
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، سڑکوں اور دیگر عوامی سہولیات کو سیاسی شخصیات یا ان کے خاندان کے افراد کے نام سے منسوب کرنے کا رجحان ایک مرتبہ پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے تعمیر ہونے والے منصوبوں کو برسرِ اقتدار سیاسی خاندانوں کے ناموں سے منسوب کرنا بعض اوقات عوامی خدمت کے بجائے سیاسی تشہیر اور شخصیت پرستی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
اس بحث میں سابق وزیر قانون اور معروف قانون دان بابر اعوان سمیت بعض تجزیہ کاروں نے واضح اور یکساں پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ مؤقف بھی موجود ہے کہ عوامی منصوبوں کو کسی معروف شخصیت کے نام سے منسوب کرنا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں، بشرطیکہ اس کے لیے شفاف اور غیر جانب دار قواعد موجود ہوں۔
بابر اعوان: اصل قومی ہیروز کو بھی یاد رکھا جائے
سابق وزیر قانون بابر اعوان، جو ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہے، نے اس رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آرٹ، سائنس، ادب، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی بہت سی شخصیات گمنامی میں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، جبکہ بااثر سیاسی خاندانوں کے نام سرکاری منصوبوں کے ساتھ بار بار سامنے آتے ہیں۔
ان کے مطابق قومی سطح پر نام رکھنے کا مقصد ایسے افراد کی خدمات کو اجاگر کرنا ہونا چاہیے جنہوں نے ملک اور معاشرے کے لیے حقیقی اور دیرپا خدمات انجام دی ہوں۔
بابر اعوان نے اس معاملے کو کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود کرنے کے بجائے وسیع تر سیاسی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ادوار میں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔
’’عوامی خزانہ کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں‘‘
بابر اعوان کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ سرکاری منصوبے عوام کے ٹیکسوں اور قومی وسائل سے تعمیر ہوتے ہیں، اس لیے ان کی شناخت کسی ایک سیاسی خاندان کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔
ان کے مطابق ریاستی وسائل کو سیاسی یا خاندانی تشہیر کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ایسے ناموں کا انتخاب ہونا چاہیے جو وسیع تر قومی مفاد، تاریخی اہمیت یا عوامی خدمت کی نمائندگی کرتے ہوں۔
انہوں نے اس حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی ترقیاتی منصوبے کو اپنے نام سے منسوب کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔
سرکاری اور نجی منصوبوں میں بنیادی فرق
بابر اعوان کے مطابق سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے اور نجی وسائل سے قائم اداروں کو نام دینے کے معاملے کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے گلاب دیوی ہسپتال اور سر گنگا رام ہسپتال کا حوالہ دیا، جہاں ذاتی وسائل، عطیات یا فلاحی خدمات کے ساتھ اداروں کے قیام کا تعلق موجود تھا۔
ان کے مطابق اگر کوئی فرد اپنی ذاتی دولت سے ادارہ قائم کرتا ہے یا کسی فلاحی منصوبے کے لیے نمایاں مالی و عملی خدمات انجام دیتا ہے تو اس ادارے کو اس کے یا اس کے خاندان کے کسی فرد کے نام سے منسوب کرنے کا معاملہ مختلف نوعیت رکھتا ہے۔
اس کے برعکس عوامی خزانے سے تعمیر ہونے والے منصوبے کو برسرِ اقتدار شخصیت یا اس کے خاندان کے نام سے منسوب کرنا ایک الگ نوعیت کا سوال پیدا کرتا ہے۔
زاہد حسین: ریاستی وسائل سے تشہیر کے سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں
انگریزی روزنامہ ڈان کے کالم نگار زاہد حسین نے بھی سرکاری وسائل کے ذریعے سیاسی شخصیات کی تشہیر سے متعلق سوالات کو قابلِ غور قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ریاستی وسائل سے ہونے والی تشہیر محض شخصیت پرستی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے سیاسی مقاصد اور فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اشتہارات میں حکمرانوں کی تصاویر نمایاں کرنا اور عوامی وسائل سے مکمل ہونے والے منصوبوں کو برسرِ اقتدار شخصیات کے نام سے منسوب کرنا مختلف ممالک میں قانونی اور اخلاقی بحث کا موضوع رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے اصولوں کا حوالہ
