
افغان طالبان کے وفد اور کئی دیگر ممالک کی شرکت کے ساتھ روس میں افغانستان سے متعلق مشاورت
کئی عشروں کے قبضے کے نتائج پر قابو پانے کے لیے پانچ سال کی مدت واقعی بہت تھوڑا وقت ہے۔
روس میں پیر پانچ اکتوبر کے روز افغانستان سے متعلق مشاورت کا ایک ایسا دور شروع ہو گیا، جس میں کابل میں افغان طالبان کی حکومت کے نمائندوں کا ایک وفد اور کئی دیگر ممالک کے نمائندے بھی شرکت کر رہے ہیں۔
ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روس کی میزبانی میں اس مشاورت میں افغان طالبان کے ایک وفد کے علاوہ چین، بھارت، ایران، پاکستان اور دیھر ممالک کے مندوبین بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اس موقع پر جب کابل میں طالبان انتظامیہ کے وزیر خارجہ امیر خان متقی ماسکو پہنچے، تو روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ان کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی انہیں ’’افغانستان کی نیٹو دستوں کے قبضے سے آزادی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر مبارک باد‘‘ بھی دی۔
سیرگئی لاوروف نے کہا، ’’کئی عشروں کے قبضے کے نتائج پر قابو پانے کے لیے پانچ سال کی مدت واقعی بہت تھوڑا وقت ہے۔ پھر بھی کابل میں موجودہ حکومت نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ واضح ہیں اور ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘

اس کے علاوہ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں جاصل کیں اور جس طرح منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے خلاف بھی مثبت پیش رفت دکھائی، وہ بھی قابل تعریف ہے۔
آج پیر کو شروع ہونے والی مشاورت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا، ’’امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں واشنگٹن کے اتحادیوں کی طاقت ور فوجی مشینری کو جس طرح افغان طالبان نے شکست سے دوچار کیا، وہ افغانوں کی ہمت، عسکری حوصلے اور ثابت قدمی کا ثبوت ہے۔‘‘



