پاکستاناہم خبریں

حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات بے نتیجہ کیوں رہے؟

نقوی کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن کے پی حکومت نے سب کچھ ویٹو کر دیا۔ اب یہ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور اگر ایک بھی لاش گری تو اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ذرائع کے ساتھ

پاکستان میں حکومت اور  پاکستان تحریک انصاف کے درمیان عمران خان کی رہائی کے لیے اعلان کردہ احتجاج کو روکنے کے  لیے ہونے والے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران حکومتی عہدیدار اور پی ٹی آئی کے رہنما مذاکرات کی ناکامی  کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ حکومتی وفد میں شامل وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا زمہ دار وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو قرار دیا ہےتصویر: K.M. Chaudary/AP Photo/picture alliance

نقوی کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن کے پی حکومت نے سب کچھ ویٹو کر دیا۔ اب یہ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور اگر ایک بھی لاش گری تو اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے۔

دوسری جانب  سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت حکومت کو سات مطالبات پیش کیے تھے، جو تمام آئینی مطالبات ہیں اور اگر حکومت ان مطالبات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کروا دے تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔

بعد ازاں سہیل آفریدی نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عمران خان کی حمایت میں ’’لانگ مارچ‘‘ جاری رہے گا۔

یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کئی ہفتوں سے اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی انتظامات سخت کر رکھے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان  مذاکرات ’’ڈیڈلاک‘‘ کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق عمران خان تک ان کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی سمیت بعض مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے گزشتہ ماہ گرفتار کی گئی عمران خان کی تین بہنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت مطالبات تسلیم کرتی تو مار‍چ ملتوی کیا جا سکتا تھاتصویر: Private

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔ انہیں بدعنوانی، غداری اور تشدد پر اکسانے سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتی ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق احتجاج اتوار کو خیبر پختونخوا سے شروع ہوا اور جمعرات تک اسلام آباد سے تقریباً 80 کلومیٹر دور خیبر آباد پہنچے گا۔ ان کے بقول مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان خیبر آباد پہنچنے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مظاہرین اسلام آباد کب پہنچیں گے۔

حکام نے احتجاج کی تیاریوں کے تحت اسلام آباد کے اہم داخلی راستوں پر دوہری تہوں میں بڑے شپنگ کنٹینرز لگا دیے ہیں۔ اس کے باعث ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

عمران خان کی قید اور انہیں طبی سہولیات اور اہل خانہ تک رسائی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے حامیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button