اس بحث میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے ماضی کے بعض فیصلوں کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جن میں سرکاری عہدے اور ریاستی وسائل کے ذاتی، سیاسی یا مالی مفاد کے لیے استعمال سے متعلق اصول بیان کیے گئے ہیں۔
ناقدین کے مطابق ریاستی اداروں اور عوامی عہدوں کا بنیادی مقصد عوامی خدمت ہے، اس لیے سرکاری وسائل سے ایسی سرگرمیوں سے گریز ضروری ہے جن سے کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کو غیر معمولی تشہیری فائدہ پہنچنے کا تاثر پیدا ہو۔
تاہم کسی مخصوص منصوبے یا نام کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے متعلقہ قانون، قواعد، نوٹیفکیشن اور عدالت کے مخصوص فیصلے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
پنجاب میں شریف خاندان کے نام سے منصوبوں کی بحث
دستیاب سرکاری معلومات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب میں سیاسی شخصیات، خصوصاً شریف خاندان کے مختلف افراد کے نام سے متعدد منصوبوں اور اداروں کے نام سامنے آئے ہیں۔
ان میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، نواز شریف آئی ٹی سٹی، کلثوم نواز کینسر ہسپتال اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس جیسے منصوبوں کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔
حکومت یا منصوبہ شروع کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے نام رکھنے کی مختلف انتظامی یا عوامی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں، تاہم ناقدین کا سوال یہ ہے کہ سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے ایک ایسا غیر جانب دار معیار ہونا چاہیے جو حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔
ترقیاتی بجٹ اور نام رکھنے کی سیاست
انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بھی یہ بحث سامنے آئی کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کے باوجود شریف خاندان کے نام سے منسوب بعض بڑے منصوبے ترقیاتی پروگرام میں شامل رہے۔
رپورٹس میں لاہور کے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ اور کینسر انسٹی ٹیوٹ، ڈیرہ غازی خان کے کلثوم نواز کینسر ہسپتال اور قصور میں مجوزہ نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی جیسے منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال منصوبوں کی افادیت سے زیادہ نام رکھنے کے طریقہ کار کا ہے: کیا نام کسی مستقل پالیسی کے تحت رکھا گیا یا حکومت اور سیاسی قیادت کی ترجیحات کے مطابق؟
سندھ میں بھٹو خاندان کے نام بھی نمایاں
یہ رجحان صرف پنجاب تک محدود نہیں رہا۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ بھٹو خاندان کے مختلف افراد کے نام سے بھی متعدد سرکاری منصوبے اور ادارے منسوب کیے گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے نام سے مختلف ترقیاتی، صحت اور تعلیمی منصوبے موجود ہیں جبکہ بھٹو خاندان کے دیگر افراد کے نام بھی سرکاری اداروں کے ناموں میں نظر آتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب میں کسی سیاسی خاندان کے نام رکھنے پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو یہی اصول سندھ اور ملک کے دیگر حصوں پر بھی یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورتحال
دستیاب ابتدائی جائزوں کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیاسی خاندانوں کے نام سے بڑے سرکاری منصوبوں کی مثالیں نسبتاً کم نمایاں دکھائی دیتی ہیں، تاہم وہاں بھی بعض تاریخی اور سیاسی شخصیات کے نام سے سرکاری ادارے موجود ہیں۔
