساتھ مناسب رابطہ نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بالخصوص پولیس بیٹ پر کام کرنے والے نمائندوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، کیونکہ پولیس سے متعلق خبریں اکثر فوری تصدیق، مؤقف اور متعلقہ افسر سے رابطے کی متقاضی ہوتی ہیں۔

یہ تمام الزامات متعلقہ صحافیوں کی شکایات اور مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ پی آر او کاشف رسول یا لاہور پولیس کا باضابطہ مؤقف اس خبر کے لیے دستیاب نہیں۔

صحافیوں کے اہم مطالبات

  • پی آر او کاشف رسول کے مبینہ رویے کا اعلیٰ پولیس حکام فوری نوٹس لیں۔
  • شکایات کی غیر جانب دارانہ اور شفاف جانچ کرائی جائے۔
  • تمام صحافیوں کے ساتھ یکساں اور پیشہ ورانہ رابطہ یقینی بنایا جائے۔
  • اہم خبروں پر رابطہ کرنے والے صحافیوں کو کم از کم کال بیک یا مناسب جواب دیا جائے۔
  • پولیس افسران تک میڈیا کی رسائی کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔
  • کسی بھی صحافی یا میڈیا ادارے کے ساتھ مبینہ پسند یا ناپسند کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے۔
  • اگر شکایات تحقیقات میں درست ثابت ہوں تو انتظامی کارروائی کی جائے، جس میں پی آر او کی تبدیلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
  • پولیس اور میڈیا کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر، شفاف اور ادارہ جاتی بنایا جائے۔

بعض صحافیوں کو فوری رسپانس، دیگر کو مبینہ طور پر نظر انداز کرنے کی شکایت

صحافیوں کے مطابق ان کی شکایت بنیادی طور پر رابطے اور رسائی میں مبینہ عدم مساوات سے متعلق ہے۔

شکایت کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بعض صحافیوں کے فون مبینہ طور پر فوری طور پر سنے جاتے ہیں، ان کے لیے پولیس افسران سے ملاقاتیں اور میٹنگز بھی آسانی سے طے کر دی جاتی ہیں، جبکہ دیگر صحافیوں کو متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کے باوجود فون کال کا جواب نہیں ملتا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کال کا فوری جواب دینا ممکن نہ ہو تو کم از کم بعد میں کال بیک، پیغام یا مختصر جواب دے دینا پیشہ ورانہ رابطہ کاری کا حصہ ہونا چاہیے۔

پولیس بیٹ پر فوری رابطہ کیوں ضروری ہے؟

پولیس بیٹ پر کام کرنے والے صحافیوں کے لیے مختلف واقعات پر فوری معلومات حاصل کرنا روزمرہ پیشہ ورانہ ضرورت ہے۔

قتل، ڈکیتی، گرفتاری، پولیس مقابلے، حادثے، سرچ آپریشن، کسی اہم مقدمے کی پیش رفت یا پولیس کی کارروائی سے متعلق خبر سامنے آنے کی صورت میں صحافی کو متعلقہ افسر سے فوری طور پر تصدیق اور مؤقف درکار ہوتا ہے۔

صحافیوں کے مطابق اگر پولیس کے ترجمان یا پی آر او سے رابطہ نہ ہو سکے تو خبر کی بروقت تصدیق مشکل ہو جاتی ہے اور بعض اوقات خبر کی اشاعت یا نشریات میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں مسئلہ صرف صحافی کو درپیش نہیں ہوتا بلکہ پولیس کا مؤقف عوام تک بروقت پہنچانے کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

’’مصروفیات اپنی جگہ، جواب دینا ضروری ہے‘‘

شکایت کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ پولیس افسران اور پی آر اوز کی مصروفیات کو سمجھتے ہیں اور ہر کال کا فوری جواب دینا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

تاہم ان کے مطابق اگر کوئی صحافی کسی اہم خبر کے سلسلے میں رابطہ کر رہا ہو تو کال کا جواب نہ دے سکنے کی صورت میں بعد میں کال بیک یا مناسب پیغام کے ذریعے جواب دینا ضروری ہے۔

صحافیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آر او کا عہدہ محض اطلاعات جاری کرنے تک محدود نہیں بلکہ میڈیا اور پولیس کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔

صحافیوں کے ساتھ یکساں رویے کا مطالبہ

متعدد صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے میڈیا رابطہ نظام میں تمام رجسٹرڈ اور متعلقہ صحافیوں کے ساتھ یکساں اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحافی کا تعلق کسی مخصوص میڈیا گروپ، ادارے یا پلیٹ فارم سے ہو، اسے پولیس کے مؤقف تک رسائی کے بنیادی حق میں امتیاز کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

صحافیوں کے مطابق کسی خبر کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا معیار خبر کی اہمیت اور صحافتی ضرورت ہونا چاہیے، نہ کہ کسی صحافی کے ساتھ ذاتی یا پیشہ ورانہ قربت۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے بیان کا حوالہ

صحافیوں کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے ایک ملاقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اگر کسی صحافی کو کسی پولیس افسر سے بات کرنی ہو یا کسی خبر کے سلسلے میں مؤقف حاصل کرنا ہو تو وہ متعلقہ ایس ایچ او یا ایس پی سے رابطہ کرے۔

صحافیوں نے اس تجویز کو اپنی جگہ قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر متعلقہ افسر تک پہنچنے کے لیے ابتدائی رابطہ پی آر او کے ذریعے ہی درکار ہو تو اس نظام کو کیسے مؤثر بنایا جائے گا؟

ان کے مطابق بعض حساس یا فوری نوعیت کے معاملات میں صحافی براہ راست متعلقہ افسر کا نمبر نہ ہونے کی صورت میں پی آر او سے رابطہ کرتے ہیں، تاکہ افسر کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے مناسب چینل استعمال کیا جا سکے۔

’’پی آر او رابطے کا پل ہونا چاہیے‘‘

صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور میڈیا کے درمیان پی آر او کا کردار ایک رابطے کے پل کا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ایک مؤثر میڈیا رابطہ نظام میں صحافیوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس حکام کا مؤقف بھی میڈیا تک پہنچایا جاتا ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر رابطہ کاری کا نظام مؤثر ہو تو کسی واقعے کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات یا قیاس آرائیوں کے بجائے پولیس کا سرکاری مؤقف بھی بروقت سامنے آسکتا ہے۔

معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ

متعدد صحافیوں نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔

صحافیوں کے مطابق اگر شکایات درست ثابت ہوتی ہیں تو میڈیا رابطہ کاری کے نظام میں ضروری اصلاحات کی جائیں اور ایسے اہلکار کو ذمہ داری دی جائے جو تمام صحافیوں کو یکساں رسائی، معلومات اور رابطے کی سہولت فراہم کر سکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شکایات کو کسی فرد کے خلاف ذاتی معاملہ سمجھنے کے بجائے پولیس اور میڈیا کے درمیان مجموعی رابطہ نظام کو بہتر بنانے کے تناظر میں دیکھا جائے۔

پولیس کا مؤقف بروقت عوام تک پہنچانا بھی ضروری

صحافیوں کے مطابق بہتر میڈیا رابطہ صرف صحافیوں کی سہولت کے لیے ضروری نہیں بلکہ خود پولیس کے مفاد میں بھی ہے۔

کسی واقعے کے بعد اگر پولیس کا مؤقف فوری طور پر میڈیا کو دستیاب ہو تو عوام کو واقعے کے بارے میں سرکاری معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی طرح پولیس کی کارروائیوں، گرفتاریوں، تفتیشی پیش رفت اور دیگر اہم امور کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی سے عوامی سطح پر صورتحال کی بہتر تفہیم ممکن ہوتی ہے۔

صحافیوں کا مطالبہ: رابطہ نظام کو ادارہ جاتی بنایا جائے

صحافیوں نے تجویز دی ہے کہ لاہور پولیس میں میڈیا رابطہ کاری کو مزید مؤثر اور ادارہ جاتی بنایا جائے تاکہ کسی ایک فرد کی دستیابی یا عدم دستیابی کی وجہ سے صحافیوں کو معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ان کے مطابق اہم پولیس آپریشنز اور ہنگامی واقعات کے لیے ایک ایسا رابطہ نظام ہونا چاہیے جس میں متبادل فوکل پرسن یا ڈیوٹی افسر دستیاب ہو، تاکہ فوری نوعیت کے معاملات میں میڈیا کو بروقت جواب دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح نہ صرف صحافیوں کو سہولت ملے گی بلکہ پولیس کے سرکاری مؤقف کی بروقت ترسیل بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

شکایات کی تصدیق ضروری قرار

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی شکایت پر حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف سننا ضروری ہے۔

اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ اگر پی آر او کاشف رسول کے خلاف متعدد صحافیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں تو ان کی باقاعدہ جانچ کی جائے، متعلقہ صحافیوں کے بیانات لیے جائیں اور پی آر او کا مؤقف بھی سامنے لایا جائے۔

اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غیر مساوی رویہ ثابت ہو تو انتظامی سطح پر مناسب کارروائی کی جائے۔

میڈیا اور پولیس کے بہتر تعلقات کی ضرورت

صحافیوں کے مطابق پولیس اور میڈیا ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ عوامی معلومات کے نظام کے دو اہم فریق ہیں۔ پولیس قانون نافذ کرنے اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، جبکہ میڈیا عوام کو واقعات اور ریاستی اداروں کے مؤقف سے آگاہ کرتا ہے۔

اس لیے دونوں کے درمیان پیشہ ورانہ، شفاف اور بروقت رابطہ ضروری ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ میڈیا رابطہ کاری میں کسی مخصوص گروپ یا چند افراد تک رسائی محدود ہونے کے بجائے تمام متعلقہ صحافیوں کے لیے واضح اور یکساں طریقہ کار ہونا چاہیے۔

وضاحت: اس خبر میں پی آر او کاشف رسول کے بارے میں بیان کردہ الزامات متعلقہ صحافیوں کے مؤقف اور شکایات کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر کی تیاری کے وقت نہیں ہوئی، اور پی آر او کاشف رسول یا ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا باضابطہ جواب شامل نہیں ہے۔ ان کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button