
دل میں بسے ہوئے لوگ !……..ناصف اعوان
یہ وقت ایک دوسرے کو گلے لگانے کا ہے کیونکہ ہماری معیشت ہی نہیں سماجیات بھی برباد ہو چکی ہے کہ ہر کوئی اپنےلئے جی رہا ہے۔
ماضی پر نظر دوڑائیں تو واضح طور سے دکھائی دے گا کہ جس عوامی سیاسی جماعت کو بھی نقطہ موہوم بنانے کی خواہش یا کوشش کی گئی وہ الٹا مزید ہمدردیاں لے کر ابھر کر سامنے آگئی پی پی پی کی مثال ہمارے سامنے ہے اس کی مقبولیت کم کرنے کی پوری کوشش کی گئی مگر وہ ابھی تک موجود ہے اگرچہ اس شکل میں نہیں جس طرح بی بی شہید اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تھی۔ اس کی مقبولیت کم ہوئی تو اس کے اپنوں کے ہاتھوں مگر وہ ختم نہیں ہوئی اور اقتدار میں بھی آتی گئی اس وقت بھی وہ تخت نشیں ہے اس طرح مسلم لیگ نون میں سے بھی کئی مسلم لیگیں بر آمد ہوئیں اور کچھ ہی دیر کے بعد منظر سے اوجھل ہوگئیں مگر آج بھی اس کا وجود باقی ہے اور وہ بر سر اقتدار ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ کیسے اقتدار میں ہے مگر ہے لہذا اب اگر پی ٹی آئی کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کی کوشش کی جائے تو اس میں کامیابی نہیں مل سکتی کیونکہ وہ عوام کے دل و دماغ پر اپنا قبضہ جما چکی ہے۔ صوبہ کے پی کے میں تو عوام کی غالب اکثریت خان کی محبت میں جذباتی ہوئی جاتی ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب لوگ کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت جب لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ خان کی رہائی کے لئے باہر نکلیں تو سوائے خیبر پختونخواہ کے عوام کم ہی نکلتے ہیں کے پی کے لوگ تو اب بھی نکلے ہوئے ہوں گے۔ خیر ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ وہ جتنی مرضی تعداد میں نکلیں جا نکلے ہیں۔ جب تک خان کی طرف سے لچک نہیں دکھائی جاتی تب تک ان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ ان کی رہائی سے بدلے کی سیاست کا بھی امکان ہےاور اگر بدلے کے سیاست جاری رہتی ہے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ یہ وقت ایک دوسرے کو گلے لگانے کا ہے کیونکہ ہماری معیشت ہی نہیں سماجیات بھی برباد ہو چکی ہے کہ ہر کوئی اپنےلئے جی رہا ہے۔
بہر حال سیاسی عدم استحکام نے ہر شعبہ حیات کو متاثر کیا ہے ۔ اُدھر ایران امریکا کشیدگی نے بھی عام زندگی پر اثر ڈالا ہے اب اس میں کمی آرہی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں کہ وہ کب اپنا موقف بدل لیں بلکہ بدل بھی رہے ہیں اس کشیدگی سے بہت سے ملکوں کی معیشت بھی ڈگمگائے لگی ہے ۔ ہمارے ہاں تیل مہنگا ہونے سے مختلف النوع نئے مسائل پیدا ہو چکے ہیں پہلے والے گمبھیر شکل اختیار کر گئے ہیں لہذا اس صورت میں کوئی ایک بھی سیاسی جماعت معاشی حالات کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ معذرت کے ساتھ کہ موجودہ حکومت سر توڑ کوشش کے باوجود بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پا رہی ۔وہ بھاری قرضے لے کر ہی معاملات ریاست چلا رہی ہے اور عوام پر تاریخ کے ہوشربا ٹیکس لگا کر عالمی مالیاتی اداروں کی قسطیں ادا کر رہی ہے کیونکہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں مگر یہ سب وقتی ہے لہذا ہمیں یک جہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ متحد ہو کر مسائل سے نمٹا جا سکے۔