مثلاً عبدالولی خان یونیورسٹی خیبر پختونخوا میں ایک معروف مثال ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کسی ایک صوبے یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ریاستی اداروں اور حکومتوں کے لیے ایک واضح نام گذاری پالیسی کی ضرورت کا ہے۔
سیاسی نام رکھنے سے تشہیری فائدہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟
ناقدین کے مطابق جب کسی ہسپتال، یونیورسٹی، سڑک، میڈیکل کمپلیکس یا دیگر عوامی سہولت کے ساتھ کسی موجودہ سیاسی رہنما یا اس کے خاندان کا نام مستقل طور پر جڑ جاتا ہے تو اس منصوبے کا نام عوامی یادداشت میں بار بار آتا رہتا ہے۔
اس طرح ایک ایسا منصوبہ جس کی تعمیر عوامی وسائل سے ہوئی ہو، بالواسطہ طور پر سیاسی شخصیت کی شناخت مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
یہ اثر خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے جہاں عوام روزمرہ زندگی میں ان اداروں یا سہولیات کے نام مستقل طور پر استعمال کرتے ہیں۔
نام تبدیل کرنے سے اضافی اخراجات کا خدشہ
حکومت تبدیل ہونے کے بعد اگر کسی منصوبے یا ادارے کا نام تبدیل کیا جائے تو معاملہ صرف ایک نئے بورڈ کی تنصیب تک محدود نہیں رہتا۔
ممکنہ طور پر:
- سائن بورڈز تبدیل کرنا پڑ سکتے ہیں؛
- سرکاری دستاویزات میں ترمیم کرنا پڑ سکتی ہے؛
- ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنا پڑ سکتے ہیں؛
- نقشوں اور معلوماتی مواد میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے؛
- سرکاری خط و کتابت اور انتظامی ریکارڈ میں نئے نام شامل کرنے پڑ سکتے ہیں؛
- عوامی سطح پر نئے نام کی شناخت پیدا کرنے کے لیے اضافی وسائل خرچ ہو سکتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق مستقل اور غیر سیاسی نام گذاری کی پالیسی ایسے غیر ضروری اخراجات اور انتظامی پیچیدگیوں کو کم کر سکتی ہے۔
’’شاہانہ طرزِ حکمرانی‘‘ کی بحث
پاکستان کے سیاسی نظام میں بعض ناقدین طویل عرصے سے اس رجحان کو شاہانہ طرزِ حکمرانی یا شخصی سیاست سے جوڑتے آئے ہیں۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق جب حکمران ریاستی وسائل، سرکاری عمارات، منصوبوں، اشتہارات اور عوامی اداروں کو اپنی سیاسی شناخت کے ساتھ جوڑتے ہیں تو ریاستی اور جماعتی شناخت کے درمیان فرق دھندلا سکتا ہے۔
تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے عموماً ایسے منصوبوں کے نام رکھنے کو متعلقہ شخصیت کی خدمات، سیاسی جدوجہد یا عوامی مقبولیت سے جوڑا جاتا ہے۔ اس لیے اصل بحث اس بات پر مرکوز ہو رہی ہے کہ نام رکھنے کے لیے واضح، غیر جانب دار اور یکساں معیار ہونا چاہیے یا نہیں۔
ناقدین کا مطالبہ: قانون سازی کی جائے
اس بحث کے مرکزی مطالبات میں سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے واضح قانون سازی یا پالیسی تشکیل دینا شامل ہے۔
تجویز کیا جا رہا ہے کہ برسرِ اقتدار سیاسی شخصیات اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے نام سے سرکاری منصوبوں کو منسوب کرنے کے لیے واضح پابندیاں یا کم از کم سخت معیار مقرر کیے جائیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ قومی، تاریخی اور مقامی سطح پر نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ترجیح دی جائے۔
نام رکھنے کے لیے مستقل معیار کی ضرورت
بابر اعوان کے مطابق سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے ایک واضح اور یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔
ممکنہ طور پر اس پالیسی میں یہ اصول شامل کیے جا سکتے ہیں:
- برسرِ اقتدار سیاسی شخصیات کے نام رکھنے سے گریز۔
- قریبی رشتہ داروں کے ناموں کے استعمال کے لیے واضح قواعد۔
- قومی اور تاریخی شخصیات کو ترجیح۔
- مقامی تاریخ، ثقافت اور جغرافیائی شناخت کو اہمیت۔
- نام رکھنے سے پہلے عوامی مشاورت۔
- متعلقہ ادارے یا کمیٹی کی منظوری۔
- نام کی منظوری کا تحریری اور شفاف ریکارڈ۔
- حکومت تبدیل ہونے پر بار بار نام تبدیل کرنے سے گریز۔
اصل سوال: منصوبہ کس نے بنایا نہیں، کس کے پیسوں سے بنا؟
اس پوری بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی منصوبے کا نام اس شخصیت کی بنیاد پر رکھا جائے جس نے اسے سیاسی طور پر شروع کیا یا اس بنیاد پر کہ منصوبہ کس کے وسائل سے تعمیر ہوا؟
اگر منصوبہ مکمل طور پر عوامی خزانے سے تعمیر ہوا ہے تو ناقدین کے مطابق اس کی شناخت بھی عوامی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب اگر کسی سیاسی رہنما نے ذاتی وسائل، زمین، عطیات یا غیر معمولی خدمات کے ذریعے کسی ادارے کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا ہو تو اس معاملے کو الگ معیار کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
یہی فرق سرکاری اور نجی منصوبوں کے نام رکھنے کی بحث کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یکساں معیار کا مطالبہ
ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری منصوبوں کی نام گذاری کے معاملے میں کسی ایک سیاسی جماعت کو ہدف بنانا مسئلے کا حل نہیں۔
اگر مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں کسی سیاسی خاندان کے نام سے منصوبے رکھے گئے ہیں تو پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ادوار میں بھی اسی اصول کے تحت جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ایک غیر جانب دار پالیسی کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ریاستی وسائل کو سیاسی تشہیر سے الگ رکھنا ہونا چاہیے۔
عوامی مشاورت سے نام رکھنے کی تجویز
ایک ممکنہ حل یہ بھی تجویز کیا جا رہا ہے کہ بڑے سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے سے قبل عوامی مشاورت کا طریقہ اپنایا جائے۔
مثلاً کسی نئے ہسپتال، یونیورسٹی یا بڑے ترقیاتی منصوبے کے لیے مقامی تاریخ، جغرافیہ، قومی ہیروز یا نمایاں سماجی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے نام تجویز کیے جائیں اور متعلقہ کمیٹی ان میں سے مناسب نام کا انتخاب کرے۔
اس طریقہ کار سے کسی ایک سیاسی شخصیت کی صوابدید کے بجائے ادارہ جاتی فیصلہ سازی کو فروغ مل سکتا ہے۔
بحث صرف نام کی نہیں، ریاستی طرزِ حکمرانی کی ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کا معاملہ بظاہر معمولی انتظامی مسئلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ریاستی وسائل، سیاسی تشہیر، شخصیت پرستی، حکمرانی کے معیار اور عوامی اداروں کی غیر جانب داری جیسے بڑے سوالات موجود ہیں۔
اگر عوامی منصوبوں کو سیاسی شخصیات کے نام سے منسوب کرنے کا عمل ایک مستقل روایت بن جائے تو حکومتیں تبدیل ہونے کے ساتھ نام تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر نام رکھنے کے لیے ایک مستقل اور شفاف نظام قائم ہو تو سرکاری اداروں کی شناخت سیاسی تبدیلیوں سے نسبتاً محفوظ رہ سکتی ہے۔
نتیجہ: قومی شناخت یا سیاسی تشہیر؟
پاکستان میں سرکاری منصوبوں کو سیاسی شخصیات اور ان کے خاندانوں کے نام سے منسوب کرنے کی بحث دراصل اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ ریاستی وسائل سے بننے والے منصوبوں کی شناخت کس کی ہونی چاہیے؟
ناقدین کا مؤقف ہے کہ عوام کے ٹیکس سے تعمیر ہونے والی سہولیات کو موجودہ حکمرانوں یا ان کے خاندانوں کی تشہیر سے دور رکھا جانا چاہیے، جبکہ منصوبوں کے نام قومی ہیروز، تاریخی شخصیات، مقامی شناخت یا عوامی خدمات کی بنیاد پر رکھے جانے چاہئیں۔
دوسری جانب حکومتوں کی جانب سے کسی شخصیت کے نام پر منصوبہ رکھنے کی وجہ اس شخصیت کی خدمات یا سیاسی و تاریخی اہمیت قرار دی جا سکتی ہے۔
اس لیے اس تنازعے کا مستقل حل کسی ایک جماعت یا خاندان پر تنقید کے بجائے واضح قانون، یکساں معیار، شفاف طریقۂ کار، عوامی مشاورت اور غیر جانب دار ادارہ جاتی منظوری میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔
آخرکار عوامی منصوبے کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ ریاست اور عوام کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے نام بھی ایسے ہونے چاہئیں جو حکومتوں کے آنے جانے کے باوجود قومی یادداشت، عوامی خدمت اور اجتماعی شناخت کی نمائندگی کرتے رہیں۔



