
ذرائع کے ساتھ
پاکستان میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان عمران خان کی رہائی کے لیے اعلان کردہ احتجاج کو روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس دوران حکومتی عہدیدار اور پی ٹی آئی کے رہنما مذاکرات کی ناکامی کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ حکومتی وفد میں شامل وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہیں۔

نقوی کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن کے پی حکومت نے سب کچھ ویٹو کر دیا۔ اب یہ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور اگر ایک بھی لاش گری تو اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے۔
دوسری جانب سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت حکومت کو سات مطالبات پیش کیے تھے، جو تمام آئینی مطالبات ہیں اور اگر حکومت ان مطالبات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کروا دے تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔
بعد ازاں سہیل آفریدی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عمران خان کی حمایت میں ’’لانگ مارچ‘‘ جاری رہے گا۔
یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کئی ہفتوں سے اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کر رکھے ہیں۔
حزب اختلاف کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ’’ڈیڈلاک‘‘ کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق عمران خان تک ان کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی سمیت بعض مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے گزشتہ ماہ گرفتار کی گئی عمران خان کی تین بہنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔ انہیں بدعنوانی، غداری اور تشدد پر اکسانے سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتی ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق احتجاج اتوار کو خیبر پختونخوا سے شروع ہوا اور جمعرات تک اسلام آباد سے تقریباً 80 کلومیٹر دور خیبر آباد پہنچے گا۔ ان کے بقول مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان خیبر آباد پہنچنے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مظاہرین اسلام آباد کب پہنچیں گے۔
حکام نے احتجاج کی تیاریوں کے تحت اسلام آباد کے اہم داخلی راستوں پر دوہری تہوں میں بڑے شپنگ کنٹینرز لگا دیے ہیں۔ اس کے باعث ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
عمران خان کی قید اور انہیں طبی سہولیات اور اہل خانہ تک رسائی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے حامیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔



