
روئٹرز کے ساتھ
برٹش گرین پارٹی کی یہ قرارداد 813 کے مقابلے میں 1,022 ووٹوں سے منظور ہوئی، حالانکہ پارٹی کی کئی اہم شخصیات نے اس کی مخالفت کی تھی۔
گرین پارٹی، جس نے 2024 کے عام انتخابات میں 6 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، نے کہا کہ وہ صیہونیت کو ”نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبہ‘‘ سمجھتی ہے اور اس نے ایک بار پھر برطانیہ کی لیبر حکومت سے اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تمام تجارت ختم کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی نے ایک بیان میں کہا، ”اس قرارداد میں حق خود ارادیت کے لیے گرین پارٹی کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے اور تاریخی فلسطین کے پورے علاقے میں ایک واحد جمہوری ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘‘
صیہونیت کی تعریف اور اسرائیل میں غیر یہودیوں اور اس کے پڑوسی علاقوں کے لوگوں کے حقوق پر اس کے مضمرات ایک متنازعہ معاملہ ہیں۔ صیہونیت ہی وہ نظریاتی تحریک تھی، جس سے 20 ویں صدی میں جدید ریاست اسرائیل کے قیام کی بنیاد پڑی۔ یہودی تنظیمیں بعض اوقات اسے یہودیوں کے حق خود ارادیت کے طور پر بیان کرتی ہیں۔

برطانوی یہودی تنظیموں نے قرارداد کی مذمت کی
برطانوی یہودی تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ موومنٹ فار پروگریسیو جیوڈائزم نے کہا، ”گرین پارٹی نے یہود دشمنی کو پارٹی پالیسی بنا لیا ہے اور وہ ایک نسل پرست جماعت بن گئی ہے۔‘‘ اس تنظیم نے مزید کہا کہ بعض یہودیوں کی جانب سے قرارداد کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے دوسروں کے خلاف امتیازی سلوک کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ کی گرین پارٹی کی قرارداد ”ہولوکاسٹ کی یاد اور تحقیق سے متعلق بین الاقوامی اتحاد (آئی ایچ آر اے) کی تعریف کے مطابق واضح طور پر یہود مخالف متن ہے‘‘ کیونکہ اس میں یہودی عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کیا گیا ہے۔
گرین پارٹی کے نائب سربراہ اور قرارداد کے حامی متین محمد علی نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد اس ووٹنگ کا بنیادی پس منظر تھی۔ یہ تنازعہ 2023 میں اس فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے اسرائیل میں ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہوا تھا۔
علی نے کہا، ”یہ قرارداد صیہونیت کی واضح تعریف کرتی ہے۔ اسے نسلی قوم پرستانہ تحریک قرار دیا گیا ہے۔ اسے نسلی تطہیر اور نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔‘‘

اسرائیل کا نسلی تطہیر سے انکار
برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائیوں کو نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیتی ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی دیگر کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہیے۔
اسرائیل، جو اپنے خلاف نسلی تطہیر اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، نے اتوار کو برطانیہ کی دیگر سیاسی جماعتوں سے گرین پارٹی کی ووٹنگ کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی حکومت نے کہا، ”گرین پارٹی نے نہ صرف حماس کا سبز رنگ اپنایا ہے بلکہ اس کے نظریے کو بھی اختیار کیا ہے، یعنی مسلح جدوجہد کے ذریعے ریاست اسرائیل کا خاتمہ۔‘‘
گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی اور پارٹی کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے کہا کہ وہ ”نیتن یاہو حکومت کے سنگین جرائم کی نشاندہی جاری رکھیں گے‘‘ اور کہا کہ ”فلسطینیوں کے حقوق اور یہودی عوام کے حقوق کی حمایت میں کوئی تضاد نہیں۔‘‘