اناسی برس گزرنے کے بعد بھی وہ ترقی نہیں ہو سکی جو ہونی چاہیے تھی ہم چین کی مثال پیش کر سکتے ہیں کہ وہ قوم جو افیم کھا کر جہاں کہیں جگہ ملتی سو جاتی مگر ماؤزے تنگ نے اسے انقلاب کے لئے تیار کر لیا۔ اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ چین سپر پاور بن کر ابھر چکا ہے اور امریکی سامراج کو للکار رہا ہے کیوں؟ کیونکہ اس نے محنت ہمت اور جدو جہد سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ اس نے ایک ارب لوگوں کو غربت سے نجات دلا دی ہے ایسا اس لئے ہوا ہے کہ وہاں ٹانگ کھینچنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔بدعنوانی ایک آدھ فیصد ہے جو کوئی کرتا ہے پکڑے جانے پر اسے موت کی سزا دے دی جاتی ہے ۔اسی طرح ملاوٹ کرنے والے کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں سب چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ایک قوم نہیں بن سکے ہمارے سیاسی رہنماؤں نے اپنے پیٹ بھرے جس سے ترقی کی راہیں مسدود ہوتی چلی گئیں مگر اگر اب بھی دل پسیج جائے تو ہم ستاروں پے کمند ڈال سکتے ہیں کیونکہ کچھ کرنے کے لئے مواقع بہت ہیں قدرتی وسائل وافر ہیں جن کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک طویل عرصے سے قرضوں پر انحصار کرتا چلا آرہا ہے اور ظاہر ہے قرضہ دینے والے اداروں کی شرائط پر عمل درآمد اس کی مجبوری ہے
مگر اب مزید ایسا کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ قومی معیشت کا جسم ناتواں ہی نہیں نڈھال ہو چکا ہے اور اگر مزید عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پھر پورے ملک میں ایک ایسا شور اٹھے گا کہ جس کواہل اختیار نہیں سن سکیں گے اب وہ دور بہت گیا جب لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا تھا انہیں اندھیرے میں رکھ کر تمام فیصلے کیے جاتے تھے یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے پھر جب عوام نے اناسی برس گزار لئے ہیں تو بھی ان کو آسائشیں فراہم نہیں کی جاسکیں اور ان کو آرام وسکون میسر نہیں آسکا تو وہ ذہنی طور سے روایتی حکمران طبقات سے دور ہوتے جارہے ہیں لہذا وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں اب تک وہ جہاں ہیں وہیں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت کچھ ریلیف بھی دے رہی ہے کچھ آسانیاں بھی پیدا کر رہی ہے مگر عوام سمجھتے ہیں کہ یہ سب عارضی ہے اور بھاری قرضے لے کر کیا جا رہا ہے اور ان قرضوں کو اتارنے کے لئے ان سے ٹیکسوں کی صورت وصولی بھی کی جا رہی ہے پٹرول کی مثال سامنے ہیں کہ لیوی کی مد میں اب تک کھربوں وصول کیے جا چکے ہیں جن سے بہت آسانی سے آئی ایم ایف کے قرضے ادا کیے جا سکتے ہیں مگر لوگوں کو معاشی استحصال کی چکی میں پیستے رہنا ہے لہذا قرضوں کے بوجھ کو ان پر سے نہیں ہٹایا جا رہا جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں مگر کب تک ایسا ہو گا حالات کبھی بھی ایک جیسےنہیں رہتے ۔ لہذا دانشمندی یہ ہے کہ عوام سے چشم پوشی اختیار نہ کی جائے انہیں ساتھ لے کر چلا جائے۔اس سے کچھ نہیں ہو گا پھر وہ جو ایک بڑی اور مقبول ترین جماعت کے گرد اکٹھے ہیں اس میں کمی آسکتی ہے لہذا اس حوالے سے کوئی حکمت عملی اختیار کی جائے تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے مگر کرے کون انا کے حصار سے باہر آنا کوئی بھی نہیں چاہتا نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس سے مثبت نتائج بر آمد نہیں ہو رہے بلکہ اس کے بر عکس صورت حال جنم لے رہی ہےاور عوام کے دل میں اہل اقتدار کے لئے محبت و قبولیت کے جذبات نہیں ابھر رہے جنہیں ابھارنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو بنیادی حقوق دے دئیے جائیں تاکہ وہ خوشحال و پُرامن زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں !


