کالمزعلی عباس کاظمی

خاموش معاشی تباہی……علی عباس کاظمی

یوں ایک مکمل دائرہ بنتا ہے جس میں نوجوان گھومتا رہتا ہے اور ہم اسے مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ محنت کرو۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ نوجوان بیرون ملک جانے کے لیے قطار میں کھڑے ہوں تو ہمیں تشویش ہوتی ہے، مگر جب وہ برسوں بے روزگار رہ کر گھر میں بیٹھا ہو تو ہمیں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی۔ پاسپورٹ ہاتھ میں لے کر ایئرپورٹ کی طرف جاتا نوجوان ہمیں قومی نقصان دکھائی دیتا ہے، لیکن وہی نوجوان جب نوکری کے لیے دروازے دروازے دھکے کھاتا ہے، سفارش تلاش کرتا ہے، انٹرویو کے بعد فون کا انتظار کرتا ہے اور آخرکار مایوسی میں خاموش ہو جاتا ہے تو ہم اسے اس کی ذاتی ناکامی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں ہجرت کے منظر سے زیادہ اس خاموش مرحلے سے خوفزدہ ہونا چاہیے جو ہجرت سے پہلے آتا ہے۔ایک نوجوان نے سولہ، سترہ یا بیس سال تعلیم حاصل کی۔ والدین نے اپنی استطاعت کے مطابق فیسیں دیں، کتابیں خریدیں، سفر کے اخراجات اٹھائے اور اس امید پر زندگی گزاری کہ بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ پھر وہ نوجوان ڈگری لے کر مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ ڈگری ایک کاغذ ہے، ضمانت نہیں۔ نوکری کے لیے تجربہ چاہیے، تجربے کے لیے نوکری چاہیے۔ انٹرن شپ کے لیے وقت چاہیے ، کاروبار کے لیے سرمایہ چاہیے اور سرمایہ اس نوجوان کے پاس نہیں۔ یوں ایک مکمل دائرہ بنتا ہے جس میں نوجوان گھومتا رہتا ہے اور ہم اسے مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ محنت کرو۔
کمال یہ ہے کہ ہم نے محنت کی تعریف بھی عجیب بنا دی ہے۔ جو نوجوان سفارش کے ذریعے نوکری حاصل کر لے، وہ کامیاب ہے۔ جو بیرون ملک جا کر معمولی ملازمت بھی حاصل کر لے، وہ کامیاب ہے۔ جو اپنے شہر میں چھوٹا کاروبار شروع کرے، اسے اکثر لوگ ابھی بھی "کچھ نہیں کر رہا” سمجھتے ہیں۔ جو نوجوان فنی ہنر رکھتا ہو، اسے یونیورسٹی کی ڈگری رکھنے والے سے کم سمجھا جاتا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان ہنر سیکھنے کے بجائے صرف ڈگریاں کیوں حاصل کر رہے ہیں۔ معاشرہ جس راستے کو عزت نہیں دیتا، وہاں لوگ کیوں جائیں گے؟ہماری تعلیم بھی اس بحران سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ہم نے بچوں کو سوال کرنے سے زیادہ جواب یاد کروائے، مسئلہ حل کرنے سے زیادہ امتحان پاس کرنا سکھایا، عملی تجربے سے زیادہ سرٹیفکیٹ جمع کرنے کی دوڑ لگائی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر روزگار کے قابل مہارتیں اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نوجوان یونیورسٹی سے نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب میں جو دنیا تھی، بازار میں وہ دنیا موجود ہی نہیں۔ پھر ہم اسے قصوروار ٹھہراتے ہیں کہ تم مارکیٹ کے مطابق کیوں نہیں ہو؟ یہ سوال تعلیمی نظام سے بھی ہونا چاہیے کہ اس نے نوجوان کو مارکیٹ کے لیے تیار کیوں نہیں کیا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوکریاں کم ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے روزگار پیدا کرنے والی معیشت بنانے کے بجائے روزگار ڈھونڈنے والوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ ہر سال نئی ڈگریاں، نئی درخواستیں، نئے ٹیسٹ اور نئی امیدیں پیدا ہوتی ہیں، مگر معاشی ڈھانچہ اتنی رفتار سے مواقع پیدا نہیں کرتا۔ پھر ایک نوجوان کے سامنے دو راستے رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ برسوں انتظار کرے، یا اپنی امید کسی دوسرے ملک کے دروازے پر رکھ آئے۔ ہم اسے ہجرت کہتے ہیں۔ وہ شاید اسے آخری دستیاب راستہ سمجھتا ہے۔یہاں ہماری قومی گفتگو بھی خاصی منافقانہ ہو جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں۔ مگر سرمایہ صرف تقریروں میں نہیں، سرمایہ کاری میں محفوظ ہوتا ہے۔ اگر نوجوان واقعی سرمایہ ہیں تو ان کی تعلیم، ہنر، روزگار، ذہنی صحت اور کاروباری صلاحیت پر سنجیدہ سرمایہ کاری کہاں ہے؟ اگر نوجوان مستقبل ہیں تو ان کے حال کی اتنی بے قدری کیوں ہے؟ ہم نوجوانوں کو قوم کا مستقبل کہتے کہتے ان کا حال بھول گئے ہیں۔اور پھر جب نوجوان ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو ہم اسے ایک اور نصیحت دیتے ہیں، مثبت سوچو۔ جیسے مثبت سوچ کوئی گولی ہو جو خالی جیب، بے روزگاری، قرض، مہنگائی، خاندانی دباؤ اور مسلسل ناکامی کے پانچ سالہ علاج کے لیے کافی ہو۔ جس نوجوان کو ہر ماہ گھر سے یہ سوال سننے کو ملے کہ نوکری کا کیا ہوا، اسے سوشل میڈیا پر اپنے ہم عمر لوگوں کی کامیابیاں نظر آئیں، ہر جگہ مقابلہ دکھائی دے اور مستقبل مسلسل غیر یقینی ہو، اسے صرف یہ کہنا کہ حوصلہ رکھو مسئلے کا حل نہیں۔
جب معیشت انسان کو مسلسل عدم تحفظ میں رکھتی ہے تو اس کا اثر ذہن پر بھی پڑتا ہے۔ جب تعلیم روزگار سے نہیں جڑتی تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ جب خاندان کامیابی کا پیمانہ صرف آمدنی بناتا ہے تو نوجوان اپنی قدر بھی آمدنی میں تلاش کرنے لگتا ہے۔ جب معاشرہ ناکام شخص کو عزت نہیں دیتا تو ناکامی ایک معاشی حالت سے بڑھ کر سماجی شناخت بن جاتی ہے۔ پھر انسان اپنی ذات کو مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔ہماری ایک اور عادت ہے کہ ہر بحران میں فرد کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نوکری نہیں ملی تو ہنر نہیں تھا۔ کاروبار نہیں چلا تو محنت نہیں کی۔ باہر چلا گیا تو ملک سے محبت نہیں تھی۔ ڈپریشن ہوگیا تو ایمان یا حوصلہ کم تھا۔ ہم نے کبھی یہ سوال کم کیا کہ شاید مسئلہ فرد سے بڑا ہے۔ شاید ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جہاں ایک عام آدمی کی ذاتی کوشش اور اجتماعی نظام کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ہجرت کے معاملے میں بھی ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے حقیقت پسند ہونا ہوگا۔ ہر بیرون ملک جانے والا شخص ملک کا دشمن نہیں اور ہر یہاں رہنے والا لازماً محب وطن نہیں۔ انسان جہاں بہتر مواقع دیکھتا ہے، وہاں جاتا ہے۔ دنیا کے دوسرے ملک بھی اپنے ہنرمند لوگوں کو راغب کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے قابل نوجوان کو رکھنے کے لیے کیا پیدا کر رہے ہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا ماہر کسی دوسرے ملک میں اپنی قابلیت کے مطابق بہتر مستقبل دیکھتا ہے تو اسے صرف حب الوطنی کا درس دینا آسان ہے۔ مشکل کام یہ ہے کہ اس کے سامنے ایسا نظام کھڑا کیا جائے جہاں میرٹ، محنت اور قابلیت کو حقیقی قدر ملے۔ریاستی منصوبے ضروری ہیں، لیکن ہر منصوبہ اعلان سے کامیاب نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کا پروگرام بنا دینا کافی نہیں اگر عام آدمی تک ماہرِ نفسیات کی رسائی نہ ہو۔ روزگار اسکیم شروع کر دینا کافی نہیں اگر نوجوان کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تربیت نہ ملے۔ لیپ ٹاپ دے دینا کافی نہیں اگر اسے استعمال کرکے آمدنی پیدا کرنے کا ماحول موجود نہ ہو۔ قرض کا اعلان کافی نہیں اگر چھوٹے کاروبار کے لیے ٹیکس، بجلی، رجسٹریشن اور مارکیٹ کے مسائل حل نہ کیے جائیں۔ اصل امتحان اعلان نہیں، نتیجہ ہے۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوتا۔ کسی کا ہنر ہاتھ میں ہوتا ہے، کسی کا ذہن میں، کسی کی زبان میں، کسی کی تخلیق میں۔ ہم نے کامیابی کے چند پیشے مقرر کرکے باقی تمام راستوں کو کمتر سمجھا تو پھر نوجوان اپنی حقیقی صلاحیت کے بجائے سماجی توقعات کے پیچھے دوڑتا رہے گا۔ اس دوڑ میں بہت سے لوگ کامیاب نہیں ہوں گے، اور جو ناکام ہوں گے وہ صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی قیمت بھی ادا کریں گے۔ ملک سے باہر جانا کوئی جرم نہیں، لیکن ملک کے اندر مواقع کا ختم ہو جانا ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ضرور ہے۔ ہجرت کو روکنے کے لیے نعرے نہیں، امکانات پیدا کرنا ہوں گے۔ نوجوان کو یہاں رہنے کی وجہ دینی ہوگی۔ اسے یقین دلانا ہوگا کہ اگر وہ محنت کرے گا تو سفارش سے زیادہ قابلیت کام آئے گی، اگر ناکام ہوگا تو دوبارہ کوشش کا موقع ملے گا، اگر کاروبار کرے گا تو غیر ضروری رکاوٹیں اس کے راستے میں دیوار نہیں بنیں گی اور اگر ذہنی دباؤ میں ہوگا تو اسے مذاق یا طعنے کے بجائے مدد ملے گی۔
ٹی وی پر ماہرین نوجوانوں کے ملک چھوڑنے پر افسوس کریں گے، اخبارات میں مضامین چھپیں گے، سیمینار ہوں گے، تقریریں ہوں گی اور اگلے دن ایک اور نوجوان اپنا پاسپورٹ لے کر روانہ ہو جائے گا۔ ہم پھر کہیں گے کہ دماغی صلاحیت ملک سے باہر جا رہی ہے۔ مگر کوئی شاید یہ پوچھنے کی زحمت نہ کرے کہ دماغ یہاں رکنے کے لیے ماحول کہاں تھا؟کسی ملک کی اصل دولت وہ انسان ہیں جو سوچ سکتے ہیں، بنا سکتے ہیں، تحقیق کر سکتے ہیں، کاروبار کر سکتے ہیں اور مشکل حالات میں نئے راستے نکال سکتے ہیں۔آج ہمارے سامنے فیصلہ نوجوانوں کا نہیں، دراصل ہماری اپنی ترجیحات کا ہے۔ ہم انہیں صرف یہ کہتے رہیں گے کہ ملک نہ چھوڑو، یا کبھی ایسا ملک بنانے کی کوشش بھی کریں گے جہاں نوجوان کو جانے سے پہلے یہ سوچنا پڑے کہ شاید میرا مستقبل یہیں بھی بن سکتا ہے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button